محمد ہاشم القاسمی
نفع بخش تجارت کے لئے کچھ اصول بیان کیے گئے ہیں، اگر ہم ان اصولوں کی روشنی میں تجارت کریں تو نقصان کم اور منافع زیادہ حاصل کر سکتے ہیں۔
چونکہ تجارت سے نہ صرف آپ اپنے معاشی حالات بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ ملک کی معاشی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں، آپ جیسے لاکھوں نوجوان تجارت کر کے اس ملک میں معاشی انقلاب کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
اگر آپ کا عذر یہ ہے کہ مجھے تجارت کا کوئی تجربہ نہیں، اگر میری رقم ڈوب گئی تو پھر کیا ہو گا؟ اگر بینک سے قرض لیتا ہوں اور تجارت نہ چل سکی تو ساری عمر قرضہ اُتارتا رہوں گا؟ پھر یہ بھی نہیں پتہ کہ کون سی تجارت کرنی چاہئے ، کس میں زیادہ منافع ہوگا اور جتنی رقم میرے پاس ہے اس میں کون سی تجارت ہو سکتی ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خدشات اس شخص کے مانند ہے جو کسی مقابلے میں شامل ہونے سے پہلے ہی یہ سوچنے لگے کہ میں ہار جاؤں گا۔ اگر سکندر اعظم دنیا فتح کرنے سے پہلے یہی سوچتا کہ اُسے شکست ہو جائے گی تو کبھی دنیا کا عظیم فاتح نہ بنتا، مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر ہندوستان آنے سے پہلے یہ سوچ لیتا کہ اُسے شکست ہو گی تو آج ہندوستان کی تاریخ کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا، سٹیفن ہاکنگ اپنی معذوری کو حرز جاں بنالیتا تو اس صدی کا سب سے بڑا سائنس دان نہ بن پاتا، سب سے پہلے اپنے اوپر یقین کرنا سیکھیں اور یہ حوصلہ رکھیں کہ ہاں میں کر سکتا ہوں، میں چاہوں تو دنیا بھی مسخر کر سکتا ہوں۔ علامہ اقبال کا فلسفہ خودی اسی یقین کی طاقت اور اپنے اوپر اعتماد کا نام ہے۔ ؎
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
کم و بیش ہر آدمی خطرے کے امکانات سے ڈرتا اور انھیں کم کرنا چاہتا ہے، تجارت کے تناظر میں اگر ہم بات کریں تو اس میں بھی رقم ضائع ہونے کا خطرہ کم سے کم کر سکتے ہیں۔
اس کے لئے پہلا سیدھا سادہ فارمولا تو یہ ہے کہ آپ کے پاس جتنی رقم ہے اُس کے ایک تہائی حصے سے تجارت شروع کریں، یعنی ایک انگریزی محاورے کے مطابق ’’اپنے سارے انڈے ایک ہی ٹوکری میں کبھی مت ڈالیں ۔‘‘
دوسرا فارمولا یہ کہ اگر تجارت کے لیے پیسے کم ہیں یا آپ نقصان سے ڈرتے ہیں تو اپنے کسی بااعتبار دوست یا عزیز رشتے دار کے ساتھ شراکت کر لیجیے۔ اگر آپ کے پاس بالکل معمولی رقم ہے، لیکن آئیڈیا ٹھوس ہے، تو اپنے کسی مالی طور پر مستحکم رشتے دار یا دوست سے بات کیجیے کہ یہ آئیڈیا میرا، محنت میری، پونجی آپ کی اور منافع ہم آپس میں خاص شرح سے بانٹ لیں گے جو آپس میں طے کیا جا سکتا ہے۔ اب تو آئی ٹی سے متعلقہ تجارت مثلاً آن لائن دکان، سافٹ وئیر، موبائل ایپ، آن لائن پبلشنگ یا کسی بھی طرح کی آن لائن خدمات کے لیے سرمائے کا حصول آسان ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کی وزارت اسمال اسکیل انڈسٹریز کے تحت کچھ منصوبے ہیں۔ اسٹارٹ اپ انڈیا پروگرام بھی نئے کاروباروں کو تعاون دینے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ اگر آپ چھوٹی سطح کا کاروبار کرنے کے لیے سرمایہ چاہتے ہیں ، تو اس کے لیےوزیر اعظم مدرا یوجنا اور متعدد فنانسینگ ادارے موجود ہیں۔ اہم بات یہ کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی تجارت کے لیے درکار سرمائے کی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے اب ہندوستان میں بھی کراؤڈ فنڈنگ اور اینجل فنڈنگ جیسی عالمی سہولیات میسر ہیں۔ملک میں متعدد اینجل نیٹ ورکس، وینچر کیپیٹل انویسٹرز اور انکیوبیٹرز موجود ہیں جو تجارت میں سرمایہ لگانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ آپ کا آئیڈیا شاندار ہو اور انہیں پسند آجائے۔ اس سرمائے کے حصول کے طریقوں اور متعلقہ کمپنیوں کے بارے میں تفصیلات حاصل کرنا کوئی مشکل نہیں ہے۔
تیسرا فارمولا تجارت کا تجربہ نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح آپ امتحان میں کامیابی کے لئے تیاری کرتے ہیں، تجارت میں کامیاب ہونے کے لیے بھی کچھ تیاری کرنی پڑے گی تاکہ ناکامی کا امکان کم سے کم ہو اور رقم بھی ضائع نہ ہو۔
تجارت کی تیاری سے مراد یہ ہے کہ جس طرح کسی بھی مقابلے میں آپ کے حریف ہوتے ہیں، اسی طرح تجارت کی دنیا میں بھی حریف ملتے ہیں۔ لہٰذا مقابلے کے لیے متعلقہ تجارت کے معیار اور مصنوعات کی خصوصیات پر مکمل گرفت، بازار کے داموں سے آگاہی اور تجارت میں منافع کی صلاحیت جانچنے کے لیے اس کی فزیبلٹی (feasibility) کرنے کو تیاری کہا جاتا ہے۔
ممکن ہو تو اسے شروع کرنے سے پہلے تین چار مہینے کسی متعلقہ فرم میں انٹرن شپ کر لیں یعنی تھوڑا عملی کام سیکھ لیا جائے تاکہ نقصان کا امکان کم ہو سکے۔ تاجر خاندانوں میں اب بھی یہی رواج ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پہلے ملازمین کے ساتھ بٹھا کر کام سکھاتے ہیں، پھر کرسی پر بٹھاتے ہیں۔
تجارت کی ہر شکل مثلاً امپورٹ، ایکسپورٹ، آن لائن کاروبار وغیرہ رقم کمانے کے لیے کیا جاتا ہے تا کہ اپنا معیار زندگی بہتر بنائے اور خوشحال مستقبل کی بنیاد رکھ سکے۔ تجارت میں آپ کچھ نہ کچھ بیچتے ہیں ،چاہے وہ کوئی خدمات ہوں مثلاً اسکول، کمپیوٹر، کالج، ڈاکٹر اور وکیل کی خدمات، کوئی تیار شدہ مال ہو یا غیر تیار شدہ مال یا چاہے کوئی تحریری یا آن لائن مال جیسے میگزین وغیرہ۔ اس میں سے خرچہ نکال کر جو بچے، وہ آپ کا منافع ہوتا ہے۔
دنیا میں اس وقت سرمایہ داری نظام مقبول ہے۔ سرمایہ داری نظام میں ہر چیز بکتی ہے۔ اس وقت تم نے جو جوتے پہنے ہوئے ہیں، ان سے لے کر آپ کے کپڑوں اور کھانے تک ہم مختلف اشیا خریدتے یعنی بیچنے والے کو پیسے دیتے ہیں۔ اسی طرح ہر چیز یا آئٹم کی اپنی سپلائی چین ہوتی ہے، سپلائی چین کو ہم سادہ زبان میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی چیز کے بننے یا زمین سے نکلنے سے لے کر صارف کے ہاتھوں میں پہنچنے کا سفر، مثال کے طور پر آپ نے کھانسی کا سیرپ خریدا، یورپ یا چین کی کسی کمپنی نے اس کا را مٹیریل یا خام مال بنایا۔ ہندوستان کے کسی امپورٹر نے اسے باہر سے منگوایا اور مقامی فارما کمپنی کو بیچا۔ فارما کمپنی نے اسے کھانسی کی سیرپ میں تبدیل کر کے ڈسٹری بیوٹر کو بیچا۔ ڈسٹری بیوٹر نے سیرپ فارمیسی والے کو بیچا۔ فارمیسی والے سے آخر وہ آپ تک پہنچ گیا۔
