بانہال// اپنی تعمیر کے آخری مراحل سے گزر رہے بانہال قاضی گنڈ فورلین ٹنل پر جمعرات کی رات سینکڑوں ورکر ، اسوقت ہڑتال پر چلے گئے جب ٹنل کے راستے سے کشمیر سے جموں کی طرف جانے والی ایک پولیس بس میں سوار پولیس اہلکاروں نے ٹنل کے اندر کام کر رہے ورکروں کی مبینہ طور پر مار پیٹ کی ۔ مارپیٹ کے اس واقع میں کئی ورکروں کو چوٹیں آئیں۔جمعہ کی صبح سے ہی فورلین ٹنل کے بانہال سرے پر کام چھوڑ ہڑتال اور دھرنے پر بیٹھے ورکروں کا الزام ہے کہ گزشتہ رات ایک پولیس بس ٹنل سے گزرنے کیلئے آئی اور جاری کام کی وجہ سے وہاں پڑی رکاوٹوں کو ہٹائے جانے تک بس کو رکنے کیلئے کہاگیا ،تاہم جموں کی طرف نکلنے کی جلدی کے عالم میں وہاں کام کرر ہے ورکروں کی پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کرنا شروع کی جس کی وجہ سے ورکر مشینری اور گاڑیوں کو وہیں چھوڑ کر بانہال کی طرف بھاگ نکلنے پر مجبور ہوئے اور آدھی رات سے ہی احتجاجی دھرنے پر بیٹھ گئے۔انہوں نے کہا کہ مارپیٹ کے بعد پولیس بس واپس چلی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کئی ورکروں کی مارپیٹ کی گئی اور مبینہ طور ایک کی گردن پر لوہے کے سریا سے وار کیا گیا ہے ۔ ایس ایچ او بانہال نعیم الحق متو نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ واقع ٹنل کے اندر کشمیر پولیس کی حدود میں پیش آیا ہے اور تمام معاملہ قاضی گند پولیس اور دیگر حکام سے اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضروری کارروائی کی یقین دہانی کے بعد ہڑتال کو جمعہ دوپہر بعد سے ختم کرکے کام کو دوبارہ بحال کیا گیا اور تمام احتجاجی ورکر کام پر واپس لوٹے۔ اس دوران ٹنل کی تعمیراتی کمپنی کے چیف منیجر منیب ٹاک نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ٹنل کے اندر کام کرنے والے ورکروں کے ساتھ زیادتی کا معاملہ پیش آیا ہے اور معاملہ ڈی آئی جی ساو¿تھ کشمیر رینج اور دیگر پولیس اور سول حکام سے اٹھایا گیاہے ۔ انہوں نے کہا ٹنل کے اندر الیکٹرو مکینیکل ورک جاری ہے اور اس بس کے ٹنل کے راستے سفر کرنے کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