جموں// بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جموں وکشمیر یونٹ کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر چندر پرکاش گنگا نے کہا کہ مرکزی حکومت کو کشمیر میں چین کی پالیسی اختیار کرکے باغیوں کو کریش کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور اسے ہم سے کوئی چھین نہیں سکتا۔ متنازیہ بیانات کے لئے مشہور چندر گنگا نے پیر کے روز یہاںپارٹی کی طرف سے منعقدہ ایک تقریب میں کہاکہ ’کشمیر دیش کا اٹوٹ انگ ہے۔ یہ کہیں جانے والا نہیں۔ میں یہ کہتا ہوں کہ ایک بار ایسا فیصلہ لینا چاہیے جیسے چین نے لیا تھا۔ دیش کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو کریش کرنا چاہیے‘۔ انہوں نے کہا ’این سی اور پی ڈی پی نے کشمیر کا بیڑا غرق کردیا ہے۔ ان کو سچ بولئے کہ جو آپ کو مل چکا ہے، اس سے زیادہ آپ کو کچھ نہیں ملنا۔ نہ 1953 سے پہلے کی پوزیشن اور نہ سیلف رول ملنے والا ہے۔ آپ یہاں کی جنتا کو گمراہ نہ کریں۔ بہت خون خرابہ ہوچکا ہے‘۔ چندر گنگا نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے خوش کرنے والی پالیسی اب بند ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا ’آج بڑی بحث کی ضرورت ہے۔ پورے دیش کو اس میں شامل ہونا چاہیے۔ یہ خوش کرنے کی پالیسی اب نہیں چلے گی۔ محبوبہ مفتی کا منان وانی پر بیان سب سے بڑی بدقسمتی ہے۔ انہوں نے بھارتی آئین کی قسمیں کھائی ہیں۔ جس شخص نے دیش کے خلاف ہتھیار اٹھائے، اس کو آپ بے گناہ کہتے ہو۔ میڈم کو اب اپنے آپ میں تبدیلی لینے چاہیے۔ بھارت نے کبھی کسی ملک پر حملہ نہیں کیا ہے۔ اس ملک کی روح صوفیانہ ہے‘۔ بتادیں کہ بی جے پی لیڈر چندر پرکاش گنگا متنازیہ بیان بازی کے لئے مشہور ہیں۔ وادی کشمیر میں گذشتہ برس اپریل میں ان کی ایک ویڈیو نے شدید غصہ اور ناراضگی پیدا کی تھی جس میں انہیں وادی میں پتھراؤ کرنے والوں کے خلاف گولیوں کے استعمال کی وکالت کرتے ہوئے سنا گیا تھا۔ ویڈیو میں بی جے پی لیڈر کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا تھا کہ کشمیر میں پتھراؤ کرنے والوں اور ملک مخالف عناصر کے خلاف گولیوں کا استعمال واحد حل ہے۔ چندر گنگا کو امسال اپریل میں کٹھوعہ میں آٹھ سالہ کمسن بچی کی وحشیانہ عصمت دری اور قتل کے ملزمان کے حق میں کھڑے ہونے کی وجہ سے بحیثیت وزیر مستعفی ہونا پڑا تھا۔