راجوری//اگرچہ حکومت نے راجوری میں چار جگہوں کوٹرنکہ ، سندر بنی ، کالاکوٹ اور نوشہرہ میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر وں کی پوسٹوں کو منظوری دیتے ہوئے ان مقامات پر افسران کی تعیناتی بھی عمل میں لائی ہے لیکن ماسوائے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کوٹرنکہ تین افسران کے اختیارات محدود ہیں اور انہیں کلکٹر لینڈ ایکویزیشن کا اختیار بھی نہیں دیاگیا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ سابق نیشنل کانفرنس اور کانگریس حکومت کے دورانیہ میں کوٹرنکہ ، کالاکوٹ اور سندر بنی کو سب ڈیویژنل کا درجہ دیاگیا جبکہ نوشہرہ کے پاس دہائیوں سے یہ درجہ ہے ۔وہیں حکومت نے رواں برس جنوری میں کوٹرنکہ کادرجہ بڑھاتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی پوسٹ دی اور شفیق احمد کو اے ڈی سی تعینات کیاجس کے بعد دیگر علاقوں میں احتجاج ہوئے اور پھر حکومت نے مارچ کے مہینے میں کالاکوٹ ، نوشہرہ اور سندر بنی کیلئے بھی انہی پوسٹوں کی منظوری کا حکم نامہ جاری کیااور سچن دیو سنگھ کو اے ڈی سی نوشہرہ، گرمکھ سنگھ کو اے ڈی سی سندر بنی جبکہ ایس ڈی ایم کالاکوٹ خالد حسین کو اے ڈی سی کالاکوٹ کا چارج دیاگیا۔تاہم چھ ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود کالاکوٹ ، سندر بنی اور نوشہرہ کے اے ڈی سیز کو اختیارات نہیں دیئے گئے اور انہیں کلکٹر لینڈ ایکویزیشن جیسا اہم اختیار بھی تفویض نہیں ہواجبکہ یہ اختیارصرف کوٹرنکہ کے اے ڈی سی کو حاصل ہے۔ذرائع کاکہناہے کہ کالاکوٹ،نوشہرہ اور سندربنی میں اسی وجہ سے زمین مالکان کے معاوضہ کے معاملات زیر التوا پڑے ہیں ۔ان تینوں اے ڈی سیز کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کے اختیارات بھی تفویض نہیں کئے گئے جس وجہ سے امن و قانون کی صورتحال سے نمٹنے کا مسئلہ درپیش رہتاہے ۔ذرائع نے بتایاکہ ان اے ڈی سیز کو مستقل باشندہ سرٹیفکیٹ کی اجرائی کے اختیارات بھی تعیناتی کے تین ماہ بعد دیئے گئے جس عرصہ میں لوگوں کو اسناد کے حصول میں مشکلات کاسامناکرناپڑا۔ذرائع نے مزید بتایاکہ چاروں اے ڈی سیز کو ڈی ڈی اوز کے اختیارات بھی نہیں ملے جس وجہ سے ان کے دفاتر میں کام کررہے ملازمین کئی کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم رہے تاہم حکومت نے دو روز قبل چاروں افسران کو ان اختیارات سے نوازاہے۔رابطہ کرنے پر ضلع انتظامیہ کے ایک سینئر افسر نے نام مخفی رکھنے کی شر ط پر بتایاکہ ڈی ڈی او ، اے ڈی ایم ، کلکٹرلینڈ ایکویزیشن اور پی آر سی جاری کرنے کے اختیارات اے ڈی سی کیلئے انتہائی اہم ہیں جن کے تفویض ہونے میں تاخیر ہوئی ہے تاہم امید ہے کہ بہت جلد اختیارات دے دیئے جائیں گے کیونکہ یہ معاملہ اعلیٰ حکام کے نوٹس میں ہے۔