متعلقہ سوال ایک لایعنی نوعیت کا سوال ہے۔ اس لیے کہ دین اسلام میں علم کی کوئی بیر نہیں ہے۔ علم کے جن میدانوں کو ہم نے دینی و دنیا وی علوم کو دو الگ الگ خانوں میں بانٹا ہے، اُن پر اگر غایت نظریے سے مطالعہ کیا جائے تو یہ بات آشکار ہو جاتی ہے کہ تما م تر علوم جن کا کوئی فائدہ عالم انسانیت کو پہنچتا ہو، کا مصدر و منبع اللہ کی کتاب ہے اور ایسے علوم کا حاصل کرنا نہ صرف ضرورت بلکہ اللہ کی طرف سے عائد کیا گیا ایک فرض منصبی ہے۔ مسلمانوں کی موجودہ زبوں حالی کے پیچھے ایسی ذہنیت ایک بنیادی وجہ قرار پائی ہے کہ علم کو دو الگ الگ خانوں میں بانٹا جائے ۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی پیشگی مدِ نظر رہنی چاہیے کہ تعلیم کے سلسلے میں ہمارے ہاں جو نظام رائج ہے وہ بذاتِ خود انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ ہزار ہا سال پہلے جس نظام تعلیم کو ترتیب دیا گیا ہے ہم اُسی پر آج بھی قناعت کیے بیٹھے ہیں ۔
اصل واقع یہ ہے کہ ابھی بھی ہمارے اندرایسے لوگوں کی کثیر تعداد موجود ہے جو دنیاوی و دینوی علم میں تفریق کر رہے ہیں، جن کے نزدیک دنیا اور دین کے علم میں کوئی مطابقت نہیں ہے یا جو دین اور دنیا کے علم کو دو رَنگی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ ذہنیت ماضی قریب کی چند صدیوں میںزیادہ پیوستہ تھی اور بدقسمتی سے آج بھی مسلمانوں کے تحت الشعور میں کام کر رہی ہے ۔ دنیاوی تعلیم کو گناہ سمجھا جاتا تھا۔ انگریزی سیکھنے کو دین بدل دینے کے معنوں میں استعمال کیا جاتا تھا ۔ وہیں غیر مسلم اقوام کو اِس دوران آرام سے سائینس و ٹیکنالوجی میں اعلیٰ درجے کا کام کرنے کا موقع نصیب ہوا ، نتیجتاً وہ آج ہر کسی میدان میں آگے آگے دوڑ رہے ہیں۔ حالانکہ امر واقع یہ ہے کہ سائینس و ٹیکنالوجی اور باقی علوم، جن کو ہم دنیاوی علوم گردانتے ہیں، کی بنیادیں اسلام نے ہی ڈالی ہیں،جس پر بعد اَزاں ہمارے اکابرین نے بڑی سرعت سے کام کرتے ہوئے اُسے عملی شکل دے دی۔ لیکن جب اُسے اپنے منطقی انجام کو پہنچانے کی بات آگئی، تو مسلمانوں کے اندر ایسے کئی سارے فتنے اُٹھے کہ وہ اپنے تابناک ماضی کو بھول بیٹھے۔ یوں یہ کام غیروں نے اپنے ہاتھ میں لیااور آج مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ اُن کے حقوق پر دن دہاڑے شب و خون مارا جارہاہے اور کسی کو پرواہ نہیں۔
جن علوم کو آج ہم دنیاوی علوم کے نام سے پکارتے ہیں، قرآن نے اُنہی علوم کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے ایمان کو بڑھانے کی بات کی ہے، اُنہی علوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسالت کا ثبوت پیش کیا ہے، اُنہی علوم کا بڑے موافق انداز میں تذکرہ کرتے ہوئے آخرت کے برپا ہونے اور اُس دن باز پرس کی یاد دہانی کرائی ۔ اب یہ الگ بات ہے کہ مذکوہ آیات پر کم ہی دھیان دیا جاتا ہے اور فلسفی موشگافیوں کو ہی بحث طلب سمجھا جاتا ہے۔ الغرض ، اسلام نے دنیا و دین کے علوم میںکوئی بھی فاصلہ نہیں کھینچاہے۔
اس تمہید سے جس بات کی نشاندہی کرنی مقصود ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ اور اُس کے دین کے ساتھ وفا کرنے والی تعلیم و تربیت جس کسی نوعیت کی ہو، جہاں سے بھی حاصل کی گئی ہو، وہ حد درجہ لائق تحسین ہے۔اور ایسے تعلیمی نظام کو برپا کرنا مسلمانوں کا اولین فرض ہے۔ اب اگر یہ بیر اصولی بنیادوں پر نہیں ، بلکہ فروعات یا کسی اور مصلحت کی خاطررکھی جاتی ہے ، تو اِس کے لیے عرض ہے کہ پھر تو ہم نے تعلیم کے مقصد کو سمجھا ہی نہیں ہے۔ کیا ہم میں سے کوئی انسان یہ کہہ سکتا ہے کہ مجھے دن رات صرف مسجد میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے کے سوا کوئی کام کرنا ہی نہیں ہے۔ بظاہر تو یہ نہایت ہی اچھی بات معلوم ہوتی ہے، لیکن ایسے ہی انسان کے اند ربذات خود اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا میکانزم رکھا ہے کہ اُسے کھانے پینے کی جستجو بھی کرنی ہے ، کپڑا اور مکان حاصل کرنے کے لیے باہر کی دنیا کا بھی رُخ کرنا ہے اور اپنی جائز نفسانی ضرورتوں کے لیے باقی انسانوں سے بھی تعلقات استوار کرنے ہیں۔ اب اگر یہی انسان کہہ دے کہ میں مسجد سے باہر جاکر کس طرح اور کیوں کر کام کروں، یہ اس انسان کی دماغی حالت کی خرابی کا بین ثبوت ہی نہیں بلکہ اس کے مرنے کی سرٹیفکیٹ بھی ہے ۔ یہی حال علم کو مختلف خانوں میں بانٹنے کا ہے۔ علم کو اگر بانٹا جا سکتا ہے تو صرف فائدے مند اور نقصان دہ کی لائن کھڑی کی جاسکتی ہے۔ اب اگر تھوڑی دیر کے لیے اس سوال کو بر محل مانا بھی جائے ، تو اس کے لیے مندرجہ ذیل تدابیر اختیار کرنے ہوں گے۔