اس سارے عمل میں مینوفیکچرر، امپورٹر، ہول سیلر، ڈسٹری بیوٹر، ریٹیلریا فارمیسی، ہر ایک نے اپنا منافع رکھا اور دوا کو آگے بیچا۔ اسی طرح ایک کھانسی کی دوائی کے ساتھ کئی کاروبار جڑے ہیں۔ اس بوتل پہ جو لیبل چپکا ہے، وہ اس کے مینوفیکچرر نے کہیں اور سے پرنٹ کروایا۔ شیشے کی بوتل کہیں اور سے لی اور اس کا ڈھکن کہیں اور سے خریدا۔ جس کارٹن میں یہ پیک ہو کے ڈسٹری بیوٹر اور فارمیسی کے پاس گئی، وہ اس نے کہیں اور سے خریدا ہو گا۔ سیرپ میں جو مرکبات استعمال ہوئے مثلاً چینی وغیرہ وہ اس نے کہیں اور سے خریدی ہو گی۔ اس طرح کھانسی کی دوائی کے ایک برانڈ سے کم ازکم دس طرح کے کاروبار چل رہے ہیں۔
اب اس سپلائی چین کے کسی بھی حصے میں داخل ہو کر آپ کاروبار شروع کر سکتے ہیں ۔ یہی حساب باقی تمام تجارتی شعبوں کا بھی ہے۔ اب یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ اس سپلائی چین کے کس حصے میں داخل ہو کر امپورٹر، ایکسپورٹر بننا ہے، ہول سیلر یا رِٹیلر یعنی دکان بنانی ہے۔ ریٹیل میں آپ آن لائن شاپ یعنی دکان بھی بنا سکتے ہیں جو اس وقت بشمول ہندوستان دنیا میں سب سے زیادہ پھیلنے والا رجحان ہے۔ اس کے علاوہ خدمات کا شعبہ بھی آپ کے لیے کھلا ہے جس میں آپ اکیڈمی سے لے کر کمپیوٹر کالج اور اسکول تک بنا سکتے ہیں ۔ پھر جدید رجحانات میں ڈے کیئر سنٹرز شامل ہیں۔
کون سی تجارت شروع کرنا چاہیے یا کون سی آپ کے لیے بہتر رہے گی؟ اس کا فیصلہ آپ کو درج ذیل آٹھ عوامل کا سائنسی اور اعداد و شمار کی بنیاد پر تجزیہ کرتے ہوئے کرنا چاہیے۔ (1) ذاتی دلچسپی۔ (2) منافع کی شرح(3)کل درکار سرمایہ کاری(4) کاروبار یا مصنوعہ کی مانگ(5) کیش فلو (پیسے کا بہاؤ ) یعنی جن کو آپ نے سامان بیچنا ہے ان کے ساتھ کام اُدھار پر ہے یا نقد؟ اگر اُدھار پرہے، تو کتنے دن کا اور پیچھے سے یعنی جن سے آپ نے سامان خریدنا ہے، ان کے ساتھ آپ کا کام اُدھار پر ہے یا کیش اور اگر اُدھار پر ہے، تو کتنے دن کا اُدھار ہے اور رقم ٹوٹ کر یعنی قسطوں میں توواپس نہیں ملتی (6)مارکیٹ میں مدمقابل کتنے ہیں(7)آنے والے زمانے میں رجحان کس چیز کا بڑھ رہا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کا کاروبار آنے والے وقت میں لوگوں کے بدلتے رجحان کی وجہ سے اپنی اہمیت کھو بیٹھے (8) متعلقہ کاروبار کا تجربہ۔
انہی میں سے دلچسپی اور تجربے کا عنصر نکال کر باقی عناصر کا اعداد و شمار کی بنیاد پر سائنسی تجزیہ کاروبار کی فزیبلٹی رپورٹ کہلاتا ہے۔ بلکہ اگر ہم فزیبلٹی کی کتابی تعریف سے باہر نکل کر بات کریں، تو یہ دونوں عناصر بھی فزیبلٹی کی تعریف میں شامل ہیں کیونکہ تجارت کی کامیابی میں اعدادوشمار کے علاوہ انسانی حوصلہ، تجارت چلانے کی لگن، تجربہ اوراس سے سیکھے گئے سبق یہ سب انسانی رویے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔(مضمون جاری ہے بقیہ اگلی بدھوار کو ملاخطہ کیجئے)
(رابطہ۔ 9933598528 )
[email protected]>