سرفراز احمد ٹھکر،پونچھ
یوٹی جموں کشمیرکے سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے لوگوں کی دیرینہ مانگ کو پورا کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے سال 2019 میں یہاں ڈگری کالج کو منظوری دی تھی۔ جس سے یہاں کے طلبہ و طالبات کو اپنے تابناک مستقبل کی امید کی کرن نظر آنے لگی تھی۔ ابتدائی طور پر کالج کی کلاسیں بلاک ترقیاتی دفتر راجپورہ منڈی میں شروع کرنے کا فیصلہ ہوا، بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس فیصلہ کے بعد ہی عالمی وبا کرونا وائرس کی وجہ سے پورے ملک کے ساتھ ساتھ یہاں کے تعلیمی ادارے بھی بند ہوگئے۔ جس سے بچوں کی تعلیم کے دو سال بری طرح متاثر ہوئے۔ سال 2021 میں وبا کی شدت میں قدرے کمی آئی تو ایک بار پھر سے تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا سلسلہ بحال ہوا۔ تعداد طلباء بڑھنے پر بلاک ترقیاتی دفتر کی عمارت درس و تدریس کے لئے ہر طرح سے ناکافی تھی، کیونکہ اس عمارت میں ایک ہال اور محض چند کمرے تھے۔ اس معاملے میں کالج کے ہی سمسٹر اول کے ایک طالب علم محمد محسن جن کی عمر 19 سال ہے،سے جب بات کی گئی تو انہوں نے کہا’’یہاں صرف ایک ہال ہے اور محض چند کمرے ہیں، ایک ہال میں تین سمسٹرز کی کلاسیں کیسے لگائی جا سکتی ہیں؟، ہم مجبوراً باہر بیٹھ کر کلاسیں کرتے ہیں۔ لیکن سڑک نزدیک ہونے کی وجہ سے یہاں بھی ہم سکون سے نہیں پڑھ سکتے کیونکہ یہاں گاڑیوں کا شور ہوتا ہے۔ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ یہاں جلد سے جلد عمارت کا کام شروع کیا جائے۔‘‘
اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحصیل انتظامیہ نے بی ڈی او آفس کے بالکل پاس ہی مڈل اسکول راجپورہ کے بچوں کو پٹوار خانہ راجپورہ میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ فی الحال یہاں کالج کے طلبا کو جگہ فراہم کی جا سکے۔ مڈل اسکول کے بچوں نے کچھ دن ہی پٹوارخانہ کی عمارت میں کلاسیں لگائیں لیکن یہاں بنیادی سہولیات جیسے پینے کا پانی اور بیت الخلا وغیرہ نہ ہونے کی وجہ سے ا سکولی بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تو مجبوراً سکولی بچوں کو واپس اپنے اسکول میں ہی ڈیرہ ڈالنا پڑا۔ اس سلسلے میں جب اسکولی طلبہ و طالبات سے بات کی تو پتہ چلا کہ واقعی اِن کی مانگ بالکل جائز تھی۔ اس سلسلے میں چٹھی جماعت کی طالبہ رخسانہ اختر کا کہنا تھا کہ’’یہاں پر نہ ہی پینے کے پانی کی سہولت ہے اور نہ ہی بیت الخلا جیسی اہم سہولت۔ اس لئے ہم یہ مانگ کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے اسکول کی عمارت میں ہی واپس منتقل کیا جائے اورکالج کے طلباء کو کہیں اور مناسب جگہ فراہم کی جائے۔
اسکولی طلبہ کی یہ بات جب زونل ایجوکیشن آفیسر منڈی محمد بشیر کے سامنے رکھی تو انہوں نے کہا ’’پٹوار خانہ کی عمارت میں بیت الخلاء دستیاب نہیں ہے،جس کی وجہ سے بچوں اور بچیوں کو بلکہ سکول اساتذہ کو بھی سخت مشکلات درپیش آرہے ہیں۔ان اساتذہ میں کچھ خواتین اساتذہ بھی ہیں۔ اس لیے یہ لوگ پٹوار خانہ کی عمارت کو چھوڑ کر واپس اپنے اسکول میں چلے گئے تھے۔تاہم فی الحال ہم نے انہیں واپس پٹوارخانہ کی عمارت میں ہی بھیج دیا ہے تاکہ کالج کے طلباء کی تعلیم بھی متاثر نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں ہم نے تحصیلدار صاحب سے اپیل کی ہے کہ وہ معاملے کا کچھ مثبت حل نکالیںَ‘‘۔ الغرض کالج کی عمارت نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف کالج کے طلباء و طالبات کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے بلکہ مڈل اسکول راجپورہ کے بچے بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔دوسری جانب والدین بھی اس بات کو لے کر سخت پریشان ہیں کہ ایک تو پہلے ہی کرونا وائرس کی وجہ سے نونہالوں کی تعلیم کے دو قیمتی سال ضائع ہو چکے ہیں، اب کالج کی عمارت نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے بچے ناقابل برداشت تعلمی نقصان اُٹھارہے ہیں۔
