کٹھوعہ /بنی کے مختلف حصوں میں دوروزقبل تیزآندھی ، طوفانی بارش اورژالہ باری نے تباہی مچادی جس کی وجہ سے 20 سے زائد تعلیمی اداروں اور60 سے زائد مکانات کوشدیدنقصان پہنچاہے ۔ اس کے علاوہ درخت اوررہائشی علاقوں میں خیمے اورشیلٹربھی اکھڑگئے ہیں۔ اچانک سے آنے والے طوفان وبادوباراں نے درجنوں گھروں کی چھتیں پتنگ کی طرح اڑادیں ، شدیدآندھی اور طوفان کے بعد درجنوں مکانوں کی چھتیں اڑگئیں جس کے نتیجے میں 60 سے زائد رہائشی مکانات اور23 اسکولوں کونقصان پہنچاہے ۔گذشتہ تین روزپہلے دوپہر بارہ بجے آندھی شروع ہوئی ۔اسکی شدت اتنی زیادہ تھی کہ سینکڑوں درخت زمین پر آگرے ۔ سینکڑوں مقامات پر بجلی کے کھمبے اورتاریں گرگئیں ۔درختوں کے گرنے اورکئی مقامات پربجلی کے پول گرنے کی وجہ سے بھنڈھار ، چنڈھیار ، بانجل اوردیگرملحقہ علاقوں میں بجلی کی سپلائی معطل ہے۔ تیز یخ بستہ ہوائوں کے ساتھ موسلادھار بارش اورشدیدژالہ باری کے بعد تیارکھڑی فصلوں ، پھلوں اور سبزیوں کو بھی نقصان ہواہے ۔متاثرہ لوگوں نے حکومت اورانتظامیہ سے مطالبہ کیاہے کہ کسانوں اورطوفان آندھی سے ہوئے نقصان اوررہائشی مکانات کوہوئے نقصانات کامعاوضہ اداکیاجائے۔