گاندربل//ایک اچھااسکالرہمیشہ اُس کے تحقیقی معیار سے پہچانا جاتا ہے نہ کہ اس کے تحقیقی مقالے میں شامل اعدادوشمار اور معلومات کی مقدار سے۔اس بات کااظہار سینٹرل یونیورسٹی کشمیر کے وائس چانسلر پروفیسرفاروق احمد شاہ نے یونیورسٹی کے شعبہ انفارمیشن ریسورس سیل اورڈائریکٹرآف ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے ریسرچ اینڈ پرموشن سیل کے زیراہتمام ’’ریسرچ اینڈپبلی کیشن اتھیکس‘‘موضوع پر دوروزہ ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وائس چانسلر نے کہا کہ اسکالرکوہمیشہ پوری ایمانداری،دیانتداری اور سچائی کے ساتھ تحقیق کرنی چاہیے،جیساکہ ایسی کئی مثالیں موجود ہیںجن میں دانشوروں کومبینہ بددیانتی کاسہارالینے کی بھاری قیمت چکانی پڑی۔وائس چانسلر نے کہا کہ یونیورسٹی مستقبل میں اس نوعیت کے مزیدورکشاپوں کاانعقاد کرے گی تاکہ اسکالرزکی مہارتوںاورمعلومات کی صلاحیتوں میں مزیدنکھار لایاجائے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے پروگرام اُبھرتے ہوئے اسکالرز کے درمیان مضبوط تحقیقی ذہانت پیدا کرنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شعبہ سکول آف لائف سائنسز کے سربراہ پروفیسر محمد یوسف نے ایسے ورکشاپوں کے انعقاد پر ڈائریکٹوریٹ آف ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شعبے میں اسکالرز کی جانب سے کی جانے والی تحقیق لازمی طور پر معیار زندگی کو بہتر بنائے گی اور موجودہ علمی بنیاد میں اضافہ کرے گی۔سنٹرل یونیورسٹی کشمیر کے فائنانس آفیسرپروفیسر فیاض اے نیکہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ تحقیق علم حاصل کرنے کے لئے تخلیق کرنے اور اسے پھیلانا ایک اہم جز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعدادوشمار اکٹھا کرنے میں شفافیت اور ایمانداری تحقیق کی بنیاد ہے اور اسکالرز سے کہا کہ وہ تحقیقی اخلاقیات پر مکمل عمل کریں۔انہوں نے تنقیدی مطالعہ، اخلاقیات کو برقرار رکھنے اور کامیاب تحقیق کے لیے عزم کی اہمیت پر بھی زور دیا۔