لندن//امریکی ایوان نمائندگان کی انصاف سے متعلقہ امور کی کمیٹی نے اپنی ایک رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ چند بڑے بڑے کاروباری اداروں نے امریکی بزنس مارکیٹوں میں اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔ان اداروں میں فیس بک، گوگل، ایپل اور ایمیزون خاص طور پر نمایاں ہیں۔ کمیٹی کے مطابق اجارہ داری کے اس سلسلے کو ختم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اس کمیٹی نے ان چار بڑے اداروں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے اپنی اجارہ داری سے کاروباری حلقوں کو اپنے مقاصد کا تابع بنا رکھا ہے۔امریکی کانگریس کے ایوان زیریں کے مطابق ملک میں کاروبار کے لیے پہلے سے موجود عدم اعتماد سے متعلق ضوابط میں بڑی تبدیلیاں لائی جانا چاہییں۔ اس کمیٹی کی یہ رپورٹ پندرہ ماہ کی چھان بین کے بعد مرتب کی گئی اور اس کا اجراء منگل چھ اکتوبر کو عمل میں آیا۔رپورٹ کے مطابق گوگل نے سرچ انجن سے منسلک کاروباری سرگرمیوں کو پوری طرح اپنے زیرِ اثر کر رکھا ہے۔ فیس بک نے سوشل نیٹ ورکنگ مارکیٹ پر مکمل اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔ان کے ساتھ ساتھ ایپل نے سارے امریکا میں اہم اور پائیدار موبائل آپریٹنگ سسٹم اور دوسری کمپیوٹنگ ایپلیکیشنز کے ساتھ اسی نوعیت کی کاروباری سرگرمیوں کو زیرِ اثر کیا ہوا ہے۔ اسی طرح ایمیزون اپنے قابلِ اعتبار آن لائن کاروبار سے مسلسل اپنے کاروباری حجم کو بڑھاتا جا رہا ہے۔ساڑھے چار سو صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب ان بڑی بڑی کمپنیوں نے ریاستی ڈھانچے کو بھی چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے۔