رمیش کیسر
نوشہرہ//نوشہرہ علاقے میں جمعرات کی بعد دوپہر اچانک ہونے والی تیز بارش نے کسانوں کی گندم کی فصل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ موسم کی اس اچانک تبدیلی نے جہاں عام زندگی کو متاثر کیا، وہیں کسانوں کے لیے ایک بڑی پریشانی کھڑی کر دی ہے۔علاقے میں دوپہر کے وقت اچانک بادل چھا گئے اور تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش شروع ہو گئی، جس نے کھیتوں میں کٹی ہوئی گندم کو بری طرح متاثر کیا۔ کسانوں کے مطابق انہوں نے بڑی محنت اور اخراجات کے بعد فصل تیار کی تھی اور کٹائی کا عمل بھی مکمل ہو چکا تھا، مگر بے وقت بارش نے ان کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا۔کھیتوں میں جگہ جگہ گندم کے ڈھیر بارش سے بھیگ کر خراب ہو چکے ہیں، جس کے باعث دانوں کے ضائع ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ بھیگی ہوئی گندم نہ صرف معیار میں خراب ہو جاتی ہے بلکہ اس کی مارکیٹ ویلیو بھی کم ہو جاتی ہے، جس سے انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔مقامی کسانوں نے بتایا کہ اس وقت فصل کو محفوظ کرنے کے لیے کوئی خاطر خواہ انتظامات موجود نہیں تھے، جس کی وجہ سے نقصان کی شدت میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ کسانوں کو فوری طور پر معاوضہ فراہم کیا جائے تاکہ وہ اس نقصان سے کسی حد تک سنبھل سکیں۔دوسری جانب محکمہ موسمیات نے آئندہ دنوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جس سے کسانوں میں مزید تشویش پائی جا رہی ہے۔ اگر بارشوں کا سلسلہ جاری رہا تو باقی ماندہ فصل کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں کسانوں کو چاہیے کہ وہ فصل کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوشش کریں اور ممکنہ حد تک اسے نمی سے بچائیں۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اچانک موسمی تبدیلیوں کے باعث نقصان سے مکمل طور پر بچنا مشکل ہوتا ہے۔مجموعی طور پر، نوشہرہ میں ہونے والی اس بے موسم بارش نے کسانوں کی معیشت کو جھٹکا دیا ہے اور علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کسان اب حکومتی امداد اور بہتر موسمی حالات کے منتظر ہیں تاکہ وہ اپنے نقصانات کا ازالہ کر سکیں۔