’’میرا عظیم وطن ،میرا کشمیر ،نرم خو،حلیم اور حسین کشمیریوں کی زمین۔ دانشوروں ،فنکاروں اور دستکاروں کا خطہ،ریشم و پشم ،زعفران زاروں اور مرغزاروں کی سرزمین ،پہاڑیوں اور وادیو ں کا مسکن ،یہ جنت ِبے نظیر،جس کی پانچ ہزار سالہ پرانی تاریخ موجود ہے ،جس کی مثال شاید ہی دنیا میں کہیں ملے۔قدیم ترین زبان و تہذیب کا مرکز کشمیر ، رِشیوں،مُنیوں کا کشمیر ، شیخ العالم اور لل دید کا کشمیر ،شاکیہ منی کی پیش گوئی کا بودھ گہوارہ کشمیر ،کشیپ رشی اور پرور سین کا کشمیر ،للتا دتیہ اور سوئیہ کا کا کشمیر ،اشوک، کنشک ،کلہن، اور بڈشاہ کا کشمیر ،حبہ خاتون کا کشمیر،ارنی مال کا کشمیر ‘‘۔
یہ محترم اور متبرک الفاظ، اسی کشمیر کی خاک سے اٹھنے والی ایک غیر معمولی قلم کار خاتون ترنم ریاض کے ناول ’’برف آشنا پرندے‘‘ سے ماخوذ ہیں ۔یہ اقتباس ،کشمیر کے تئیں ترنم ریاض کی فخر آمیز عشق اور عقیدت مندی کا مظہر ہی نہیں ، اس حقیقت کا اشاریہ بھی ہے کہ ’’اٹوٹ انگ ‘‘ اور ’’شہہ رگ ‘‘ کی دو چکیوں کے بیچ پستی ہوئی کشمیر ی سائکی ، معاشرت ،سیاست اور ثقافت کے پاکیزہ منظر نامے کو لہو کے چھینٹوں سے بدنما بنانے کی کیسی کیسی کوششیں اور سازشیں نہ کی گئیں ۔اور صرف’’ برف آشنا پرندے‘‘ ہی نہیں ، کم و بیش ترنم ریاض کی ہر تحریر کسی نہ کسی زاوئے سے ان کے وطن عزیز کشمیر کو لازماً مَس کرتی نظر آتی ہے ۔
ترنم ریاض کشمیر کے معروف علاقہ ’کرن نگر ‘میں ایک معزز گھرانے میں ( ۹۔اگست ہ۱۹۶ء ) کو پیدا ہوئیں۔ اسکول اور کالج کے بعداول تو انہوں نے کشمیر یونیورسیٹی سے اردو میں ایم۔اے کیا اور پھر کشمیر یونیورسیٹی سے ہی ’’ایجوکیشن ‘‘میں ایم۔اے اور پی۔ایچ۔ڈی ۔کیا ۔ ترنم ریاض کی شادی کشمیر کے مشہور ادیب ، پروفیسر ریاض پنجابی سے ہوئی تھی ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مواقع ملنے کے باوجود ترنم ریاض نے کہیں باضابطہ ملازمت نہیں کی ۔ یہاں تک کہ جب ان کے شوہر مشہور سوشل سائنٹسٹ اور ادیب ، J.N.U کے پروفیسر ریاض پنجابی کشمیر یونیورسیٹی کے وائس چانسلر (جنوری ۲۰۰۸۔۔جون ۲۰۱۱ء ) مقرر ہوئے تو کئی شعبوں کی جانب سے آفر کے باوجود ترنم ریاض نے کو ئی عہدہ قبول کرنا منظور نہ کیا ۔ البتہ وہ کئی یونیورسیٹیوں اور باوقار تعلیمی اداروں کے ساتھ ’’وزٹنگ فیلو اور ’’گیسٹ پروفیسر ‘‘ کے بطور وابستہ رہیں ۔۲۰۱۴ء۔میںانہیں SAARC Literary Award سے نوازا گیا ۔غالباً اس سے قبل اور بعد یہ اعزاز جموں کشمیر کے کسی اور قلم کار کے حصے میں نہیں آیا ۔ ترنم ریاض تا دمِ حیات ، وزارت ثقافت (حکومت ہند ) کی ’سینئر فیلو‘ کی حیثیت سے بھی سرگرم رہیں ۔