ایجنسیز
واشنگٹن// امریکی صدرڈونالڈٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر غور کے لیے بلایا گیا ایک اہم اجلاس کسی حتمی فیصلے یا معاہدے کے بغیر ختم ہوگیا، جس کے بعد عالمی برادری اب بھی نتائج کی منتظر ہے۔صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کا اجلاس طلب کیا تھا۔ اجلاس سے قبل انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر اشارہ دیا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے بارے میں ’’حتمی فیصلہ‘‘ قریب ہے۔تاہم تقریباً دو گھنٹے طویل اجلاس کے بعد صدر ٹرمپ بغیر کسی اعلان کے باہر آ گئے اور کسی معاہدے یا فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے صرف اتنا کہا کہ ’’صدر ٹرمپ صرف ایسا معاہدہ کریں گے جو امریکہ کے مفاد میں ہو اور ان کی مقرر کردہ سرخ لکیروں (ریڈ لائنز) پر پورا اترتا ہو۔‘‘بعد ازاں ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا،’’مزید اطلاع تک کوئی رقم منتقل نہیں کی جائے گی۔ دیگر کم اہم معاملات پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے۔‘‘تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا وہ ایران کے ساتھ زیر غور معاہدے کی منظوری دیں گے یا نہیں، جس میں آبنائے ہرمز کو بحری آمد و رفت کے لیے کھولنے اور جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ مارکوروبیو، نائب صدرجے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں نہ صرف آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیا بلکہ ایرانی افواج کی جانب سے بچھائی گئی تمام سمندری بارودی سرنگوں کے خاتمے، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں افزودہ جوہری مواد کی تلفی، اور ایران کی جانب سے کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی واضح ضمانت کا بھی مطالبہ کیا۔دوسری جانب ایرا ن نے بارہا واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کی موجودہ شرائط پر کوئی بامعنی مذاکرات ممکن نہیں۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ مذاکرات شروع ہونے سے قبل بیرونِ ملک بینکوں میں منجمد تقریباً 12 ارب ڈالر کے ایرانی اثاثے آزاد کیے جائیں۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ابھی تک کسی مفاہمتی یادداشت (MoU) کو حتمی شکل نہیں دی گئی اور نہ ہی اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ایران کی اعلیٰ قیادت نے زیر بحث مسودے کی منظوری دی ہے۔واشنگٹن کی شرائط اور تہران کے مطالبات کے درمیان یہی اختلاف موجودہ تعطل کی بنیادی وجہ بن چکا ہے، جو ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے اہم ترین سفارتی تنازعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ان مذاکرات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے، اور اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ نے عالمی مالیاتی اداروں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔عالمی بینک،اوردیگراداروں نے مشترکہ طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی تو ایندھن اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ، تیل کے ذخائر میں کمی اور عالمی توانائی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب شمالی نصف کرے میں گرمیوں کے باعث توانائی کی طلب بڑھ رہی ہے۔ادھر ایران کی نئی قائم کردہ خلیج فارس اسٹریٹ اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی بحری سرگرمیاں جاری رکھے گی اور سفارتی دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ امریکہ نے ایران پر اقتصادی دباؤ بھی بڑھا دیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ امریکی حکام نے تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کی ایرانی کرپٹو کرنسی ضبط کر لی ہے، جسے ایران پر مالی دباؤ بڑھانے کی مہم کا حصہ قرار دیا گیا۔دوسری جانب امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو امریکی فوج مکمل طور پر تیار ہے، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ بالآخر ایک ’’اچھا معاہدہ‘‘ طے پا جائے گا۔