عاقب سلام
سرینگر// سرینگر کی نہایت اہم اور خوبصورت شاہراہوں میں شمار ہونے والی بلیوارڈ روڈ کا مجوزہ چارگلیاروںبنانے کامنصوبہ، جس کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی تھی، تاحال تعطل کا شکار ہے، جبکہ سیاحتی سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی ٹریفک کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔یہ منصوبہ، جس کا مقصد ڈل جھیل کے کنارے آمد و رفت کو آسان بنانا اور اہم سیاحتی مقامات تک رابطہ بہتر کرنا ہے، گزشتہ سال وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے سنگِ بنیاد رکھنے کے باوجود عملی طور پر ابھی تک شروع نہیں ہو سکا ہے۔واضح رہے کہ بلیوارڈ روڈ کئی اہم مقامات کو آپس میں جوڑتا ہے جن میں مشہور ٹیولپ گارڈن، بوٹینیکل گارڈن، پری محل، مغل باغات جیسے شالیمار اور نشاط، اور آگے داچھی گام جنگلی حیات کی پناہ گاہ شامل ہیں۔ یہ سڑک برین، نشاط، شالیمار، ہارون، اشبر،تیل بل اور نیو تھید جیسے گنجان آباد علاقوں کے لیے بھی ایک اہم راستہ ہے۔گزشتہ ہفتوں کے دوران ٹیولپ گارڈن میں سیاحوں کی بڑی تعداد کے باعث اس سڑک پر غیر معمولی ٹریفک دباؤ دیکھا گیا ہے، جس کے پیش نظر حکام کو بار بار ٹریفک ڈائیورشن نافذ کرنے پڑ رہے ہیں۔مسافروں کا کہنا ہے کہ صورتحال ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔مقامی مسافر منیر احمد کہا’’رش کے اوقات میں ڈل گیٹ کے قریب تھوڑے سے فاصلے کو طے کرنے میں ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ ضروری خدمات میں تاخیر ہو رہی ہے اور ایمبولینسوں کو بھی دشواری پیش آ رہی ہے۔‘‘ ہارون اور نیو تھید کے طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔طلبہ کے ایک گروپ نے کہا،’’ہمیں کلاسز کے لیے بہت پہلے نکلنا پڑتا ہے اور اکثر ڈائیورشن کی وجہ سے راستے بدلنے پڑتے ہیں، اس کے باوجود ٹریفک جام میں پھنس جاتے ہیں‘‘۔دفاتر جانے والے افراد اور مقامی رہائشیوں نے بھی اسی طرح کی شکایات کا اظہار کیا اور کہا کہ روزانہ کا سفر ایک طویل آزمائش بن چکا ہے۔ نشاط کے ایک ملازم نے کہا، ’’بلیوارڈ صرف سیاحتی سڑک نہیں بلکہ ہزاروں لوگوں کے لیے زندگی کی لکیر ہے۔ فور لیننگ منصوبے میں تاخیر ہمارے مسائل میں اضافہ کر رہی ہے۔‘‘ڈل گیٹ کے آس پاس کا علاقہ، جہاں کئی معروف ہوٹل اور رہائش گاہیں موجود ہیں، سیاحتی گاڑیوں کی بھاری آمد کا سامنا کر رہا ہے، جس سے ٹریفک مزید بگڑ رہی ہے۔ مقامی لوگوں نے سڑک کے بعض حصوں میں فٹ پاتھ اور بند کی خستہ حالی کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ یہ شہر کے اہم سیاحتی علاقے کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے۔ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ رش کو سنبھالنے کے لیے اضافی عملہ تعینات کیا گیا ہے، خاص طور پر سیاحتی اوقات میں۔ ایک اہلکار نے کہا، ’’ہم مسلسل ٹریفک کو منظم کر رہے ہیں اور ڈائیورشن لگا رہے ہیں، لیکن گاڑیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔‘‘تقریباً 19.94 کروڑ روپے لاگت والے اس فور لیننگ منصوبے سے توقع ہے کہ سڑک پر ٹریفک کا دباؤ نمایاں طور پر کم ہوگا اور جھیل کے کنارے آمد و رفت بہتر ہوگی۔ایگزیکٹو انجینئر آر اینڈ بی، فرید خان نے کہا کہ تاخیر کی وجہ چند معمولی سرکاری کارروائیاں ہیں جو آخری مراحل میں ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ہماری طرف سے مکمل تیاری ہے۔ تمام ضروری رسمی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں اور باقی معمولی مسائل بھی جلد حل کر لیے جائیں گے۔ ہم بہت جلد کام شروع کریں گے اور اسے تیز رفتاری سے مکمل کریں گے۔‘‘خان نے مزید کہا کہ محکمہ منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے تمام تکنیکی اور سرکاری رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہے۔