اشرف چراغ
کپوارہ//شمالی ضلع کپوار ہ کے حد متارکہ پر واقع کیرن 30سال سے زائد عرصے تک نا مساعد حالات کی شدید لہر کے زیر اثر رہا ۔یہ وہ عرصہ تھا جب یہاں کے لوگ اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید مایوسی اور بے یقینی کا شکار تھے ۔آر پار گولہ باری ،دھماکو ں کے دیگر واقعات کی بہتات نے یہا ںکے لوگو ں کے ذہنو ں کو نفسیاتی طور پر اس قدر متا ثر کر رکھا تھا کہ ہر صبح کا کام کاج اور مزدوری کے لئے گھرو ں سے نکلنے والے شام کو گھر واپسی کی امید تک کھو بیٹھے تھے ۔وہ وقت تھا جب کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کیرن میں زندگی معمول کی جانب لوٹے گی اور یہا ں کے لوگ پھر سے سکو ن اورو مسرت و انبساط کی کیفیات سے لطد اندوز ہو سکیں گے ۔کپوارہ کے بنگس ،درنگیاری ،لولاب سمیت کیرن کو قدرت نے حسین و دلکش سیاحتی مقام سے نواز ہے وہ نہایت ہی خوبصورت ہے ۔لوگو ں کی دلی خواہش تھی کہ کیرن کو سیاحتی نقشہ پر لایا جائے اور اس کے لئے کیرن تک رسائی اور قیام تمام سولہیات کی فراہمی زیادہ سے زیادہ بہتر بنانا نا گزیر ہے ۔ گزشتہ6سالو ں کے دورا ن مقامی و غیر مقامی سیلانیو ں نے یہاں کی سیر کی جس کے نتیجے میں یہا ں کے بے روز گار نوجوانو ں نے اپنا روز گار کمانے کے لئے خوب محنت کی ۔رو اں موسم میں کیرن اور اس کے ملحقہ علاقوں کی دلکشی ورعنائی برف باری کے بعد مزید نکھر گئی ہے ۔برف باری کی وجہ سے یہا ں کے بلند پہاڑ وں پر اس قدر خوبصورتی چھا گئی کہ دیکھنے والے یہا ں کی سیر کرنے کے لئے بے تاب نظر آرہے ہیں ۔پورے کیرن کے متعدد علاقہ جن میں پاترو ،پتھرا اور کنڈین شامل ہیں سفید چاردر سے ڈھکے ہیں اور ان علاقوں میں سنو فیسٹول کے کافی امکان نظر آرہے ہیں ۔کیرن کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ ضلع انتظامیہ گزشتہ کئی سالو ں کے دوران ضلع کے متعدد سیاحتی مقامات میں سرمائی سیاحتی میلے منعقد کئے تاہم اگر امسال انتظامیہ کیرن میں ایک سر مائی سیاحتی میلہ منعقد کریں گے تو اس علاقہ کی کھوئی ہوئی شام و شوکت واپس لو ٹے گی ۔کیرن علاقہ کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ ملک تقسیم ہونے سے قبل کیرن ایک تجارتی مرکز کے نام سے جانا جاتا تھا اور لوگ اکثر یہا ں سے شاردا کا سفر کرتے تھے لیکن ملک تقسیم ہونے کے بعد کیرن کا ماضی ماند پڑ گیا ۔علاقہ کے لوگو ں کا کہنا ہے کیرن علاقہ کسی سیاحتی مقام سے کم خوبصورت نہیں ہے بلکہ اب وقت آگیا ہے کہ کیرن کو پوری طرح سے سیاحتی نقشے پر لایا جائے اور قدیم تہذیبی مقام کی طرف زیادہ سے زیاد ہ سیاحو ں کو راغب کرنے کے لئے اقدامات کرنا ضروری ہے ۔لوگو ں کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ کیرن میں ایک سر مائی سیاحتی میلہ منعقد کرے گی تو اس سے دینا کو ایک پیغام پہنچے گا کہ گزشتہ دہائیو ں کے دوران گن گرج میں زندگی گزارنے والے یہا ں کے لوگ امن بحال ہونے کے بعد سکون کی زندگی گزار رہے ہیں اور سر مائی سیاحتی میلہ منعقد کرنے سے سرمائی سیاحت کو ببھی فرو غ مل سکے ۔