سرینگر// وادی میںعید الفطر کے پیش نظر کورونا کرفیو کے باعث روایت کے برعکس بازاروں میں سناٹا چھایا رہا۔بدھ کو شمال و جنوب میں خاموشی کا ماحول دیکھنے کو ملا اور ماضی کے برعکس بازاروں میں الو بولتے رہے۔پچھلے سال بھی بالکل اسی طرح کی صورتحال تھی۔ قصبہ جات و شہر میں تمام دکانیں بند رہیں،تجارتی مراکز مقفل،بازار ویران اور سڑکیں سنسان نظر آئیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ کورونا لاک دائون کے نتیجے میں دوسرے سال بھی مجموعی طور پر تاجروں کو قریب300کروڑ روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔بدھ کو لاک دائون کے دوران ہی لوگوں نے مقامی بیکری دکانوں سے کم و قلیل بیکری حاصل کی ۔بیکری اینڈ کفنکیشنری ایسو سی ایشن نے پہلے ہی کہا تھا کہ امسال عیدالفطر پر بیکری مالکان کو قریب30 کروڑ روپے کے نقصانات کا خدشہ ہے۔وادی میں عید کے موقعے پر کافی تعداد میں بیکری کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری شاہد حسین کا کہنا ہے کہ اوسطاً عید پر وادی میں40سے 50کروڑ روپے کی بیکری کی خرید و فروخت ہوتی ہے تاہم اس بار 8کروڑ روپے تک بیکری مصنوعات کی خرید و فروخت ہونے کا انداز ہ ہے۔گوشت کی حصولیابی کیلئے بدھ کو سرینگر سمیت دیگر قصبوں میں ہی لوگ قصابوں کے دکانوں کا طواف کرنے لگے اور ان دکانوں کے کھلنے کا انتظار کیا۔ صارفین کا کہنا تھا کہ عید الفطر کے پیش نظر وادی میں مرغ اور گوشت کی مصنوعی قلت پیدا ہوگئی ہے اور اگر کہیں پر گوشت دستیاب ہے تو 600روپے سے کم اس کو فروخت نہیں کیا جا رہا ہے ۔ مٹن ڈیلرس ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری معراج الدین گنائی نے عید پر گوشت کو ہوئے نقصان کا اندازہ50کروڑ روپے لگایا ہے۔انہوں نے کہا کہ شب قدر سے لیکر عید تک70سے80کروڑ روپے کا گوشت فروخت ہوتا تھا،تاہم امسال صرف10فیصد گوشت کی سپلائی ہی ممکن ہوسکی ہے۔لوگوںنے گورنر انتظامیہ کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عید الفطر کے موقعے پر لوگوں کیلئے گوشت دستیاب رکھنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہوںنے کہا کہ اگرچہ سرکار نے بڑے بڑے اعلانات کئے تھے کہ عید الفطر کے پیش نظر وادی کشمیر میں لوگوں کو ہر ضروریات بہم رکھی گئی ہے اور یہاں پر گوشت کی کافی مقدار میں موجود ہے تاہم اس کے برعکس زمینی سطح پر کچھ دیکھنے کو نہیں ملا ۔