نئی دہلی// بجلی کی پیداوار پر عائد مختلف ٹیکسز کی وجہ سے عام صارف کو سالانہ 25 ہزار کروڑ سے زیادہ کے بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں اضافے کے درمیان کوئلہ پر لگائے جانے والے ٹیکس اور سیس کو عام طور پر نظرانداز کئے جانے کے سبب مسائل کے درمیان نظرانداز کیا جاتا ہے۔ جبکہ کوئلے پر مختلف اقسام کے ٹیکس صارفین کے ماہانہ بجلی کے بل پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔کوئلے کی پیداوار سے لے کر استعمال تک بہت سارے ٹیکسز اور سیس لگائے جاتے ہیں ، جس کا براہ راست اثر آخر میں پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت پر پڑتا ہے۔ اس وقت کوئلہ ملک میں بجلی کی پیداوار کا تقریبا 55 فیصد بنتا ہے اور یہ ملک بھر میں بجلی کی پیداوار(تھرمل پاور جنریشن) کے لئے ایک بنیادی ذریعہ ہے۔