بانہال//بانہال میں فور لین ٹنل کے متصل فلائی اوور میں چھوٹی دراڑیں پڑ گئیں جس کے فوراً بعد ٹریفک کو دوسری جانب موڈ دیا گیا۔ بانہال قاضی گنڈ فورلین ٹنل کو ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ہے لیکن ابھی تک ٹنل کا سرکاری طور پر افتتاح نہیں کیا جاسکا ہے۔ پیر کو ٹول پلازہ بانہال اور بانہال قاضی گنڈ ٹنل کے درمیان فلائی اوور کے ایک حصے میں چھوٹی دراڑیں پڑ گئیں اور وادی سے جموں آنے والے ٹریفک کو یہاں روک کر دوسری جانب موڑاگیا ہے۔ نویگہ تعمیراتی کمپنی کے حکام نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ فلائی اوور کے ایک چھوٹے سے حصے پر چھوٹی سی دراڑیں پیدا ہوئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ معمولی مسئلہ ہے اور اس پر دوبارہ ٹریفک چلانے کے لیے مرمت کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اس ٹنل میں 4 اگست سے ٹریفک کو مکمل طور پر چھوڑا گیا جبکہ ٹنل کے دونوں طرف ٹول ٹیکس کی وصولی کا سلسلہ 21 آگست سے شروع کیا گیا ہے۔ عام لوگوں کا الزام ہے کہ نویگہ انجینئرنگ لمیٹیڈکمپنی نے فلائی اوور پروجیکٹ میں مبینہ طور پر غیر معیاری میٹریل کا استعمال کیا ہے، جس کے نتیجے میںگاڑیوں کے چلانے کے چند ہفتوں میں ہی فلائی اوور میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ انہوں نے معاملہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔بانہال قاضی گنڈ فورلین ٹنل ساڑھے آٹھ کلومیٹر لمبی ہے اور اس پروجیکٹ کو قریب اکیس ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کا کام نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا نے 2011 میں نویگہ کمپنی کو سونپ دیا تھا ۔