مینڈھر//سنیچر کے روز ہوئی بارش نے محکمہ دیہی ترقی و پنچایتی راج کی مینڈھر میں قلعی کھل کر رہ گئی جب مینڈھر قصبہ و گردونواح کے علاقوں میں پانی سڑکوں پر بہنے کے ساتھ ساتھ دکانوں اور مکانات کے اندر بھی داخل ہواجس سے لاکھوں روپے مالیت کا نقصان ہواہے۔مقامی دکانداروں اور لوگوں نے بتایاکہ قصبہ مینڈھر کی صفائی ستھرائی کیلئے محکمہ کی طرف سے لاکھوں روپے بولی لگائی جاتی ہے لیکن صفائی کاکوئی بندوبست نہیں اور اگر کبھی صفائی کی بھی جائے تو ساری گندگی جمع کرکے نالیوں میں پھینک دی جاتی ہے جس وجہ سے یہ نالیاں بارش میں بند ہوجاتی ہیں۔ان کاکہناہے کہ دکانداروں کو خود کئی مرتبہ صفائی کرواناپڑتی ہے۔ان کاکہناہے کہ ہر سال بارش کے دوران ایسی ہی صورتحال کاسامناکرناپڑتاہے لیکن حکام کو ٹس سے مس نہیں۔دکانداروں کاکہناہے کہ اڈہ بولی پر وصول ہونے والی رقم کا حساب دیاجائے کیونکہ جب صفائی ہی نہیں کی جارہی ہے تو وہ پھر پیسہ کہاں جاتاہے۔ان کاکہناہے کہ نالیوں کی گندگی کو نالیوں میں پھینک دیاجاتاہے اور ایسا کام تو وہ خود بھی کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ان کا ہرسال لاکھوں روپے کا نقصان ہوتاہے لیکن نکاسی کے نظام میں کوئی بہتری نہیں لائی جارہی ہے۔بی جے پی لیڈر ستیش چندر شرما نے محکمہ دیہی ترقی اور انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ وہ لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ ذاتی مداخلت کرکے نکاسی کے نظام کو بہتر کیاجائے اور لاپرواہی برتنے والے افسران و ملازمین کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔رابطہ کرنے پر تحصیلدار مینڈھر ڈاکٹر وکرم کمار نے بتایاکہ بارش سے نقصانات ہونے کی اطلاعات سامنے آتے ہی انہوں نے صبح ہی صفائی کرمچاریوں سے نالیوں کی صفائی کروانے کی ہدایت جاری کی تھی۔تاہم لوگوں کاکہناہے کہ صفائی نہیں کروائی گئی۔وہیں بلاک ڈیولپمنٹ افسر مینڈھر کاکہناہے کہ نالیوں کی صفائی کروائی گئی ہے لیکن زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے۔دکانداروں نے کہاکہ صفائی نہیں کروائی جارہی اور محکمہ کے ملازمین اپنے افسران کے سامنے جھوٹ بول رہے ہیں۔