منڈی//نیشنل ہیلتھ مشن ملازمین و ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے مریضوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور طبی نظام بری طرح سے متاثر ہورہاہے ۔تحصیل منڈی کے واحد سب ضلع اسپتال میں محض دو ڈاکٹر کام کر رہے ہیں جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں مریض روزانہ علاج کیلئے آتے ہیں جنہیں سخت مشکلات کاسامناہے ۔اسپتال منڈی میں نیشنل ہیلتھ میشن کے تحت 8 ڈاکٹر دن رات کام کرتے تھے جس وجہ سے سینکڑوں کی تعداد میں مریضوں کاعلاج و معالجہ ممکن ہوتاتھامگر ان کے ہڑتال پر چلے جانے کے بعد اسپتال میں محض دو ڈاکٹررہ گئے ہیں جن کیلئے ایک لاکھ سے زائد آبادی والی اس تحصیل میں طبی نظام چلانا ناممکن ہورہاہے ۔ اسپتال میں روزانہ مریضوں کی شرح دو سو سے تین سو تک رہتی ہے جن کی تشخیص دو ڈاکٹروں کے بس سے باہر ہے اورنتیجہ کے طور پر مریضوں کوخالی ہاتھ واپس لوٹناپڑرہاہے ۔ساوجیاں کے محمد لطیف نے کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ نہ ہی اسپتال میں خواتین کے امراض کی ڈاکٹر موجود ہے اور نہ ہی دوسرے امراض کے ڈاکٹر ہیں ، اسپتال میں صرف دو ڈاکٹر صبح سے شام تک مریضوں کا علاج کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آجکل سردی کام موسم ہے جس کی وجہ سے لوگ بیمارپڑ رہے ہیں مگر ان کا علاج نہیں ہوپارہااور کئی مریض بغیر علاج کے ہی واپس چلے جاتے ہیںکیونکہ اپنی باری کا انتظار کرنے تک انہیں شام ہوجاتی ہے۔مقامی لوگوںنے حکام سے اپیل کی ہے کہ نیشنل ہیلتھ مشن ملازمین کے جائز مطالبات پورے کرکے انہیں واپس کام پر لگایاجائے ۔واضح رہے کہ نیشنل ہیلتھ مشن سکیم کے تحت کام کر رہے ڈاکٹر اور ملازمین گزشتہ8 روز سے کام چھوڑ ہڑتال پر ہیں جس کی وجہ سے اسپتالوں میں آرہے مریضوں کو مشکلات کاسامناہے ۔ این ایچ ایم ملازمین کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ ان کو مستقل ملازمت دی جائے اورجاب پالیسی مرتب کی جائے ۔دیہی علاقوں کا طبی نظام انہی ملازمین پر منحصر ہے جو گزشتہ آٹھ دنوںسے مفلوج بناہواہے ۔