ترنم ریاض نے ہندوستان کے کئی صوبوں کے تعلیمی اور ثقافتی اداروں کے علاوہ مختلف ممالک میں ’سارک ‘ کے کئی ’لٹریری فیسٹول میں اجلاس کی صدارت کی اور اپنی شعری اور نثری تخلیقات بھی پیش کیں ۔۲۰۰۵ء میں اسلام آباد پاکستان میں منعقدہ ’’ورلڈ اردو کانفرنس ‘‘ میں انہوں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔۲۰۱۰ء میں کراچی پاکستان میں ہونے والے ’’امن کی آشا‘لٹر یری فیسٹول میں بھی ترنم ریاض نے شرکت کی ۔ ۲۰۱۱ء۔میں انہوں نے کناڈا میں ’انڈین رائٹرس فیسٹول میں لیکچر دیا اور کولمبیا یونیورسیٹی میں اپنی شعری تخلیقات سے سامعین کو مسحور کیا ۔ مرزا غالب قرۃالعین حیدر ،وارث علوی پر ان کے لیکچرس یادگار مانے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ’انسانی حقوق‘ ’تصوف ،تانیثیت ‘اور مشترکہ تہذیب کے موضوعات پر ان کے مضامین خاصی اہمیت کے حامل ہیں ۔ ترنم ریاض ایک عمدہ شاعرہ بھی ہیں اور کشمیر کی معاصر شاعرات رخسانہ جبیں اور شبنم عشائی کی طرح وہ بھی ملکی اور بین القوامی مشاعروں میں مدعو کی جاتی رہی ہیں۔ترنم ریاض کو ہندوستان ،پاکستان اور کناڈا کے علاوہ ’’قطر‘‘ اور ریاض ( سعودی عرب ) میں منعقد ہونے والے والے مشاعروں میں شرکت کا امتیاز بھی حاصل ہے ۔
ترنم ریاض کے ادبی اعمال نامے میں تقریباً بیس تصنیفات شامل ہیں ۔ ترنم ریا ض نے دو ناول لکھے ہیں ۔پہلا ناول ’مورتی ‘ کے نام سے ۲۰۰۴ء میں شایع ہوا ۔ جس میں ایک حساس (مجسمہ ساز )عورت کی نفسیاتی کشمکش اور شوہر کے رویہ کے سبب ’انا ‘‘کی شکستگی کو بڑی سادگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ۔ اگر ’’مورتی‘ کو ابتدائی ’’تانیثی ناولو ں میں شمار کیا جائے تو غلط نہیں ہوگا ۔ترنم ریاض کا دوسرا ناول ’’برف آشنا پرندے ‘‘ پہلی بار ۲۰۰۹ء میں شائع ہوا اور اب تک اس ناول کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ ترنم ریاض کے مختصر ناولوں Novellas()کا ایک مجموعہ ۲۰۰۵ء میں ’’فریبِ خطائے گُل کے نام سے شائع ہوا ۔ اس کے علاوہ انکے افسانوں کے کئی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں ،۱۔یہ تنگ زمیں ( ۹۹۸)۱۔۲۔ ابابیلیں لوٹ آئیں گی( ۲۰۰۲ء) ۳۔ یمبرزل (۲۰۰۴ء) ۴۔مرا رخت ِ سفر (۲۰۰۸ء ) لیکن ترنم ریاض فکشن نگار ہونے کے ساتھ ساتھ معقول شاعرہ بھی تھیں ، کشمیر کی شاعرات رُخسانہ جبیں، شبنم عشائی اور شفیقہ پروین کی طرح ترنم ریاض کی شاعری بھی سنجیدہ حلقوں میں ذوق وشوق سے پڑھی جاتی ہے ۔ ترنم ریاض کے شعری مجموعوں کے نام اس طرح ہیں ۔۱ پرانی کتابوں کی خوشبو۔۲۔بھادوں کے چاند تلے اور ۳’’ زیر سبز ہ محوخوابِ ‘‘ ۔ ان سب کے علاوہ ترنم ریاض کے مضامین کا ایک مجموعہ بھی ’’ اجنبی جزیروں میں ‘‘کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے ۔ ترنم ریاض نے ساہتیہ اکیڈمی ، منسٹری آف کلچر اور ادبی سیمیناروں کے لئے تنقیدی مضامین بھی لکھتی رہی ہیں ۔ان مضامین کو انہوں نے ’’ چشمہ نقشِ قدم ‘‘کے نام سے ترتیب دیا تھا ۔لیکن بحیثیت مجموعی میرے خیال میں ترنم ریاض کو ان کے شاہکار کشمیر مرکز ناول’’ برف آشنا پرندے ‘‘ کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔
’برف آشنا پرندے ،کشمیری سائکی ، سماج اور ثقافت کا رزمیہ ہے (انہیں دنوں برف آشنا پرندے ‘پر راقم نے تیس سے زائد صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی مقالہ لکھا تھا جو ہندو پاک کے کئی رسلوں میں شائع ہوا )۔ دراصل اکیسویں صدی میں یوں تو ’’نا دید‘‘ (جوگندر پال )چاندنی بیگم (قرۃالعین حیدر ) مکان (پیغام آفاقی ) مسلمان (مشرف عالم ذوقی ) اور دویہ بانی ( غضنفر ) اور ’برف آشنا پرندے کے بعد یا ساتھ ساتھ جو کئی شاہکار ناول منظر عام پر آئے مثلاً ’’ اماوس میں خواب ‘‘( حسین الحق)جہاں تیرا ہے یا میرا (عبدالصمد ) ’فائر ایریا (الیاس احمد گدی ) عندلیب بر شاخ شب (شائستہ ٖ فاخری ) کہانی کوئی سناو متاشا (صادقہ نواب سحر ) خواب سراب (انیس اشفاق )ندی(شموئل احمد ) ’بُلہا کیہ جاناناں میں کون ‘(ذکیہ مشہدی ) اور شبیر احمد کے ’’ہجور آما‘‘ سے لے کر محسن خان کے ’’ اللہ میاں کا کارخانہ ‘‘ تک ایک سے بڑھ کر ایک عمدہ ناول سامنے آئے لیکن ان میں ترنم ریاض کے ناول ’’بر ف آشنا پرندے ‘‘کا انفراد و امتیاز یہ ہے کہ اس ناول میں پہلی بار سِکھ دور سے لے کر ڈوگرہ دور تک کے جبر اور صبر کے واقعات کمال فنی و جمالیاتی در و بست کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں ۔ تاریخی ،سیاسی ،سماجی اور ثقافتی نشیب و فراز اور انتشار و بحران نے کشمیری عوام کی نفسیات ،جذبات اور محسوسات پر کس قدر منفی اثرات مرتب کئے ہیں ہیں ،ترنم ریاض نے اس کی تصویر کشی ناول کے کرداروں ،شیبا ؔ پروفیسر دانش، پروفیسر شہاب، نجم خان ، سلیم میاں ،ثریا بیگم،سیمیں ، خدا بخش ، سکینہ بیگم، اور باب صاحب، ۔وغیر ہ کے حوالے سے بڑی خوبی سے کی ہے ۔ترنم ریاض نے کشمیر کے مختلف طبقوں کے ان کرداروں کے شعور اور لاشعور میں اتر کر ،لا محدود امکانات کے ساتھ جس طرح ان کا Impersonal Narration کیا ہے اس کی بنا پر برف آشنا پرندے کی موضوعی پرواز کشمیر سے شروع تو ہوتی ہے لیکن اس کا آسما ن آفاقی ہے ۔اس ناول میں ’بیانیہ ‘کا ایسا منفرد روپ ملتا ہے جس میں کردار کی خارجی زندگی سے کہیں زیادہ داخلی زندگی کی وضاحت کی گئی ہے ۔ ترنم ریاض نے کشمیر اور اہل کشمیر کے تئیں استحصالی قوتوں کے Colonial Attitude کے خلاف اہل کشمیر کی احتجاجی سوچ کا اظہار اس طرح کیا ہے۔
