سرینگر//نیشنل کانفرنس اور اپنی پارٹی نے محرم الحرام کی مقدس تقریبات کے پیش نظر خصوصی اقدامات کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے زور دیا کہ وہ عوام کو بنیادی سہولیات وافر مقدار میں میسر رکھنے کے ساتھ ساتھ شیعہ اکثریتی علاقوں میں خاص طور سے سڑکوں اور گلی کوچوں کی صفائی کے کام کو یقینی بنایا جائے۔ اِسی طرح بغیر خلل بجلی سپلائی کو بھی یقینی بنایا جانا چاہئے ۔انہوں نے عزاداران کے جلوسوں کے دوران ہر اہم مقام پر طبی کیمپ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عزادارن کے جلوسوں کے ہمراہ خصوصی فرسٹ ایڈ سہولیات بھی میسر رکھی جانی چاہیں۔ اِسی طرح صحت وصفائی کے منظم اور موثر انتظامات کے ساتھ ساتھ جگہ جگہ پینے کے پانی کے عارضی نل پوئنٹ قائم کئے جانے چاہیں۔ انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ عزاداران کو اپنے اپنے علاقوں میں تعزیہ جلوس نکالنے کی بھر پور سہولیات فراہم کی جائیں اور یوم عاشورہ کی اختتامی تقریبات منعقد ہوجانے تک ہر ایسی سہولیت کو بر قرار رکھا جانا چاہئے۔اسی دوران پارٹی کے اراکین پارلیمان ایڈوکیٹ محمد اکبر لون اور جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے بھی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ محرم الحرام کے ایام متبرکہ کے دوران لوگوں کو تمام سہولیات میسر رکھیں جائیں۔ادھر اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے حکومت سے گذارش کی ہے کہ جموں وکشمیر بھر خاص طور سے شیعہ آبادی والے علاقوں میں ایام ِ ماہ محرم الحرام کے دوران تمام ضروری شہری سہولیات یقینی بنائی جائیں۔ ایک بیان میں بخاری نے کہا ہے کہ انتظامیہ کو چاہئے کہ لوگوں کو بلاخلل بجلی، پینے کا صاف پانی کے علاوہ صفائی سہولیات کیلئے تمام اقدامات یقینی بنائی جائیں۔انہوں نے کہاکہ دونوں صوبائی انتظامیہ کو شعیہ آبادی والے علاقوں میں تمام ضروری انتظامات اور تیاریوں کا جائزہ لینا چاہئے تاکہ محرم الحرام کے دوران عزاداروں کو کسی قسم کی مشکل درپیش نہ آئے۔ بخاری نے کہاکہ کویڈ19وباء کی موجودہ صورتحال کے پیش ِ نظرحکومت کو چاہئے کہ سبھی امام بارگاہوں میں دوا کا چھڑکاؤ کیاجائے ، مفت فیس ماسک اور ہینڈ سینی ٹائزرز عزاداروں کو فراہم کئے جائیں ۔ انہوں نے کہاکہ کورونا وباء کی روکتھام کو یقینی بنانے کے لئے امام بارگاہوں میں ائمہ اور علماکے ذریعے سماجی وصحت پروٹوکول پر سختی سے عملدرآمد کرایاجائے۔ سبھی محکموں کو آپسی تال میل سے کام کرنا چاہئے تاکہ عزاداروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