کہاجاتا ہے کہ اچھا استاد وہ ہوتا ہے جو اپنے طالب علموں کو باپ بن کر پڑھاتا ہے۔ انہیں صرف پڑھاتا ہی نہیں بلکہ انہیں سکھاتا ہے۔ ان کی تربیت کا فریضہ انجام دیتا ہے۔انہیں ان کی آنے والی زندگی کے لیے تیار کرتا ہے۔ ان کے مستقبل کے لیے اسی طرح فکر مندر ہتا ہے جس طرح لوگ اپنی سگی اولاد کے لیے متفکر ہوتے ہیں۔ کیا ہمارے زمانے میں ایسے استاد آج موجود ہیں؟ ہوں گے ضرور ہوں گے تبھی تو یہ کاروان حیات جانب منزل رواں دواں ہے۔ اسی حوالے سے میںعالم عرب کے کچھ استادوں کے حقیقی واقعات سے آپ کو روشناس کراؤںگا جو حقیقی معنوں میں استاد تھے۔ نسلوں کے مربی تھے۔ وہ اپنے طلبہ سے بے انتہا محبت کرتے تھے اور انہیں باپ بن کر پڑھاتے تھے۔
ڈاکٹرطہ حسین مصر کے بہت بڑے نابینا ادیب تھے ۔ قاہرہ یونیورسٹی میں آرٹس فیکلٹی کے ڈین رہے اور اسکندریہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی۔مصر کے وزیر تعلیم کے مشیر رہے پھر وزیر تعلیم بنائے گئے۔ واقعہ یوں ہے کہ قاہرہ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی تو قانون اور ادبیات کے شعبوں سے تعلیم کا آغا ز کیاگیا۔دونوں میں سے کسی بھی شعبے میں داخلے سے قبل دونوں فیکلٹی کے طلبہ کو ایک سال مشترکہ طور سے ایک ساتھ پڑھ کر اگلے سال کسی شعبے کا انتخاب کرنا ہوتا تھا۔
کلاس میں پہلا دن تھا۔ڈاکٹر طہ حسین نے سبق پڑھایا اور طلبہ سے اس کا’’خلاصہ ‘‘لکھ کر لانے کے لیے کہا۔ محمد مندور نامی ایک طالب علم کا خلاصہ سب سے بہتر تھا۔ ڈاکٹر طہ حسین نے اس سے پوچھا: اگلے سال کس شعبے میں جانا چاہوگے؟اس نے کہاقانون۔طہ حسین نے کہا: کیوں۔ اس نے کہا میں ایسا افسر بننا چاہتا ہوں جس سے سب لوگ ڈریں۔ طہ حسین نے کہا تمہارے اندر میں ایک بہت بڑا ادیب دیکھ رہا ہوں۔ ادب میں داخلہ لے لو۔ محمد مندور نے قانون میں داخلے کے لیے اصرار کیا تو طہ حسین نے کہا میں سفارش کروں گا کہ تمہیں دونوں شعبوںمیں ایک ساتھ داخلہ مل جائے۔ مارننگ میں قانون پڑھنا اور ایوننگ میں ادب۔ اس طرح طہ حسین محمد مندور کو ادب کی طرف مائل کرنے میں نہ صرف کامیاب ہوگئے بلکہ شعبۂ عربی میں داخلے کے لیے اس کی فیس بھی معاف کروادی۔
چار سال بعد یونیورسