سرینگر//ایران میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں پر وادی کی مختلف سیاسی و دینی انجمنوں نے سخت افسوس کااظہار کرتے ہوئے اس حملہ کو عالم اسلام پر دشمنوں کا حملہ قرار دیا ہے ۔ان انجمنوں نے عالم اسلام کو اتحاد و اتفاق کا دامن تھام کر دشمنان اسلام کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ۔حریت (گ) چیئرمین سید علی گیلانی ،انجمن شرعی شیعان کے سربراہ آغا سید حسن،عوامی مجلس عمل ،اتحاد المسلمین اور انجمن امامیہ چندر کوٹ نے ایران میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں پر سخت رد عمل کااظہار کیا ہے۔ حریت (گ) چیئرمین سید علی گیلانی نے ایرانی پارلیمنٹ اور آیت اللہ خمینی کے مزار پر ہوئے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بدترین قسم کی دہشت گردی ہے اور اس میں ملوث لوگ اسلام اور انسانیت کے دشمن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مذموم حملے کرانے میں جو بھی لوگ استعمال کئے جاتے ہوں، ان کے پسِ پردہ البتہ وہ اسلام دشمن قوتیں کارفرما ہیں، جو مسلم امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے درپے ہیں اور جو مسلمانوں کو شیعہ سُنی اور دوسرے ناموں پر باہم دِگر دست وگریباں کرنے کی درپے ہیں۔ گیلانی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ صہیونی اور سامراجی منصوبے ہیں، جن کو عملی جامہ پہنانے میں وہ خارجی ٹائپ کے نادان مسلمان بھی استعمال ہورہے ہیں، جو دوسرے مسلمانوں کا خون مباح قرار دیتے ہیں اور دین کے بجائے اپنے مسلک اور مکتب فکر کو اہمیت دیتے ہیں۔ کچھ مغربی ممالک بھی اس گھناو¿نے عمل میں رول ادا کررہے ہیں اور وہ مسلمانوں کے مابین کشت وخون میں دونوں طرف کے لوگوں کو ہتھیار اور مالی مدد بھی بہم کراتے ہیں۔ آزادی پسند رہنما نے کشمیری عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ یہاں بھی ان مولویوں اور واعظوں سے خبردار رہیں، جو مسلم امت کو شیعہ سُنی، دیوبندی، بریلوی اور سلفی وحنفی کے نام پر تقسیم کرتے ہیں اور نفرت کے وعظ پڑھتے ہیں۔ گیلانی نے کہا ایسے لوگ دین کے نام پر صرف دوکانداری کرتے ہیں اور یہ اپنے ذاتی فوائد کے لیے اتحاد امت کو پارہ پارہ کرنے کے درپے ہیں۔ حریت چیرمین نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ہم ان بم دھماکوں کے عوامل اور وجوہات کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے اور ایران کو شام اور عراق میں اس کی جارحانہ پالیسی جاری رکھنے اور ایک مطلق العنان حکومت کی اعانت کرنے اور اسے امداد فراہم رکھنے کا ذمہ دار ٹھراتے ہوئے کہا کہ معصوم آبادیوں پر حملے کرنا اور قتل غارت کو جاری رکھنا بھی قابل مذمت ہے اور اس طرح کی کاروائیاں اسی کا ردعمل ہے ۔انھوں نے ایران کی خارجہ پالیسی میں شدت پسندی کے جزبے پر اظہار ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اسلام کو فرقہ پرستی اور نسلی حد بندیوں کے دائرے میں محصور نہیں کرنا چاہئے۔اس دوران انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغاسید حسن الموسوی الصفوی نے ایرانی پارلیمنٹ اور انقلاب اسلامی ایران کے بانی حضرت امام خمینیؒ کے مرقد پر تکفیری گروہ داعش کے دہشتگردانہ حملے کے بعد خطے میں کشیدگی کے ماحول کو عالم اسلام کی بدقسمتی سے تعبیرکرتے ہوئے کہا کہ تکفیری دہشتگردی اسلامی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی صیہونی سازش ہے۔چندر کوٹ بانہال میں انجمن امامیہ کے اہتمام سے ایران میں وہئے دہشت گردانہ حملوں میں مارے گئے افراد کے حق میں دعائیہ کلمات ادا کئے جبکہ اس واقعے میں ملوث گروہوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔اس دوران کشمیر اتحاد المسلمین کے سربرا مولانا محمد عباس انصاری نے اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ اور بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی کے مرقد پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کو تکفیری دہشت گردی کا بدترین نمومہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔شبیر احمد شاہ نے ایرانی پارلیمنٹ پر ہوئے حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا کوئی بھی حملہ انسانیت کے اصولوں سے میل نہیں کھاتا ۔