حال ہی میںپڑوسی ملک بنگلہ دیش میں دُرگا پوجا کے دوران پیش آئے تشدد کے بد بختانہ واقعات کی آڑ میں ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست تریپورہ میں شدت پسندہندو عناصر ریاست کے مسلمانوں کے خلاف کھلی بربریت کا مظاہرہ کر تے ہوئے انہیں اپنے ظلم کا نشانہ بنارہے ہیں۔ وشواہندو پریشد اور ہندو جاگرن منچ کے کارکنوں نے تلواروں اور دیگر ہتھیاروں سے لیس ہو کر " ہنکار ریلی"نکالی اور ہندوؤں کو مسلمانوں کی مساجد، ان کے گھروں اور ددکانوں کو جلانے اور لوٹ لینے کے لئے اُ کسایا۔ مسلمانوں کے خلاف ریاست ِ تری پورہ میں ہندو جارحیت کا یہ سلسلہ گزشتہ ایک ہفتہ سے جاری ہے جہاں بی جے پی کی حکو مت ہےاور تاحال وی ایچ پی اور ہندو جاگرن منچ کےان عناصر کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہورہی ہے ۔ بنگلہ دیش یا کسی بھی ملک میں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونماہوتا ہے تو اس کا غصّہ ہندوستانی مسلمانوں پر اُ تارنے کا جواز پیدا کیا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق حال ہی میںبنگلہ دیش میں اُس وقت تشدد پھوٹ پڑا جب دُرگاہ پوجا کے موقع پر ایک مندر میں قرآنِ مجید کی بے حرمتی کا واقعہ پیش آیا۔ کہا جارہا کہ مورتی کے قدموں میں قرآن ِ کریم کو مبینہ طور پر رکھا گیا تھا، اس واقعہ کی ویڈیو فیس بک پر وائرل ہوتے ہی بنگلہ دیشی مسلمانوں کے جذبات برانگیختہ ہوگئے اور وہ سڑکوں پر نکل آئے۔ کسی بھی مذہبی کتاب کے ساتھ اس قسم کی حرکت کو اس کے ماننے والے برداشت نہیں کر تے۔ بنگلہ دیش کے مسلمانوں کا یہ ردّعمل فطری تھا ۔ ان کا یہ احتجاج ان بد طینت افراد کے خلاف تھا، جنہوں نے مقدس آسمانی صحیفہ کی بے حرمتی کرکے اپنی شیطانیت کا ثبوت دیا ۔ بنگلہ دیشی مسلمانوں نے اپنے ان ہندو بھائیوں کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار نہیں کیا تھا جو اس شرانگیزی میں ملوث نہیں تھے۔خود ہندوستان کی وزارتِ خارجہ نے بنگلہ دیش کے ان واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ بنگلہ دیشی حکومت نے مابعد دُرگاہ پوجاہونے والے تشدد کے واقعات پر بہت بہتر انداز میں قابو پالیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ سارے حقائق سامنے آنے کے بعد بھی تری پورہ میں حکومت شدت پسند ہندوئوںکو مسلمانوں کی مساجد اور ان کے مکانات کو نشا نہ بنانے اور مسلم اقلیت کے خلاف ایک زہریلی فضاء بنانے کی اجازت کیسے دے رہی ہے۔ تریپورہ میں مسلمانوں پر اس وقت جو افتاد آئی ہے یہ وہاں کی ریاستی حکومت کی نیت پر سوالہ نشان لگا رہی ہے۔ آسام کے بعد اب تریپورہ کے مسلمانوں کے لئے زمین تنگ کی جا رہی ہے۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر حملے تو محض ایک بہانہ ہے۔ ملک کی شمال مشرقی ریاستوں میں جہاں ابھی تک اطمینان اور سکون کا ماحول پایا جاتا تھا، وہاں فرقہ پرستی کا زہر گھول کر ہندوتوا طاقتیں اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کرنا چاہتی ہیں۔ آسام میں دوسری مرتبہ بی جے پی بر سرِ اقتدار آئی ہےاور تریپورہ میں بھی اقتدار اس کے ہاتھوں میں ہے ۔ آسام میں جس طریقہ سے این آر سی کے نام پر مسلمانوں کو پریشان کیا جارہا ہے، اسی طرح کے حالات تریپورہ میں پیداکئے جارہے ہیں۔ اسی تناظر میں تریپورہ میں مسلمانوں پر ہونے والے حالیہ حملوں کو دیکھا جارہا ہے۔ جس طرح کا نظریہ اور رویہ آسام کے چیف منسٹرہیمنت بسوا شرما کا آسامی مسلمانوں کے تئیں رہا ہے،اُسی طرح کا نظریہ تریپورہ کے چیف منسٹر بپلب کمار دیب میں بھی نظر آرہا ہے۔
بنگلہ دیش میں 13تا 15؍ اکتوبر 2021 تک جوکچھ متشددانہ واقعات پیش آئے، اس کے خلاف سخت کاروائی کر تے ہوئے بنگلہ دیش پولیس نے 450افراد کو گرفتار بھی کرلیا اور ان کے خلاف مختلف فرقوں کے درمیان نفرت پھیلانے کے مقدمات بھی درج کئے گئےہیں۔ لیکن تریپورہ میں بنگلہ دیش کے تشدد کے ردّعمل کے طور پر ہندو فرقہ پرست طاقتوں نے جو مظالم مسلمانوں پر ڈھائے ہیں، اُن کے خلاف کوئی قانونی کاروائی ابھی تک نہیں کی گئی ہے۔ یہ شر پسند عناصر آبادیوں میں دندناتے ہوئے گھوم رہے ہیں۔ ریاست کے مختلف علاقوں میں ریلیاں نکالتے ہوئے مسلمانوں کو دہشت زدہ کیا جارہا ہے۔ مسلمانوں کے مکانات میں توڑ پھوڑ کی جارہی ہے۔ مساجد کو نشانہ بنا یا جارہا ہے۔ یہ ساری غنڈہ گردی دیکھتے ہوئے بھی تریپورہ کی پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ کیوں تریپورہ کی پولیس ، بنگلہ دیش کی پولیس کی طرح خاطیوں کو پکڑنے اور انہیں قرارِ واقعی قانونی سزا دینے سے کترارہی ہے؟ ہندو جارحیت پسند پولیس جوانوں کی موجودگی میں بھی یہ کارستانیاں انجام دے رہے ہیں،جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہندو احیاء پرست، ریاست کی پولیس اور ریا ستی حکومت کے تال میل سے ہی تریپورہ کے مسلمانوں کے گھر اُ جاڑے جا رہے ہیں اور مساجد کا تقدس پامال کیا جارہا ہے۔ ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد بھی نفرت کا پرچار کرنے والے عناصر کے خلاف کوئی اقدام نہ اُٹھانا اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ یہ اتفاقی حادثات نہیں ہیں۔جو عناصر مسلمانوں کو تہہ تیغ کر رہے ہیں ، انہیں کسی منصوبہ کےتحت ایسا سب کچھ کرنے کی کھلی اجازت ہے،جن کے تحت اِن خطرناک حالات سے مسلمانوں کو دوچار کردیا گیا ہے۔ وزیراعظم نریندرمودی اور مرکزی وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے بھی تریپورہ میںمسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر چُپ سادھ لی ہے۔ کیا وزیراعظم اور وزیرِ داخلہ اپنی ہی پارٹی کے چیف منسٹر وںکو یہ ہدایات نہیں دے سکتے ہیں کہ ریاست میں اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات ختم کیا جائے۔
