ہندوارہ//فوج نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کی صورتحال میں نمایاں بہتری دیکھی جارہی ہے اور تشددکے گراف میں 50فیصد تک کمی آئی ہے۔فوج کی 15ویں کورکے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے بڈکوٹ ہندوارہ میں فوج کے قائم کردہ ایک اسکول میں منعقدہ تقریب کے موقعہ پر ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ وادی میں تشدد آمیز کارروائیوںکے تمام زوائیوں کو پرکھنے کے بعد 50 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور صورتحال میں بہت استحکام پیدا ہوا ہے۔انکا کہنا تھا کہ حالیہ ایام میں پیش آنے والے واقعات میں کچھ مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے افراد غیر مسلح سیکورٹی اہلکاروں کو ہلاک کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کو سرحد پار اور وادی میں ہی کنٹرول کیا جاتا ہے۔ 15 ویںکور سربراہ کا کہنا تھا ’’ مجھے یقین ہے کشمیرکے لوگ بے چین ہیں کیونکہ بے گناہ افراد اور سیاسی کارکنوں کو کشمیر میں امن اور ترقی کے عمل میں خلل ڈالنے کے لئے ہلاک کیا جاتا ہے،مجھے اُمید ہے کہ ایسے واقعات کو روکا جائے گا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی صورتحال بہت اچھی ہے اور اب سیکورٹی اداروں اور لوگوں کی مشترکہ کوششوں سے امن قائم ہواہے۔انہوں نے کہاکہ وادی میں 200 کے قریب عسکریت پسند سرگرم ہیں اور اس سال کے آخر تک یہ تعداد مزید کم ہوجائے گی۔لیفٹیننٹ جنرل پانڈے نے کہا کہ ہمسایہ ملک نے پچھلے کئی برسوں کے دوران یہ دعویٰ کرتا آیا ہے کہ شورش اور عسکریت پسندی کا سارا عمل مقامی ہے اور یہاں کوئی غیر ملکی جنگجو نہیں ہے، لیکن ہلاک ہونے والوں میں اب زیادہ تر غیر ملکی شامل ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرحد پار سے یہ کوشش ہورہی ہے کہ یہاں کے نوجوانوں کی ہلاکتیں ہوں تاکہ لوگ ملک کیخلاف ہوجائیں۔ میں جو بھی عسکریت پسند یہاں موجود ہیں وہ پاکستانی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو استعمال کیا جارہا ہے، ہمیں تشدد کے اس چکر کو توڑنا ہے، لیکن صرف عسکریت پسندوں کو مارنا ہی حل نہیں ہے بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مقامی بچے زندہ بچ جائیں۔ونوں ہمسایہ ممالک کے مابین جنگ بندی کے تازہ معاہدے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں پانڈے نے کہا کہ جنگ بندی اس بات کو یقینی بنانے کیلئے ہوئی ہے کہ کنٹرول لائن پر آباد لوگ سکھ و چین سے رہیں اور اسکی خواہش سرحد پار سے ہوئی ہے۔