گول//گول رام بن شاہراہ سنگلدان علاقہ سے صرف پانچ کلو میٹر کی دوری پر واقعی ایک مشہور چشمہ جسے تتا پانی کے نام سے جانا جاتا ہے جہاں پر ریاست و بیرو ن ریاست سے ہزاروں ، لاکھوں لوگ اس غرض سے آتے ہیں کہ یہاں پر لوگ اس چشمے میں نہانے سے مختلف بیماریوں بالخصوص ریح ، جوڑوں کا درد، معدے کے درد وغیرہ بیماریوں سے چھٹکارا ملتا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے جہاں اس طرح کا قدرتی چشمہ ہو اور اللہ کی اس نعمت کو دیکھنے کے لئے کوئی نہیں ہے ۔ اگر چہ اس ٹرسٹ کا دیکھ بھال تحصیلدار گول کی نگرانی میں ہوتی ہے لیکن یہاں پر انتظام نا کے برابر ہے جہاں غیر قانونی تجاوزات نے یہاں پر ایک ہڑبونگ مچا کر رکھ دی وہیں دوسری جانب گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور بیت الخلائوں کی حالت نہایت ہی ابتر ہے ۔وہیں دوسری جانب یہاں پر دکانوں میں ریٹ کا کوئی اصول نہیں ہے ، دوگنی رقم پر چیزیں ملتی ہیں ۔ سنگلدان کے ایک سماجی شخص محمد شفیع بٹ نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ پی ڈبلیو ڈی اور بلاک کی جانب سے کروڑوں روپے لگانے کے دعوے کئے جا رہے ہیں اور تتا پانی کو سیاحتی نقشہ پر لانے کے چرچے کئے جا رہے ہیں لیکن اس جگہ کی حالت کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ یہ دونوں محکمے اپنی جیبوں کو گرم کرتے ہیں اور خزانہ عامرہ کوچونا لگانے میں مصروف ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹرسٹ کا چیئر مین ڈی سی رام بن ہوتا ہے لیکن انہیں اس قدرتی چشمے کی حالت کو دیکھنے کے لئے خود یہاں آنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ جو عمارتیں رہنے کے لئے بنائی گئی ہیں اُن میں مال مویشی رہتے ہیں اور محکمہ دیہی ترقی کی جانب سے کام لگایا گیا ہے جو نہایت ہی ابتر ہے اور اس میں غیر معیاری میٹریل کا بھی استعمال ہو رہا ہے ۔ آج کل سیزن چل رہا ہے لیکن جوکام محکمہ دیہی ترقی نے کیا ہے وہ ادھورا کام ہے اور خزانہ عامرہ سے رقوم نکال لی گئی ہے ۔محمد شفیع کا کہنا ہے کہ یہاں پر ایک شخص کو صفائی کے لئے تعینات کر رکھا تھا لیکن وہ کہتا ہے کہ مجھے ایک سال سے تنخواہ نہیں ملی ہے ۔ اس طرح سے یہ قدرتی چشمہ بے یارو مدد گارو چھوڑ کر رکھا ہے ۔ کشمیر عظمیٰ نے جب تتا پانی ٹرسٹ کے چیئرمین تحصیلدار گول سے بات کی تو اُن کا کہنا ہے کہ جو صفائی کے لئے وہاں پر تعینات کر رکھا ہے وہ محکمہ تعمیرات عامہ کی جانب سے رکھا گیا ہے اور جب سیزن شروع ہوتا ہے وہ یہاں پر ٹرسٹ کی جانب سے صفائی کے لئے مزید دو لوگوں کو کام پرلگاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں محکمہ تعمیرات عامہ کے اے ای ای سے بھی بات کریں گے اور باقی صفائی و دوسرے مسائل بارے بھی انہوں نے بہتر کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ اس قدرتی نعمت کی طرف توجہ دے اور یہاں پر جن جن محکموں نے لاکھوں کروڑوں روپے تعمیرات کے نام پر خزانہ عامہ سے نکالا ہے وہ کہاں پر لگایا ہے اُن سے حساب لیا جائے وہیں ٹرسٹ کو یہاں کا ذمہ دار ہے تو اگر ٹرسٹ کے پاس یہاں کا چندہ جاتا ہے تو اس کو ہر سال اس کا خرچہ اور بقایا کی لسٹ اجرا کرنی چاہئے ۔اور یہاں پر باہر سے آنے والے لوگوں کے لئے بہتر سہولیت دستیاب رکھنی چاہئے تا کہ آئندہ بھی لوگ یہاں آنے کے لئے مجبور ہو جائیں گے ورنہ جو ایک بار آتا ہے وہ یہاں پر عدم سہولیات اور گندگی کی وجہ سے کان پکڑتا ہے کہ آئندہ یہاں نہیں آئیں گے لیکن مجبور ہیں ۔ اس طرح کی باتیں تتا پانی پر آنے والے بہت سارے لوگوں نے کیا جو وادی کشمیر ، بانہال وغیرہ جگہوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