٭ سب سے پہلے بچوں کو یہ سمجھایا جائے کہ مسلمانوں کے لیے جس علم کو فرض قرار دیا گیا ہے، وہ از بس یہی علم ہے کہ ’’ربنا ماخلقت ھٰذا باطل‘‘(آل عمران: ۱۹۱)[یارب ! تو نے اس سب کو بے کار و باطل پیدا نہیں کیا ہے] کے قرآنی تصور تک پہنچا جائے۔ اس نقطے تک پہنچنے کے لیے جتنے بھی ذرائعِ علم جہاں کہیں بھی ہوں ،اُن تک رسائی حاصل کی جائے۔قرآن کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو وہاں پر واضح لفظوں میں کہا گیا ہے کہ ’’بے شک زمین و آسمان میں، رات اور دن کے باری باری کے آنے میں عقلمند وں کے لیے واضح نشایاں ہیں‘‘ (آل عمران: ۱۹۰)۔ یہ نشانیاں توحید و رسالت کی ہیں، آخرت اور اس دن کی جوابدہی کی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالی کا یہ بھی فرمان ہے کہ ’’ اے انسان! کسی ایسی چیز کی پیروی مت کر جس کے بارے میں تمہیں قطعی علم نہ ہو، اس لیے کہ ہم نے تمہیں آخرت کے دن تم کو بخشی گئی قوتِ سماعت و بصرت ، نیز عقل کی باز پرس کرنی ہے‘‘(بنی اسرائیل :۳۶)۔ یہی وہ ذرائع ہیں جن کا استعما ل کر کے یا جہاں سے نتائج حاصل کرکے دنیا نے جو علوم ترتیب دئے ،وہ دنیاوی علوم کے نام سے موسوم ہوگئے۔ اسی طرح قرآن میں کتنی جگہ جانوروں، کیڑے مکوڑوں، ہوا و پانی، پتھر و دھات، پہاڑ و دریا کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہی وہ اذکار ہیں جن کا وِرد سائینس کہلاتا ہے۔
٭ اس کے لیے ایسے اساتذہ مہیا ہوں جن کا علم و عمل اِس پایہ کا ہو کہ وہ بچو ں کے لیے مثال بنیں۔ بچے اپنے استاد کی نقالی کرتے ہیں ۔ استاد اگر علم و عمل میں اونچے درجے کا ہو تو اس کا براہ راست اثر بچے پر بھی پڑنے کی قوی امید ہے ۔
٭ قرآن نے جس طرح دنیاوی علوم کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے اللہ کی معرفت حاصل کرنے کے مقصد سے بیان کیا ہے، اُسی نہج پر بچوں کو بھی سائینسی، سماجی ، نفسانی، فلکیاتی، وغیر علوم پڑھائے جائیں۔ ایسے ہر کسی شعبے میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ متعلقہ علوم انسان کو اس حقیقت تک پہنچائیں کہ ’’ربنا ما خلقت ھٰذا باطل‘‘۔ یہ ایک حد متارکہ قرار پانی چاہیے۔ اِسے انسان فلسفی و مابعد الطبیعات موشگافیوں سے بچ سکتا ہے۔
٭ جتنے بھی علوم پڑھائے جائیں ،ان کو قرآن و سنت کے تابع بنانے کی ضروت ہے، نہ کہ قرآن و سنت کو باقی علوم کے تابع کیا جائے۔جب تما م تر علوم کا مصدر و منتہا اللہ کی وحدانیت ، آخرت کی باز پرس و رسالت کی گواہی دینی ہو تو کیوں کر بچے کو عصری و دینی علوم پڑھانے میں سوالاتوں کے انبار جمع ہوتے ہیں۔
٭ بچوں کو مثالوں، عملی زندگی کے میدانوں، تایخی روایتوں کے ساتھ ساتھ تجربات کی دنیا سے بھی نتائج اخذ کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ بچہ جب عمل کرنے کے دوران سیکھ جاتا ہے تو اس کا اثر زیادہ دیر پا ہوتا ہے۔
٭آخر میں اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح ہم بچوںکو مروجہ علوم سکھانے کے لیے مختلف طریقہ کار استعمال کرتے ہیں، ان میں کوئی قباحت اگر نہ ہو تو انہیں دینی علوم حاصل کرنے کے لیے بھی بدرجہ اتم حاصل کیا جا سکتا ہے۔ کس طرح ہم بچوں کو سکولی تعلیم مہیا کرانے کے بعد کھیل کود کا درس بھی دیتے ہیں۔ اُس دوران اگر ہمیں کوئی اڑچن پیش نہ آتی ہے، تو کیوں کر دینی علوم کو دنیاوی علوم کے ساتھ بیک وقت پڑھانے میں اتنے سوالات کیے جاتے ہیں۔
ای میل: [email protected]
نوٹ: موضوع میں درج سوال کو ایک دوست نے چند مہینے پہلے ارسال کیا تھا، جس کے جواب میں احقر نے مذکورہ بالا گذارشات پیش کی تھیں۔