ناک کی ہڈی ٹیڑھی ہونا اور ماس چڑھنابڑی وجوہات میں شامل
پرویز احمد
سرینگر //ناک میں جلن، سنسناہٹ یا جلنے جیسا احساس عموما ًناک کی اندرونی جھلی میں خارش یا سوزش کی وجہ سے ہوتا ہے، جو زیادہ تر خشکی، الرجی یا انفیکشن کے باعث پیدا ہوتا ہے۔ یہ علامت عموماً رائنائٹس (Rhinitis) میں دیکھی جاتی ہے، جس میں ناک کے ٹشوز سوج جاتے ہیں۔ناک میں جلن/ سنسناہٹ کی عام وجوہات میںخشک ہوا / پانی کی کمی ہے۔ کم نمی (خاص طور پر سردیوں میں) ناک کے راستوں کی نمی کم کر دیتی ہے، جس سے جلن اور خشکی محسوس ہوتی ہے۔ الرجی عام طور پرپولن، پالتو جانوروں کے بال، یا دھول مدافعتی ردعمل پیدا کرتے ہیں، جس سے ناک میں سوزش اور جلن یا خارش ہوتی ہے۔سانس کی نالی میں انفیکشن سے نزلہ، فلو یا وائرس جسم کے دفاعی عمل کے دوران ناک میں جلن پیدا کر سکتے ہیں۔تحریکی مادے (Irritants): صفائی کے کیمیکلز(جیسے بلیچ)، دھواں اور آلودگی نان الرجک رائنائٹس پیدا کر سکتے ہیں، جس میں الرجی کے بغیر بھی جلن ہوتی ہے۔مرچ مصالحے والی غذائیںگسٹٹری رائنائٹس” پیدا کر سکتی ہیں، جس سے ناک میں سنسناہٹ ہوتی ہے۔
ناک کھولنے والے اسپرے کا زیادہ یا طویل استعمال الٹی سوزش (rebound inflammation) پیدا کر سکتا ہے۔چھینک آنا دراصل جسم کا ایک قدرتی دفاعی عمل ہے۔ جب ناک کے اندر کوئی چیز خارش یا جلن پیدا کرتی ہے تو دماغ فورا ًردِعمل دے کر زور سے ہوا خارج کرواتا ہے تاکہ وہ چیز باہر نکل جائے۔چھینکیں آنے کی عام وجوہات:الرجی، گرد، پولن، پالتو جانوروں کے بال یا دھول سے ناک حساس ہو جاتی ہے۔ وائرل انفیکشن ناک کی جھلی کو متاثر کرتے ہیں، جس سے بار بار چھینکیں آتی ہیں۔تیز خوشبو یا دھواں، پرفیوم، سگریٹ کا دھواں یا کیمیکل ناک کو چبھتے ہیں۔ناک کے اندر خشکی بھی جلن پیدا کرتی ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ عام لفظوں میں ناک کے ذریعے سانس لینے میں تکلیف ہونے کا مطلب ناک کی ہڈی کا ٹیڈھا ہونا یا طبی کی اصطلاع میں اس کا مطلب ناک کی ہڈی سے غضروف(کارٹلیج) کا الگ ہونا ہے۔ اس بیماری سے متاثرہ لوگوں کی ناک ٹیڈھی ہوجاتی ہے اور اس کی وجہ سے وہ نہ صرف سانس لینے میں تکلیف محسوس کرتے ہیں بلکہ وہ بار بار سردر، ناک میں سوزش ، اور الرجی کے شکار ہوجاتے ہیں۔ سکمز میڈیکل کالج بمنہ کی تازہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان مریضوں میں مردوں کی شرح 35فیصد جبکہ خواتین کی شرح 65فیصد ہے۔ اس کی شرح نوجوانوں میںزیادہ ہوتی ہے اور بیماری جینیاتی طور پر بچوں میں پائی جاتی ہے۔ کشمیر صوبے میں 4562بچوں پر کی گئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 25فیصد بچوں میں18فیصد کی عمر ایک سال تک کی ہوتی ہے۔ کان، ناک اور گلے کے ماہر ڈاکٹر گل اشفاق کا کہنا ہے کہ ناک کی ہڈی اور کارٹلیج الگ ہونے کی وجہ سے نہ صرف مریضوں کو سانس لینے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے بلکہ سونگھنے کی صلاحیت بھی کافی کم ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹر اشفاق نے بتایا کہ مکمل علاج جراحی کے ذریعے اس کا ٹیڈھا پن ٹھیک کرنا شامل ہیں۔