نہ سلیقہ مجھ میں کلیم کا نہ قرینہ تجھ میں خلیل کا
میں ہلاک جادوئے سامری،تو قتیل شیوۂ آذری
اس زیاں خانے میں حصول دنیا کی خاطرتگا پوئے دمادم،اولاد آدم کی فطری کمزوریوں میں ایک بڑی کمزوری ہے اور اس شبانہ روز کشمکش کا انجام حزن و ملال اور یاس و حسرت کے سوا کچھ بھی نہیں اگر اس کشمکش حیات کو زنجیر عالمگیر کی واضح حدود کے عین مطابق اور اسوہء اسلاف کی طرز حیات کے سانچے میں نہ ڈھالاجائے۔
انسانی عقل پے پردہ ڈالنے کے لئے روز اول سے ہی آفات ثلاثہ نے ہر دور میں قہر برسایا ہے اور یہ آفات ثلاثہ ہر سماج کا ناقابل تنسیخ حصہ بھی ہیں۔یہاں مراد زر،زن اور زمین سے ہے۔یہی وہ تین نعماء ہیں جن کے بغیر انسانی بقاء نا ممکن ہے البتہ ان میں بیجا تصرف فی زمانہ مردم کش داستانیں رقم کر چکا ہے اور ہر گذرتے دن کے ساتھ ہوائے نفسانی کا یہ سیل رواں کسی بحر بیکراں کی طرح انسانی اقدار کو بہا کر تہہ گرداب دفن کر رہا ہے مگر ا نسان ہے کہ نفس امارہ کی یلغار نے اسکے ضمیر کو بے جان لاشہ بنا دیا ہے۔اس مرض مہلک نے ,ہفت اقلیم کی کتنی نسلوں کو بے نسل ،بے اصل اور بے فصل کردیا۔چشم گردوں، اولاد آدم کی اس حماقت پے گریاں بھی اور نالاں بھی ہے اور ابلیس خنداں بھی ہے، فرحاں بھی ہے۔ہماری بربادی کا جشن منانے والے ابلیس کو لب بجاں اور بے نشاں کرنے کے لئے ہمارے درمیاں نسخہ فرقاں اب بھی اسی تب و تاب کے ساتھ موجود ہے مگر حالت یہ ہے کہ کل روز حشر بارگاہ الٰہی سیدرد فرقت کا شکوہ کر یگا۔ یہ چراغ یا تو سرے سے اکثر گھروں میں موجود ہی نہیں ہے یا اگر ہے بھی تو بند غلافوں میں طاق نسیاں کی زینت بنا ہوا ہے۔روشن چراغوں کو بند صندوقچوں میں ڈالنے سے کبھی راہ کے اندھیرے دور نہیں ہوا کرتے۔خارزار حیات کی معرکہ آراء سے نبرد آزماء ہونے اور سفینہ حیات کو ساحل قلزم پے لے جانے کے لئے اسوہء کلیمی کے بغیر دعوائے کلیمی خود فریبی کا دام آہن ہے کہ جس میں اٹک کر فرار کی ساری راہیں مسدود ہو جاتیں ہیں۔ مصائب کے اس دلدل کی سرحدیں وسیع سے وسیع تر ہوتی جا رہیں ہیں۔زمین و زماں،مکیں ومکاں،نیرنگئی دوراں کے صدموں سے برابر شکستہ ہے اور ہرنفس تسکین خاطر کی دولت سے محروم ہے۔مقام حیرت ہے کہ ہماری طرز فکر اور سوئے اعمال نے کائنات کی وسعتوں کو اس حد تک مکدر کر دیا ہے کہ کرہء ارض کا کوئی حصہ نہی بچا ہے جہاں پے عفت و عصمت کا دامن تار تار نہ ہو رہا ہو، نا حق خون آدم بہہ نہ رہا ہو،ظلم کے شعلے نہ بھڑک رہے ہوں،آہ و فغاں اور چیخ و پکار کا غلغلہ نہ ہو،آہوں اور کراہوں کی بارش نہ ہو رہی ہو،حق تلفی اور جبر و استبداد کا دور دورہ نہ ہو،بے راہ روی اور بد مستی کا طوفاں نہ امڈ رہا ہو اور نوع انساں نوع انساں کا شکاری نہ ہو۔
اس ساری نحوست کا بنیادی سبب راست گوئی سے انحراف ہے چونکہ راست گوئی ایک ایسی ڈگر ہے جس پے قدم ڈالتے ہی انسانی سوچ میں تبدیلی اور اعمال میں اعتدال اور اصلاح کالا شعوری طور آغاز ہو جاتا ہے جس سے رفتہ رفتہ فہم و فراست اور شعور تنزل اور تذبذب کے بھنور سے نکل کر رفعت اور عروج کے دائرۂ سیمیں اور حلقۂ زریں کے بلند و بالا میناروں پے مثل آفتاب،امیدوں کی سنہری کرنیں بکھیرتے ہوئے انسانی وجود کو اعزاز بخشتا ہے۔
