ایجنسیز
سنگاپور// امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ بھارت ایک ’’طاقتور‘‘ ملک ہے اور اپنی فوج کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس بھاری صنعتی اور لاجسٹک صلاحیت موجود ہے جو اعلیٰ سطح کی فوجی کارروائیوں کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ہیگسیتھ نے یہ ریمارکس شنگریلالائونج کے دوران شنگاپور میں مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے دیے۔انہوں نے کہا، ’’بھارت ایک طاقتور ملک ہے اور اپنی فوج کو جدید بنا رہا ہے۔‘‘امریکی وزیر دفاع نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت بالخصوص بحرہند میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ بھارت ’’اعلیٰ درجے کی فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے بھاری صنعتی اور لاجسٹک صلاحیت بھی تعمیر کر رہا ہے۔‘‘ہیگسیتھ نے مزید کہا، ’’ہم نے بھارت کے ساتھ مشترکہ دفاعی پیداوار (کو-پروڈکشن) کے ذریعے دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔‘‘انہوں نے بتایا کہ امریکہ اپنی دفاعی صنعت کی قومی سطح پر مینوفیکچرنگ کو وسعت دینے کے عمل سے گزر رہا ہے اور اس ضمن میں بھارت کے ساتھ تعاون کو اہم سمجھتا ہے۔امریکی وزیر دفاع نے جاپان،جنوبی کوریا،آسیان اورآسٹریلیا کے ساتھ دفاعی تعلقات کا بھی جائزہ پیش کیا۔انہوں نے امریکہ کی علاقائی دفاعی حکمتِ عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایشیا بحرالکاہل (انڈو پیسیفک) خطہ دنیا کا سب سے اہم خطہ بن چکا ہے اور اس کی سلامتی بڑی حد تک امریکی فوجی طاقت پر منحصر ہے۔ہیگسیتھ نے خطے کے ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں میں سنجیدہ سرمایہ کاری کریں۔انہوں نے کہا کہ صدرٹرمپ کے دور میں امریکہ اورچین کے تعلقات گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں بہتر ہوئے ہیں، تاہم کسی بھی ملک، بشمول چین، کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ بالادستی قائم کرے یا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالے۔امریکی وزیر دفاع نے مشرقِ وسطیٰ اور یورپ میں جاری تنازعات، عالمی کشیدگی اور انڈو پیسیفک خطے میں امریکہ کی طویل المدتی حکمتِ عملی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں واشنگٹن کے مؤقف کی بھی وضاحت کی۔واضح رہے کہ شنگری لا ڈائیلاگ کے دوسرے روز جاری اجلاس میں اس سال 44ممالک کے اعلیٰ سطحی حکام شریک ہیں۔