سرینگر // چین نے دعوی کیا ہے کہ ایک بھارتی ڈرون اس کی ہوائی سرحد میں دراندازی کرنے کے بعد واپس اپنے علاقے میں جاکر تباہ ہو گیا۔ ویسٹرن تھیٹرکاامبیٹ بیورو کے ڈپٹی ڈائرکٹر ژانگ شوئی لی نے کہا کہ یہ حالیہ دنوں کا واقعہ ہے۔ انہوں نے تاہم واقعہ کے اصل مقام کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی۔ چین کی سرکاری نیوز ایجنسی ژنہوا نے مسٹر شوئی لی کے حوالہ سے کہا کہ ہندوستان نے چین کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے۔ ہمالیائی سطح مرتفع کے ایک علاقہ پر دونوں ممالک کے درمیان اس سال موسم گرما میں تنازعہ ابھر کر سامنے آیا تھا۔گزشتہ جون میں ہندوستان، چین اور بھوٹان کی سرحد پر واقع ڈو?لام / ڈوگلانگ سطح مرتفع تک چین کی جانب سے سڑک کی تعمیر کی ہندوستان نے سخت مخالفت کی تھی۔اس علاقے پر بھوٹان کے قبضے کا ہندوستان حمایت کرتا ہے جبکہ چین بھی اس کا مدمقابل ہے۔ ہندوستان نے چین کے تازہ دعوے کو لے کر ابھی تک کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ سرکاری میڈیا نے مسٹر شوئی لي کے حوالہ سے اپنی تفصیلی رپورٹ میں کہا کہ چین کی سرحدی سیکورٹی فورسز نے اس مبینہ ڈرون کی توثیق بھی کی ہے۔ انہوں نے اس معاملہ کا یہ کہتے ہوئے احتجاج اور عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے ملک کی سلامتی اور حقوق پر بھی خطرہ ہے۔ادھربھارت نے کہا کہ اس کا ڈرون تکنیکی خرابی کی وجہ سے سکم سیکٹر میں حقیقی کنٹرول لائن پار کرکے چینی سرحد میں داخل ہوگیا تھا۔ چین کی طرف سے اس پر سخت ناراضگی درج کرانے اور اسے سرحد میں غیرقانونی دراندازی قرار دیئے جانے کے بعد آج یہاں وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کل ایک بغیرپائلٹ کا ڈرون ہندستانی علاقہ میں باقاعدہ تربیتی پرواز پر تھا جو اچانک تکنیکی خرابی کی وجہ سے کنٹرول کھو بیٹھا اور سکم سیکٹر میں حقیقی کنٹرول لائن کو پارکر چین کی سرحد میں داخل ہوگیا۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ اس پورے معاملہ کی تفتیش طے شدہ ضابطوں کے تحت کی جارہی ہے۔ اس سے پہلے چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی ژنہوا نے اپنی خبروں میں چین کے مغربی فوجی کمان کے ڈپٹی چیف شوئلی ژانگ کے حوالے سے کہا تھا کہ چین کی سرحد میں اس طرح ہندستانی ڈرون کا داخل ہونا چین کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے جس کی چین سخت مخالفت کرتا ہے۔