یہی وہ اعزاز ہے جو اس حیوان ناطق کو باقی ماندہ مخلوق سے ممتاز اور منفرد بناتا ہے اور یہی سے عروج آدمی خاکی کی مہم جوئی کی بانداز احسن شروعات کا سلسلہ جاری ہوتا ہے اور یہ شکستہ انجم بدر کامل کا دلکش منظر پیش کرتا ہے۔تخلیق کے اس شاہکار کی منزل حد افلاک سے بہت آگے ہے مگر اس سفر کو طے کرنے کے لئے خالق کائنات نے ہر دور میں اور ہر قریہ میں وقفے وقفے سے پیغمبروں کو معجزات اور صحائف دے کر نسل انسانی کی رہبری کا سامان بہم پہنچایا اور بالآخر ایک عظیم پیغمبر کو ایک عظیم معجزے کے ساتھ بھیج کر رہتی دنیا تک ساری انسانیت پے احسان کیا۔یوں تو آفتاب ختم رسالت کی ذات مقدس ہی معجزات کا آمیزہ تھی تاہم رسالت مآب کی ذات مطہرہ پے نازل شدہ کلام ایسا عدیم المثال معجزہ ہے جسکی جامعیت،فصاحت،بلاغت اور تاثیر پے نا کبھی کوئی حرف آیا اور نہ کبھی آئیگا۔انشا ء اللہ۔
ابدی فلاح اور رضائے الٰہی کا شرف کیونکر ہماری مقدر بن سکتاہے ؟اس ہدف کو پانے کے لئے ہمارے لئے حشر و نشر اور ثواب اور عذاب کی حقیقت کو تسلیم کرنے کے ماسوا کوئی متبادل نہیں بچتا اور عقائد کی اصلاح اور ایمان کی اصل کا یہی نقطہ آغاز بھی ہے۔جب یہ فکر ہمارے دل میں پیوست ہو جائے تو اللہ کا خوف ہمیں راست گوئی اور راست روی اپنانے کا خوگر بنائیگا۔یہی دعوت ہمیں فرقان حمید کے دبستاں سے ملتی ہے۔
قرآن مقدس اور حدیث رسول کے الفاظ پے غور کرنے کے بعد اگر ہم اپنے نفس کا سرسری تزکیہ بھی کریں تو ہمارے سامنے یہ تلخ حقیقت اظہر من الشمس ہو جائیگی کہ چند اسلامی شعائر کو بجا لانے کے باوجود بھی ہماری اکثریت اب بھی سچ سے کوسوں دورخود فریبی کے صحراؤں میں بھٹک رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ قوم بڑی آسانی کے ساتھ خلیفتہ الارض کے منصب سے معزول ہو کر وقت کے فراعنہ اور نماردہ کی نگاہوں میں ذلیل ہے اور اس قوم کے وجود کا دارو مدار کسی دور میں خراج دینے والی قوم کے پس خوردہ لقموں پے ہے۔
قارئین محترم سچ کیا ہے؟ سچ در اصل وہ ضابطہ حیات ہے جس پے عمل پیرا ہونے سے ہر دور میں،ہر حال میں اور ہر مقام پے بنی نوع انسانکے سیاسی ،سماجی، اقتصادی، معاشی، تواریخی، جسمانی، تعلیمی، طبعی، عائلی، انفرادی، اجتماعی اور خانگی و غیرہم مسائل کا مکمل اور قابل قبول حل موجود ہو اور بلاشبہ ان منجملہ تقاضوں کا سامان تشفی قرآن مقدس میں موجود ہے۔اس لئے امت مرحومہ کے قائدین اور زعماء پے ایک سنگین ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس خفتہ ضمیر قوم کو خواب غفلت سے جگائے۔
موجودہ سماج میں نوجوانوں کی ایک کثیر تعداداعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہے اور اصلاح معاشرہ میں انقلاب بر پا کرنے کی استعداد اور اہلیت انکے وجود میں بدرجہ اتم موجود ہے البتہ مستقبل کی ضمانت کے اس گرانمایہ لشکر کی رگ و پے میں ذرا سی تحریک ڈالنے کی ضرورت ہے۔تا حال اس قیمتی اثاثے کی بے پناہ صلاحیتیں لا حاصل مشاغل میں صرف ہو رہی ہیں اور اس صورتحال سے بڑے جگر کباب ہو رہے۔اگر ہماری علمی صلاحیتیںمادی وسائل کے حصول تک ہی محدود رہیں تو ہماری ذہنی استعداد اور شتر باربردار کی جسمانی قوت کا واجبی فرق معدوم ہو جاتا ہے۔انسانیت کے فطری امتیاز اور اعزاز کو باقی رکھنے کے لئے وقت نکل جانے سے پہلے ہمیں دستور حیات کے دامن کو دو دو ہاتھوں تھامنا ہوگا۔
پتہ۔نیل چدوس،تحصیل بانہال،ضلع رام بن
فون نمبر۔ 8493990216
(نوٹ۔چراغ حرم سے مطلب مسلمان اور طرز طوا ف سے اسلامی زندگی اور زنجیر عالمگیر سے قرآن مقدس ہے)