عظمیٰ نیوزسروس
جموں//وزیر برائے خوراک، شہری رسدات اورامورِ صارفین، آئی ٹی، ٹرانسپورٹ،اَمورِ نوجوان و کھیل کود، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی محکمہ جات ستیش شرما نے مرکزی وزیر مملکت برائے خوراک، شہری رسد ات و امورِ صارفین بی ایل ورما سے تفصیلی ملاقات کی اور جموں و کشمیر میں پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کو مضبوط بنانے، غذائی تحفظ بہتر کرنے اور فلاحی امور سے متعلق متعدد اہم مطالبات پیش کئے۔ملاقات کے شروعات میں وزیر نے این ایف ایس اے کے تحت غذائی اجناس کی حد ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ پابندی کی وجہ سے راشن کارڈوں کی تقسیم کا عمل رُک گیا ہے جس سے وہ کنبے متاثر ہو رہے ہیں جن کے اَفراد میں وقت کے ساتھ اِضافہ ہوا ہے۔ اُنہوں نے مرکزی حکومت سے درخواست کی کہ جموں و کشمیر کا کوٹا بڑھایا جائے تاکہ نئے اور تقسیم شدہ راشن کارڈ جاری کئے جا سکیں۔ اُنہوں نے دور دراز، سرحدی اور قبائلی علاقوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے اِضافی غذائی اجناس کے کوٹے کی منظوری کا بھی مطالبہ کیا۔وزیرموصوف نے کہا کہ جموں و کشمیر نئے راشن کارڈوں کے اجرا ٔکے لئے مکمل طور پر تیار ہے اور اِی۔
کے وائی سی اور ڈیٹا بیس کی صفائی کا عمل تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور جلد منظوری کی درخواست کی ۔اُنہوں نے نظامی مضبوط پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اونچائی ، برفباری اورسرحدی علاقوں میں چیلنجوں کا حوالہ دیتے ہوئے مشکل خطوں میں پی ڈی ایس کے لئے خصوصی بنیادی ڈھانچہ گرانٹ کا مطالبہ کیا۔ اُنہوں نے ایف پی ایس ڈیلروںکے مارجن میں اضافہ کرنے کی بھی سفارش کی تاکہ دیرپائی یقینی ہو اور اس میں کمی نہ آئے۔نیز اُنہوں نے تجویز دی کہ دالیں، خوردنی تیل اور باجراجیسے اضافی اجناس بھی ایف پی ایس کے ذریعے مرکزی تعاون سے فراہم کئے جائیں۔ستیش شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر نے سمارٹ پی ڈِی ایس فریم ورک کی عمل آوری میں نمایاں کارکردگی دکھائی ہے اور کارکردگی پر مبنی مراعاتی فنڈنگ کا مطالبہ کیا۔ اُنہوں نے آر سی ایم ایس، ایس سی ایم ایس اور روٹ آپٹیمائزیشن سمیت ڈیجیٹل نظاموں کو جلد اَپنانے کا ذکر کیا۔اُنہوں نے پسماندہ طبقوں کے حوالے سے کشمیری مائیگرنٹوں کے راشن کارڈوں کی انضمام کا مسئلہ اُٹھایا اور ان کی بلا تعطل سہولیات جاری رکھنے پر زور دیا۔ اُنہوں نے گجر، بکروال اور سرحدی علاقوں کی آبادی کے لئے خصوصی راشن فراہمی اور ای۔کے وائی سی میں لچک دینے کی بھی درخواست کی۔وزیرموصوف نے اَمورِ صارفین کے حوالے سے لیگل میٹرولوجی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے ، جدید ٹیسٹنگ آلات اور عملے کی فراہمی بالخصوص دور دراز اضلاع کے لئے، کا مطالبہ کیا۔ اُنہوں نے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں صارفین کی بیداری مہمات کے لئے سی سی پی اے کے تحت بہتر فنڈنگ کی بھی درخواست کی۔اُنہوں نے سماجی انصاف کے اقدامات کے تحت پی ایم۔اے جے اے وائی اورڈی اے اینڈ ڈی بی ٹی فنڈز کی بروقت فراہمی اور ایس سی، او بی سی اور ای ڈبلیو ایس طبقوں کے لئے سکالرشپوں کی فوری اَدائیگی پر زور دیا۔ اُنہوں نے پہاڑی اور دیگر مستحق طبقوں کو مرکزی او بی سی/محروم فہرست میں شامل کرنے کے عمل کو تیز کرنے اور جموں، سانبہ ، اودھمپور اور راجوری میں اضافی ہوسٹلوں کی منظوری پر بھی زور دیا۔وزیر ستیش شرما نے انتظامی اور مالی امور میں مرکزی معاونت اور سی ایس ایس اقساط کی زیراِلتوأ ادائیگیوں کی فوری واگزاری اور ایف سی ایس اینڈ سی اے افسران کے لئے ڈیٹا اینالٹکس، سپلائی چین مینجمنٹ اور انفورسمنٹ جیسے شعبوں میں تربیتی معاونت کی درخواست کی۔اُنہوں نے جموں و کشمیر حکومت کے عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی اور جامع فلاح و بہبود کے عزم کا اعادہ کیا اور اُمید ظاہر کی کہ مرکزی حکومت ان اہم امور کے حل میں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