گول //گول سب ڈویژن میں بجلی کی شدید قلت کو لے کر لوگوں نے برستی بارش میں احتجاج کیا ۔ حتجاجی مظاہریں نے حکومت و انتظامیہ پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ لوگ بہت سارے مسائل سے جوجھ رہے ہیں لیکن انتظامیہ کو ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے ۔ احتجاج کے دوران مقررین نے کہا کہ آج کا یہ احتجاج متنبہ کے طو رپر ہے اس سلسلے میں آنے والی سوموار کو دیگر مسائل پر بھی شدید احتجاجی مظاہرہ ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ آج کل جہاں شیو راتری چل رہے ہے، وہیں گزشتہ شب کو شب ِ معراج بھی تھا لیکن گول سب ڈویژن گھپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر ماہ پانچ سو سے زیادہ بلیں لوگوں کو آتی ہیں اور بجلی کہیں نہیں ہوتی ہے ۔ دہائیوں پرانی بوسیدہ کھمبے اور تاریں لگی ہوئی ہیں اور تب کے انتظام پر آج کا نظام چلایا جا رہا ہے یہ کیسے ممکن ہو سکے گا ۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہزاروں کی تعداد میں آبادی بڑھ گئی ،ہزاروں کنکشن بڑھ گئے اور بجلی وہی دہائیوں پرانی ہے ہمیشہ یہاں33KV بجلی کی ترسیلی لائن میں فالٹ رہتا ہے کا کہہ کر لوگوں کو ٹال دیا جاتا ہے ۔ مقررین نے کہا کہ یہ رویہ محکمہ بجلی کا تب ہوتا ہے جب بجلی کی شدید ضرورت ہوتی ہے ۔ گول بازار میں جہا ں بجلی کٹوتی بہت کم ہونی چاہئے ۔وہیں اس بازار کو اندھیرے میں رکھا جاتا ہے جبکہ دورافتادہ علاقوں سے کام کے سلسلے میں یہاں آنے والے صارفین کو بجلی کی عدم دستیابی کے نتیجے میں بار بار اپنے کام کرانے آنا پڑتا ہے ، کہیں فوٹو سٹیٹ نہیں تو کہیں کمپیوٹر نہیں چلتا اس طرح سے نہ صرف عام لوگ بجلی کی شدید کٹوتی سے پریشان ہے بلکہ تاجر طبقہ بھی کافی پریشان ہے کیونکہ انہیں جہاں دکانوں کا کرایہ دینا ہوتا ہے وہیں روزگار کا مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے ۔ مقررین نے کہا کہ اگر محکمہ پی ڈی ڈی کا یہی رویہ رہا تو اس کے خلاف بڑے قدم اٹھایا جائے گا ۔ وہیں اس موقعہ پر مقررین نے کہا کہ پورے سب ڈویژن میں سوموار کو ایک بہت بڑا احتجاج ہو گا ،جہاں لوگوں کے ہر مسئلے کو اجاگر کیا جائے گا اور حکومت وانتظامیہ کو چاہئے کہ وہ خواب خرگوش سے بیدار ہو جائے اور عیاش پرستی کو چھوڑ کر عوامی مسائل کی طرف دھیان دے ۔