شادی کے بعد رہائش پر مبنی چیلنج مسترد
سرینگر// جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے ضلع ڈوڈہ میں نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت ملٹی پرپز ہیلتھ ورکر کی تقرری کو چیلنج کرنے والی سات سال پرانی سروس رِٹ پٹیشن کو مسترد کرتے ہوئے حکام کے فیصلے کو درست قرار دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ متعلقہ قوانین کے تحت مقامی امیدوار کو ترجیح دینا درست اقدام تھا۔ یہ فیصلہ جسٹس جاوید اقبال وانی نے سناتے ہوئے سشما دیوی کی جانب سے دائر درخواست کو خارج کر دیا، جس میں 28 اپریل 2018 کو جاری حتمی سلیکشن لسٹ کو چیلنج کیا گیا تھا۔ مذکورہ لسٹ کے ذریعے سب سنٹر سیل، بلاک گھاٹ، ضلع ڈوڈہ میں ایک اور امیدوار کی تقرری عمل میں لائی گئی تھی۔معاملہ مارچ 2015 میں این ایچ ایم کے تحت پیرا میڈیکل اسامیوں کے اشتہار سے متعلق ہے۔ درخواست گزار مطلوبہ تعلیمی اہلیت رکھتی تھیں اور ستمبر 2017 میں ہونے والے انٹرویوز کے بعد ابتدائی طور پر منتخب بھی ہو گئی تھیں جبکہ میرٹ کے لحاظ سے ان کے نمبر بھی زیادہ تھے۔تاہم منتخب امیدوار کی جانب سے اعتراضات کے بعد حکام نے حتمی سلیکشن لسٹ جاری کی، جس میں درخواست گزار کو تبدیل کر دیا گیا۔ اعتراض کی بنیاد یہ تھی کہ درخواست گزار نے ضلع سے باہر شادی کی ہے اور اب متعلقہ گاؤں کی مستقل رہائشی نہیں رہیں، جس کے باعث وہ 3 مئی 2017 کو جاری کردہ ترمیمی ترجیحی شق کے تحت نااہل قرار پائیں۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ میرٹ کو مکمل طور نظر انداز کیا گیا، وہ شادی کے باوجود اپنے آبائی گاؤں میں والدین کے ساتھ رہائش پذیر ہیں، اور ان کے خلاف اعتراضات بغیر سماعت کے طے کیے گئے جو فطری انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے اپنے دعوے کی تائید میں پنچایت نامہ بھی پیش کیا۔دوسری جانب سرکاری فریقین نے نائب کمشنر کی ہدایت پر کی گئی انکوائری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نے جموں شہر کے رہائشی سے شادی کی ہے اور شادی کے بعد ان کا نام نہ تو والد کے راشن کارڈ میں شامل ہے اور نہ ہی ووٹر لسٹ میں۔ حکام نے این ایچ ایم کے قواعد اور ترمیم شدہ ترجیحی شق کا حوالہ دیتے ہوئے گاؤں میں مقیم امیدوار کو ترجیح دینا درست قرار دیا۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار نے شادی ضلع سے باہر ہونے کا اعتراف کیا، تاہم پنچایت نامہ کے سوا کوئی مستند سرکاری دستاویز پیش نہیں کر سکیں، جبکہ راشن کارڈ، ووٹر لسٹ، آدھار تفصیلات اور تحصیلدار کی انکوائری رپورٹ سرکاری مؤقف کی تائید کرتی ہیں۔جسٹس وانی نے قرار دیا کہ محض پنچایت نامہ سرکاری ریکارڈ پر فوقیت نہیں رکھتا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ انکوائری رپورٹ کو درخواست گزار نے چیلنج نہیں کیا اور ترمیم شدہ ترجیحی شق کا درست اطلاق کیا گیا ہے۔عدالت نے انتخابی عمل میں تاخیر کے حوالے سے بھی سرکاری وضاحت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاخیر زیر التوا عدالتی کارروائیوں کے سبب ہوئی اور بدنیتی کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔بالآخر عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ابتدائی سلیکشن میں تبدیلی درست تھی اور نجی امیدوار کی تقرری قانونی طور پر صحیح ہے، لہٰذا رِٹ پٹیشن سمیت تمام متعلقہ درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔عدالتی فیصلے کو اسپیکنگ آرڈر قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ مقامی بنیاد پر ترجیحی شقیں، جب سرکاری ریکارڈ اور باقاعدہ انکوائری سے ثابت ہوں، تو زیادہ میرٹ پر بھی فوقیت حاصل کر سکتی ہیں۔