’’عجب محرومی تھی اس وادی کی معصومیت اور سادگی کی ، کہ کوئی دوسرے خطوں سے اور کوئی سمندر پار سے آکراس کی قسمت کا مالک ہو جاتا تھا ۔اٖغانوں اور سکھوں نے اگر کوئی کسر چھوڑی تھی تو تو وہ ڈوگرہ راج میں پوری ہو گئی ‘‘ (برف آشنا پرندے ۔ص ۲۵۹)
کشمیریوں پر جو مظالم ڈھائے گئے ،ویسے مظالم ’ابو غریب ‘ کے عقوبت خانوں میں امریکیوں نے عراقیوں پر بھی نہ ڈھائے ہوںگے ۔اس کا اندازہ ’’گِلگِت بیگار ‘‘کے حوالے سے درج ذیل اقتباس سے لگایا جا سکتا ہے ۔
’’۔۔۔۔گلگت ‘ ریاست جموں کشمیر کی آخری سرحد تھا ۔۔۔۔جہاں بد نصیب کشمیریوں کو (بیگار کے لئے )سالم و ثابت بھیجا جاتا تھا ،اور اکثر ان کے جسم کا ایک ٹکڑا یعنی’ سر‘واپس آتا تھا ،بہت سے سر،لاریوں میں ٹُھنسے ہوئے بے شمار سر ۔۔۔۔۔بچ گئے افراد کی لاشوں کی بجائے اُن کے مجبور و مظلوم وارثوں کے حوالے ان کے عزیزوں کے ’سر ‘ کئے جاتے تھے کہ کوئی کیوں غلام قوم کے لواحقین کی سالِم لاشیں ان کے حوالے کرتا اور وہ انہیںصحیح طرح سپرد خاک کرکے اپنے مجروح سینوں پر جُدائی کی سِل رکھ لیتے۔(ص۔ ۲۶۱)
برف آشنا پرندے میں ترنم نے کشمیر کی تاریخ نہیں دُہرائی ہے بلکہ تاریخی حقائق کی تہوں کو کھولا ہے اور جو کچھ ہاتھ آیا ہے انہیں گرفت میں لے کر بڑی مہارت کے ساتھ ناول کے اصل موضوع کی طرف لوٹ آئی ہیں ۔ لیکن ناول کے بیانیہ کو آگے بڑھانے اور اپنے نقطہ نظر کو مستحکم کرنے کی غرض سے کشمیر کی دلدوز تاریخی جہات کو بھی مزید واضح بھی کرتی گئی ہیں ۔
’’سن انیس سو اکتیس سے لے کر سن چھیالیس تک کشمیر کی عوامی تحریک نہ صرف برِصغیر میں بلکہ عالمی سطح پر بھی تسلیم کر لی گئی تھی ‘‘۔(ص۔۲۶۰)
آزادی سے پہلے ،پُرکشش نعروں اور وعدوں سے پوری ریاست گونج رہی تھی ، سرداری عوام کا حق ہے ۔یہ ملک ہمارا ہے ،اس کا فیصلہ ہم کریں گے ۔‘‘شیخ محمد عبداللہ۔ص ۔۲۶۹۔
’’کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں‘‘۔ جواہر لعل نہرو ۔ص ۔۲۷۰۔
’’اب جب کہ پورا برِ صغیر گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوب گیا ہے ،مجھے کشمیر سے روشنی کی کرن نظر آتی ہے۔مہاتما گاندھی ۔ص ۔۲۷۲۔
لیکن آزادی اور تقسیم ملک کے انہیں دنوں میں ’’ جموں میں مسلمانوں پر قہر ٹوٹ رہا تھا ۔ٹیلی گراف لندن کا نمائندہ اپنے لندن دفتر کو رپورٹ کر رہا تھا ،