مرکزی حکومت کی ان دلخراش واقعات پر خاموشی انتہائی افسوس ناک قرار دی جارہی ہے کہ کس طرح ریاست کے مسلمانوں میں خوف و ہراس پیدا کر کے انہیں وہاں سے نکلنے پر مجبور کر دینے کی پالیسی جاری ہے۔موجودہ مرکزی حکومت میں اقلیتیں جس کربناک ماحول میں زندگی گزار رہی ہیں ، اس کو آج کے قلم کار اور صحافی بیان کر نے سے قاصر ہے۔ حکومت کی ناعاقبت اندیش پالیسیوں پر تنقید کرنا اور ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانا اب ملک سے غداری مانا جارہا ہے۔ اسی لئے حقائق اہلِ ملک کے سامنے نہیں آ رہے ہیں ۔ لیکن کل کا مورخ یہ لکھنے پر مجبور ہوجائے گا کہ جمہوریت کے نام پر ہندوستان کے ا کیسویں صدی کے حکمرانوں نے اقلیتوں کا جینا دوبھر کر دیا تھا۔ ہر دن کا طلوع ہونے والا سورج ہندوستانی مسلمانوں کے لئے ایک نئی قیامت کے برپاہونے کا اعلان کرتا ہے۔ ابھی چند دن نہیں گزرے کہ آسام میں سرکاری اراضی پر سے غیر قانونی قبضوں کو برخاست کرنے کے نام پر نہتے مسلمانوں پر آسام پولیس نے وحشیانہ انداز میں فائرنگ کرتے ہوئے کئی افراد کو موت کے گھاٹ اُتاردیا اور کئی لوگ پولیس کی گولیوں سے زخمی ہوکر اب بھی موت و زیست کی کشمکش سے دوچار ہیں۔ دنیا نے دِل دہلادینے والا وہ منظر بھی دیکھا کہ پولیس کے ساتھ موجود ایک کیمرہ مین ایک نیم مردہ جسم پر کودتے ہوئے اپنی جوانمردی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ایسی حیوانیت جنگل میں حیوان بھی نہیں کرتے۔ مرنے والے کے جسم کی بے حرمتی کرنا اور اس کا ویڈیو بناکر وائرل کرنا انسان نہیں شیطان ہی کر سکتا ہے۔ انسان چاہے کتنا ہی بے ضمیر اور مردہ دِ ل ہوجائے لیکن وہ میت کے ساتھ ایسی گھناؤنی حرکت نہیں کر سکتا، جو دنیا نے آسام کے ضلع دارنگ میں دیکھا۔
اسی نوعیت کی صورت حال اب تریپورہ میں دیکھی جا رہی ہے۔ آسام میں بھی مسلمانوں کے مکانات توڑ دئے گئے یا جلادئے گئے۔ آج بھی دھول پور اور اس کے اطراف کے مسلمان زیرِآسمان زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں رہنے کے لئے کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ جس مقام پر وہ گزشتہ پچاس، ساٹھ سال سے رہ رہے تھے، آسام حکومت نے وہاں سے انہیں بے دخل کردیا۔ تریپورہ میں بھی بنگلہ دیش کے واقعات کی آڑ میں وہاں کے مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ مسلمانوں پر ہونے والے اس ظلم کے خلاف نیشنل میڈیا نے کوئی اہمیت نہیں دی۔ پرنٹ میڈیا ہو یا الکٹرنک میڈیا ، مسلمانوں کے معاملے میں جانبداری سے کام لیتا رہا۔ پوری ریاست میں مسلمان سہمے ہوئے ہیں لیکن کسی انگریزی یا ہندی اخبار نے ان کی ہمدردی میں دو لفظ نہیں لکھے۔ اس ملک کا المیہ یہی ہے کہ اب اکثریت ظلم کو دیکھتے ہوئے بھی مظلوموں کی مدد کے لئے آ گے آنے سے گریز کررہی ہے۔ خاص طور پر اقلیتوں کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں رہا۔ جہاں تک ملک کی سیکولر پارٹیوں کا معاملہ ہے وہ بھی سیاسی مفادات کی اسیر ہوگئی ہیں۔ یہ دیکھا جا رہا ہے کہ مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے سے کہیں ہندو ووٹ تو ان کے ہاتھوں سے نہیں نکل جائیں گے۔
