’’برائیوں کے طوفان میں آپ کیا کریں؟‘‘؟ یہ حال ہی میں اللہ کو پیارے ہوئے مولانا محمد یوسف اصلاحی کا تحریر کردہ کتابچہ ہے۔ بچپن میں ہم نے اس کتاب کو اس لیے خرید لیا تھا کہ راہ فراری کی کوئی سبیل مل جائے۔ کتاب کو پڑھنے سے قبل ہم یہ رائے قائم کر بیٹھے تھے کہ جب چار سوں برائیوں کا طوفان برپا ہو تو انسان آزاد ہو جاتا ہے، لیکن کسے خبر تھی کہ کتاب کو پرھنے کے بعد ’’پچھتانا ‘‘پڑے ۔ کیوں کہ کتاب نے راہ فراری کی کوئی بھی سبیل فراہم نہ کی، بلکہ برائیوں کے طوفان میں بھی ہم کو اور زیادہ مکلف ٹھہرایا۔
مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ راہ فراری کی سبیل ڈھونڈنے کی خاطر ہم نے کتاب کا ازسرِ نو مطالعہ کیا۔ لیکن ہماری توقعات کے عین بر خلاف اِس بار بھی ہمیں منہ کی کھانی پڑی۔ عقل کے کچے تو تھے ہی ہم، لیکن معصومیت بھی غالب تھی۔ حق تو یہ ہے عرصہ دراز تک کفِ افسوس ملتے رہے کہ کس خدا نے ہم کو یہ کتاب پڑھنے کو کہا تھا؟
ویسے تو یہ بات اخذ کرنے میں کوئی دقعت نہیں ہونی چاہیے کہ موجودہ وقت پر بے حیائی اور عریانی نے غلبہ پالیا ہے۔ بر سرِ عام اخلاق سوز حرکتیں انجام پاتی ہیں۔ نوجوان تو نوجوان، اسکول جاتے بچوں نے بھی اب بے شرمی کی راہ پکڑ لی ہے۔ ابھی چند دنوں پہلے ہی کی بات ہے کہ ایک چوراہے پر چند اسکول جاتے بچے اور بچیاں اچھلتے اور کودتے نظر آئے۔ محتا ط الفاظ میں اگر کہیں تو وہ اضطرابی حالت میں تھے۔ بظاہر تو وہ معصوم لگ رہے تھے، لیکن برسرِ عام اُن کا اچھلنا اور کودنا مجھے راس نہیں آیا۔ آس پاس لوگ انہیں دیکھ تو رہے تھے، لیکن شتر مرغ کی چال چلاتے جیسے انہیںکچھ دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا ۔ شاید وہ کسی چیز سے ڈر رہے تھے۔ میں نے دل پر ہاتھ رکھ کر آگے کا رُخ کیا اور اُن سے پوچھا کہ کیا بات ہے، آپ لوگ یہاں کیا کر رہے ہو؟ پیاری بچی نے سبقت حاصل کرتے ہوئے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کہا کہ ہم کلاس میٹ ہیں۔ میں نے کیا، اگر آپ کلاس میٹ ہیں، تو کلاس میں اپنے استاد کے سامنے پورے دن آپ کو اچھلنے اور کودنے کا موقع نہیں ملا کہ یہاں ماحول کو گندا کر رہے ہو؟ اس بار پھر سے وہی بچی بول اُٹھی کہ ہم فرینڈس ہیں۔ چودہ پندرہ سال کی بچی کی زبانی’’ فرینڈس‘‘ کا لفظ سن کر میرے پیروں تلے جیسے زمین ہی کھسک گئی۔ میں نے جواباً عرض کیا، کہ آپ جو کچھ بھی ہوں، اگر آپ راشن کارڈ کے مطابق بھائی بہن کا بھی رشتہ رکھتے ہوں، تو بھی آپ کو اس طرح بر سرِ عام اچھلنے کودنے کی اجازت نہیںہے۔ رائج الوقت قانون کے مطابق بھی آپ کو اس طرح گند مچانے کی اجازت نہیں ہے۔ آپ اسکول سے فرینڈس لفط سیکھ کر اگر آئے ہو تو براہِ مہربانی گھر کی راہ لیں۔ ویسے کیسا لگے گاآپ کو اگر میں آپ سب کے والدین کو کہوں کہ آپ کے بچے(یا بچی)نے متضاد جنس کے ساتھ فرینڈشپ کی ہے۔ یہ سنتے ہی وہ سب وہاں سے کھسک گئے۔
(رابطہ۔9622939998)