قتل کا مقدمہ درج، خاتون گرفتار
سمت بھارگو
راجوری//راجوری ضلع کے تھنہ منڈی علاقے کے بہروٹ گاؤں میں زمینی تنازعہ کے معاملے پر ایک شخص کو مبینہ طور پر اس کے بڑے بھائی اور دیگر اہل خانہ نے قتل کر دیا۔ واقعہ کے بعد علاقے میں سنسنی پھیل گئی جبکہ پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔مہلوک کی شناخت 45 سالہ منیر حسین ولد حسن محمد ساکن بہروٹ، تھنہ منڈی کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ منگل کی شام اس وقت پیش آیا جب زمین کے تنازعہ کو لے کر دونوں بھائیوں کے درمیان جھگڑا ہوا، جو بعد میں پْرتشدد تصادم میں تبدیل ہو گیا۔ذرائع کے مطابق منیر حسین اور اس کے بڑے بھائی کے درمیان زمین کا تنازعہ کئی برسوں سے چل رہا تھا اور اس معاملے پر اس سے قبل بھی دونوں کے درمیان دو مرتبہ جھگڑا ہو چکا تھا۔
منگل کی شام ایک بار پھر تنازعہ شدت اختیار کر گیا، جس دوران مبینہ طور پر بڑے بھائی اور اس کے اہل خانہ نے منیر حسین پر حملہ کر دیا۔پولیس حکام نے بتایا کہ حملے کے دوران منیر حسین کو شدید چوٹیں آئیں، خاص طور پر اس کے سر پر گہری ضربیں لگیں جس کے باعث اس کی حالت تشویشناک ہو گئی۔ زخمی حالت میں اسے فوری طور پر سب ضلع ہسپتال تھنہ منڈی منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اسے گورنمنٹ میڈیکل کالج ایسوسی ایٹڈ ہسپتال راجوری ریفر کیا گیا، تاہم وہ اسپتال پہنچتے ہی دم توڑ گیا۔واقعہ کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقتول کے بڑے بھائی، اس کی اہلیہ اور بچوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ایک خاتون ملزمہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے اور انہیں جلد گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔پولیس نے بتایا کہ مقتول کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے گورنمنٹ میڈیکل کالج ایسوسی ایٹڈ ہسپتال راجوری کے مردہ خانہ میں رکھا گیا تھا جہاں قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی تاکہ آخری رسومات ادا کی جا سکیں۔ادھر مقتول کے اہل خانہ اور مقامی لوگوں نے واقعہ پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ خاندان کے افراد نے کہا کہ منیر حسین کو بے رحمی سے قتل کیا گیا اور انہیں انصاف فراہم کیا جانا چاہیے۔پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور واقعہ میں ملوث کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا۔ حکام کے مطابق جلد ہی تمام ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