کپوارہ//نالہ ٹالری پر نیاپل تعمیر نہ کئے جانے کی وجہ سے باکی آکرہندوارہ کے لوگوں کو مشکلات درپیش ہیں جبکہ نالہ کہمیل پربھی متعدد مقامات پرگزشتہ بارہ برسوں سے پلوں کی تعمیر تشنہ تکمیل ہونے کی بناپر لوگ نالاں ہیں۔باکی آکرہندوارہ کے لوگ گزشتہ آٹھ سال سے اس انتظار میں ہیں کہ نالہ ٹالری پر پل تعمیر کیاجائے گاتاکہ ان کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو۔سال2014کے تباہ کن سیلاب میں نالہ ٹالری پرموجود پل کو زبردست نقصان پہنچااورپل پر گاڑیوں کی آمدورفت کوروک دیاگیا۔مقامی لوگوں نے اگرچہ محکمہ تعمیرات عامہ سے کئی بار رابطہ کرکے اس پل کو تعمیر کرنے کامطالبہ کیاتاہم گزشتہ آٹھ برس سے اس پل کو تعمیر کرنے کیلئے کوئی قدم نہیں اُٹھایا گیا۔مقامی لوگوں کے مطابق پل کونقصان پہنچنے کے بعد سے انہیں لمبی مسافت طے کرکے وڈی پورہ سے باکی آکر پہنچناپڑتا ہے۔مقامی لوگوں نے کہا کہ محکمہ تعمیرات عامہ نے اگرچہ پل کی مرمت کی تاہم پل پرصرف ہلکی گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دی گئی ۔لوگوں کاکہنا ہے کہ پل کی عدم دستیابی کی وجہ سے انہیں سخت مشکلات درپیش ہیں اور کئی بار علاقہ میں آتشزدگی کے بعد فائر برگیڈ کولمبی مسافت طے کرکے باکی آکر پہنچنا پڑااوراس دوران آگ کی وجہ سے جان ومال کا کافی نقصان ہواتھا۔ایک مقامی شہری محمد سلیم نے بتایا کہ علاقہ میں لوگوں کو تعمیرات کیلئے درکار مواد بھی لانے میں دشواریاں پیش آتی ہیں کیوں کہ نقصان زدہ پل پر سے بھاری گاڑیوں کا چلنا کسی خطرے سے خالی نہیں ،اور لوگوں کو تعمیراتی مواد دیگرراستوں سے لانا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ان کا خرچہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ا س دوران نالہ کہمیل پرمتعدد پل گزشتہ بارہ برس سے تشنہ تکمیل ہیں۔تمنہ چوکی بل کے پل کا سنگ بنیاد بارہ سال قبل ڈالاگیا لیکن تاحال مذکورہ پل کی تعمیر مکمل نہ ہوسکی۔تمنہ کے مقامی سماجی کارکن ریاض احمد نے بتایا کہ اس پل کواس مقصد کیلئے تعمیر کیا جاناتھاتاکہ چوکی بل اورعلاقہ رامحال کاجوڑ ممکن ہوسکے،لیکن پل مکمل نہ ہونے کی وجہ سے نالہ کیمہل کے آر پار دیہات کا رابطہ نہ ہوسکا۔ ۔مقامی لوگو ں کے مطابق پل کے آدھے حصہ کو گزشتہ12سال میں صرف پیدل چلنے کے قابل بنایا گیا ۔اس دوران آلوسہ اور شہر کو ٹ کے درمیان نالہ کہمل پر 2008میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے ایک پل کا سنگ بنیاد رکھا ،تاہم 12سال میں اس پل کے صرف دوستون ہی تعمیرکئے گئے ۔آلوسہ اور اس کے مضافات کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ جب پل کا سنگ بنیاد رکھا گیا تو نالہ کہمل کے آ ر پار لوگو ں نے راحت کی سانس لی تاکہ ان کا عبور و مرور آسان بن جائے لیکن 12سال گزر جانے کے باجود بھی پل مکمل نہ ہو سکا ۔بنگر گنڈ ترہگام میں نالہ کہمل پر قائم پل کو 2014کے تباہ کن سیلاب میں نقصان پہنچ گیا اور یہ پل گا ڑیو ں کی آمد و رفت اور عام لوگو ں کے پیدل چلنے کے قابل بھی نہیں رہا ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ کئی بار پل کی مرمت کا کام ہاتھ میں لیا گیا لیکن 7سال گزر جانے کے با جود بھی اس پل کا کام مکمل نہیں کیا گیا اور ترہگام سے ویلگام اور ویلگام سے ترہگام گاڑیو ں کو متبادل سڑک کا سہارا لینا پڑتا ہے اور 3کلو میٹر اضافی مسافت طے کرنا پڑتی ہے ۔مقامی لوگو ں نے گور نر انتظامیہ سے ان پلوں کی تعمیر مکمل کرنے کی اپیل کی ہے ۔