عظمیٰ نیوز سروس
جموں //وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ انکی حکومت وندے بھارت توسیع کے پش منظر میںٹرینوں کی فریکوئنسی اور صلاحیت میں اضافہ چاہتے ہیں۔ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ جموں ٹرمینل سے سرینگر تک آنے والی ٹرین سروس، جو جمعرات کو شروع ہونے والی ہے، مرکزی زیر انتظام علاقے میں سیاحت کے شعبے کو نمایاں طور پر فروغ دے گی۔حکام نے بتایا کہ جموں اور کشمیر میں ریل رابطے کو فروغ دینے کے لیے، ایک خاص طور پر ڈیزائن کردہ وندے بھارت ایکسپریس 30 اپریل سے جموں اور سرینگر کے جڑواں دارالحکومتوں کے درمیان چلائی جائے گی۔پریمیم ٹرین سروس، جوکٹرہ اور سرینگر کے درمیان نو ماہ سے چل رہی ہے، اب اسے جموں توی تک بڑھایا جائے گا۔عبداللہ نے کہا کہ ٹرین سروس کی بہتر صلاحیت زیادہ مسافروں کو سفر کرنے کی اجازت دے گی، اس طرح رابطے میں بہتری آئے گی اور سیاحت کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا، “یہ یقینی طور پر(سیاحت کے شعبے کو)فروغ دے گا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ میں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ٹرین کی گنجائش اب تک محدود ہے۔ کٹرہ اور سرینگر کے درمیان صرف آٹھ بوگیوں کی ٹرین چلتی تھی۔ اب یہ بیس بوگیوں کی ٹرین ہوگی، جس کا مطلب ہے کہ زیادہ مسافر سفر کر سکیں گے۔”وزیر اعلیٰ نے امریکی صدر پر حملہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔سیاست کو “بہت گندی چیز” قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اختلافات کا اظہار زبانی اور جمہوری طریقے سے ہونا چاہیے، نہ کہ تشدد کے ذریعے۔جموں و کشمیر کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعلی نے کہا کہ خطہ کئی دہائیوں سے تشدد اور سیاسی رہنمائوں پر حملوں کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ “جموں و کشمیر میں ہم سے بہتر یہ کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ پچھلے 30-35 سالوں میں، مختلف سیاسی پارٹیوں کے بہت سے لوگ – چاہے وہ بی جے پی، نیشنل کانفرنس، کانگریس یا سی پی آئی (ایم)ہوں نے اپنے کارکنوں اور رہنمائوں کو گولیوں اور دہشت گردی سے کھو دیا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا،” ۔