’’صوبہ جموں میں ایک لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو تہہِ تیغ کیا گیا ہے ۔اس سے دوگنی تعداد کو جموں وکشمیر کے پاکستان کنٹرول والے علاقے میں دھکیل دیا گیا ۔ صوبہ جموں جو ایک مسلم اکثریت والا صوبہ تھا ۔اب ایک مسلم اقلیتی صوبے میں تبدیل ہو گیا تھا ۔ کشمیری سائکی پر یہ پہلی کاری ضرب تھی ۔(ص۔ ۲۷۲)
’’ یہ (کشمیر )واحد مسلم اکثریت والی ریاست تھی جس نے ا پنی مرضی سے وفاق ہند میں شمولیت کی تھی۔اسے مخصوص درجہ حاصل تھا(ص۔۲۷۴)
ترنم ریاض اردو اور ہندی ادبیات کے علاوہ مغربی ادبیات کے بھی جدید ترین تخلیقی رویوں ،رحجانات اور نظریات( تھیوریز) کا گہرا شعور رکھتی تھیں۔اسی لئے ان کی تخلیقات میں ،خواہ وہ شاعری ہو یا افسانی ،ناول ہو یا سماجی یا تنقیدی مضامیں ،ہر جگہ ان کی فکریات،اظہار و بیان اور اصناف کے فنی و جمالیاتی تقاضوں کے برتائو میں اجتہاد اور آزادہ روی کے عناصر کا غلبہ نظر آتا ہے ۔دراصل ترنم ریاض کے ادبی سفر کا زمانہ ، ۱۹۸۰ء۔ کے آس پاس سے شروع ہوتا ہے۔یہ وہ زمانہ ہے جب اردو میں سوسئیر ؔ کے ’نظریہ لسان ،اور رولاں بارتھ اور ڈریڈا کے ساختیات،پس ساختیات اور ردِ تشکیل وغیرہنظریات کے زیر اثر جدیدیت کا رحجان مجہول اور ’مابعد جدید تصور ادب مضبوط و مستحکم ہورہی تھی ۔ عالمی سطح پر تخلیقی اور تنقیدی ادب میں ڈاخلی اور خارضی ہر اعتبار سے اجتہاد اور تجربہ پسندی کا رحجان عام ہو رہا تھا ۔خاص طور پر گیبریل گارشیا مارکیز کے ناول’’تنہائی کے سو سال ‘‘ One Hundred Years of Solitude کی مقبولیت ،اور ’روسی ہئیت پسندوں جیکوبسن اور شکلووسکی کے علاوہ جولیا کرسٹیوا وغیرہ کے ،’’ادب میں زبان کی کار کردگی‘‘ اور’’ ادب کی ادبیت ‘‘ Literaryness of Literature جیسے نظریات ( تھیوریز ) کی مقبولیت کے بعد عالمی سطح پر (تخلیقی اور تنقیدی )ادب میں تعمیری اور انسان دوست بصیرت مندی VISION کا جو رحجان عام کیا ، اردو میں اس کی عمدہ مثالیں قرۃالعین حیدر اور لالی چودھری کے بعد ترنم ریاض کے یہاں بھی ملتی ہیں ۔اگر برف آشنا پرنے اور ترنم ریاض کی دیگر تخلیقات کی بھی سنجیدہ قرات کی جائے تو ادب عالیہ سے متعلق یہ بات درست معلوم ہوگی کہ کسی بھی فن کار کے فن کے انفراد اور اعتبار کا ایک جواز یہ بھی ہوتا ہے کہ جس معاشرہ اور ثقافت کے حوالے سے اس فن کار کا فن پارہ ( ناول ،افسانہ، نظم یا شعر ) لکھا گیا ہے ،اس معاشرہ کی اور ثقافت کی ’تعمیر نو‘ کے امکانات بھی اس فن پارے میں موجود ہوں ۔ ترنم ریاض کا فن (ناول، افسانے اور دیگر ادبی تحریریں) کشمیر کی ’تعمیر نو‘کے امکانات سے قارئین کو رُو برو کرنے کی کامیاب کوشش سے ہی عبارت ہے ۔
(مضمون نگار سابق صدر شعبہ اردو ،کشمیر یونیورسیٹی ہیں)
رابطہ۔9419010472