ادھر اگر کالج کی بات کی جائے تو یہاں بھی آئے روز طلبہ کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ ڈگری کالج پونچھ دور ہونے کی وجہ سے منڈی اور اس کے گرد و نواح کے تمام علاقوں کے طلباء منڈی کالج میں ہی داخلہ لینے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ساتھرہ، سیکلو، منڈی، بایئلہ، فتح پور، لورن، ساوجیاں، اڑائی، چھیلہ ڈھانگری، چکھڑی بن وغیرہ جیسے دور دراز علاقوں کے طلبہ نےبڑے جوش وخروش کے ساتھ یہاں داخلہ لیا تھا تاکہ وہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔ لیکن کالج کے لئے مناسب عمارت نہ ہونے سے مایوسی کا شکار ہوچکے ہیں۔ گاؤں سلونیاں سے آنے والی طالبات شہنازاور طاہرہ جن کی عمر بالترتیب 19اور20سال ہے،کا کہنا ہے کہ ’’گاڑیوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے کئی بار ہم اپنے گھر سے منڈی کالج تک پیدل آتے توہیں ،لیکن یہاں جگہ کی تنگی کی وجہ سے ہماری کلاسیں متاثر ہو جاتی ہیں۔ ڈگری کالج منڈی کی عمارت نہ ہونے کی وجہ سے جہاں طلبہ و طالبات کو اور بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کالج میں فی الحال محدود مضامین ہی الاٹ کئے گئے ہیں، سمسٹر اول میں داخلہ لینے والی طالبات مسرت، عابدہ اور عرفانہ کا کہنا ہے کہ ہم نے بڑے شوق سے منڈی کالج میں داخلہ لیاتھاکہ یہاں پر سارے مضامین کی پرھائی ہوگیاور مناسب عملہ بھی ہو گا۔جبکہ کچھ طالبات سائنس پڑھنا چاہتی تھی مگر یہاں پر سائنس مضامین ابھی تک اسی لئے نہیں دیئے گئے کہ یہاں پرھانے کے لئےعمارت ہی نہیں ہے، اس لئے مجبوراً ہمیں سائنس مضامین کو چھوڑ کر آرٹس لینے پڑے۔
کالج کی تعمیر کے لیے مناسب جگہ منتخب کرنے کے سلسلے میں آ رہی رکاوٹوں کے سلسلے میں جب ہم نے سرپنچ منڈی مبشر بانڈے سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ’’کچھ خود غرض عناصر اپنے سیاسی مفادات کی خاطر ڈگری کالج منڈی کی عمارت کو منڈی قصبہ سے باہر لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن کالج راجپورہ منڈی نزد بڈھا امرناتھ مندر ہی بننا چاہیے کیونکہ ایک تو وہ بالکل مرکز ہے جہاں ہر جگہ سے طلبا آسانی سے کالج آ سکتے ہیں، دوسرے بڈھا امرناتھ ایک مذہبی مقام ہے جہاں ہر کونے سے لوگ آتے ہیں ،اس لیے اگر کالج اس جگہ بنے گا تو طلبہ کو بہت سے لوگوں سے ملنے کا اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع بھی ملے گا۔‘‘ مڈل اسکول راجپورہ منڈی، ڈگری کالج منڈی کے طلباء و طالبات اور تحصیل منڈی کی عوام کی اس دیرینہ مانگ کو لے کر جب تحصیلدار منڈی شہزاد لطیف خان سے بات کی تو انہوں نے وضاحت کے ساتھ بتایا کہ’’پہلے ہمیں کالج کی تعمیر کے لئے جگہ تفویض کرنے میں رکاوٹیں آ رہی تھیں۔ بہر حال اب ہم نے اس معاملے کو حل کر لیا ہے اور اب ڈگری کالج منڈی کی تعمیر کے لئے راجپورہ منڈی میں زمین کی نشاندہی کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور ہم نے52 کنال اور 18 مرلہ زمین کی نشاندہی کر کے کالج انتظامیہ کے حوالے کر دی ہے۔ ہم جلد ایک تجویز بنا کر بھیجیں گے تاکہ جلدسے جلد یہاں کالج عمارت کی تعمیر کا کام شروع کرایا جاسکے۔‘‘
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یوٹی کے لیفٹنٹ گورنر شری منوج سنہا نے گزشتہ دنوں کے پونچھ کے اپنے دورے میں ڈگری کالج منڈی کو پدما شری ‘شریمتی مالیئے کے نام سے منسوب کرنے کی سفارشات کو قبول کرتے ہوئے اس کالج کا نام’’شریمتی مالی ڈگری کالج منڈی‘‘ رکھنے کا حکمنامہ تو جاری کردیا لیکن اس کے لیے رقومات کب تک واگزار ہوتی ہیں اور یہاں کے طلبا کو کس طرح کی تعلیمی سہولیات دی جاتی ہیں؟ یہ سوال ابھی باقی ہے۔
<[email protected]>