2002کے گجرات فسادات کے بعد سے یہی سچائی سامنے آ رہی ہے کہ مسلمانوں کی مسیحائی کا دعویٰ کرنے والے عین وقت پر پیچھے ہٹ جا تے ہیں۔ بی جے پی نے اعلان کر دیا کہ اسے مسلمانوں کے ووٹوں کی ضرورت نہیں ہے۔ آر ایس ایس اور پورا سنگھ پریوار مسلمانوں کو اپنے میں ضم کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ حالیہ عرصہ میں آر ایس ایس کے سر سنچالک موہن بھاگوت نے مسلمانوں کے بارے میں جو لب کُشائی کی ہے ،اس کا لبّ لباب یہی ہے کہ مسلمان اپنے تشخص سے دستبردار ہوکر ہندو روایات کو قبول کرلیں ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سارے ہندوستانیوں کا ڈی این اے ایک ہے۔ اسلئے ہندوستان میں رہنے والے سارے لوگ ہندو ہیں۔ یہ ان کا نظریہ ہے اور ان کو اپنی بات ملک اور قوم کے سامنے رکھنے کا پورا حق ہے۔ لیکن وہ سیکولر پارٹیاں جو اپنے آ پ کو سنگھ پریوار سے الگ بتاتی ہیں اور ہندوستان کو ایک گلدستہ مانتے ہوئے سارے مذاہب، ساری تہذیبوں اور ساری زبانوں کی ترقی کی بات کرتی ہیں۔ یہ پارٹیاں جو اپنے آپ کو اقلیتوں کی چمپئن قرار دیتی ہیں ، ایسے نازک وقت جب کہ ملک کے مختلف حصوں میں اقلیتوں اور خاص طور مسلمانوں کے خلاف ایک محاذ تیار کیا جارہا ہے اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کا ہر حربہ ا ختیار کیا جارہا ہے ، سیکولر پارٹیاں کیوں کھل کر ان کی حمایت کے لئے آگے نہیں آ تیں۔ ملک میں بیسیوں سیکولر پارٹیاں موجود ہیں ، جو الیکشن کے وقت مسلمانوں کے ووٹوں کے حصول کے خاطر انہیں خوب لبھاتی ہیں لیکن جب مسلمان فرقہ پرستوں کے نشانے پر ہوتا ہے اس کی مدد کے لئے وہ آ گے نہیں آ تیں۔ اس وقت یہی صورت حال سارے ملک میں اور خاص طور پر آسام اور تریپورہ میں دیکھی جارہی ہے۔ ایسے نازک مرحلہ پر سیکولر ذہن رکھنے والے دانشوروں، صحافیوں ، وکیلوں ، پروفیسروں اور نوجوانوں کو نفرت پرستوں کے خلاف میدان میں آنا ہوگا۔اگرملک میں منافرت اور فرقہ پرستی کی یہ عفریت بڑھتی چلی گئی تو ملک کے سارے طبقے اس زیادتی اور ظلم و جبر کی لپیٹ میں آجائیں گے۔شمال مشرقی ریاستوں میں مسلمانوں کے ساتھ عیسائیوں کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ آسام اور تریپورہ کے بعد ارونا چل پردیش، ناگا لینڈ، منی پور، میگھا لیہ اور میزورم میں بھی حالات دگرگوں ہو سکتے ہیں۔ یہ عناصر ان ریاستوں کی منفرد تاریخی شناخت اور تہذیبی روایات کو ختم کرکے سماج کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ فرقہ پرستی کی عفریت کو کسی صورت میں پنپنے نہ دیا جائے تاکہ یہاں کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر نہ ہو۔
رابطہ ۔91+9885210770
�������