نئی دلی/ صحت عامہ، آبپاشی و فلڈکنٹرول کے وزیر شیام لال چودھری نے یہاں این آر ڈی پی اور سواجل اصلاحات سے متعلق قومی مشاورت کی جائزہ میٹنگ میں شرکت کی۔اس میٹنگ کی صدارت پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کی مرکزی وزیر امابھارتی نے کی جبکہ اس وزارت کے وزیر مملکت اور مرکزی سیکرٹری بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔میٹنگ میں مختلف ریاستوں کو پی ایچ ای وزیروں اور سیکرٹریوں نے بھی شرکت کی۔اس موقعہ پر بتایا گیا کہ ہر ایک گھر کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کی سکیم کے دائرے میں لایا جانا چاہیئے۔ علاوہ ازیں بارشوں کے پانی کومحفوظ رکھنے کے لئے اقدامات کئے جانے چاہیئے۔مرکزی وزیر نے کہاکہ متعلقہ وزارت کی طرف سے این آرڈی ڈبلیو پی اور سواجل کے تحت ہاتھ میں لی گئی سکیموں کے لئے معقول رقومات دستیاب ہیں تاہم یہ رقومات تصرفی اسناد جمع کرنے کے بعد ہی جاری کی جائیں گی۔میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے شیام چودھری نے ریاست میں پی ایچ ای سیکٹر کا مجموعی جائزہ اور اس سیکٹر کے مشکلات کو اُجاگر کیا۔وزیر نے پی ایچ ای سیکٹر کی سکیموںکی عمل آوری کے لئے مزید رقومات کا مطالبہ کیا۔ انہوںنے کہا ریاست میں 3700پی ایچ ای سکیموں کی رکھ رکھائو کے لئے سالانہ 70کروڑ روپے درکا ر ہوتے ہیں ۔انہوںنے ابتدائی مرحلے میں جاری 152 سکیموں کی تکمیل کے لئے 311.19 کروڑ روپے جب کہ 243 ان سکیموں کے لئے 385کروڑ روپے کی مانگ سامنے رکھی ن کا خرچہ بڑھ چکا ہے۔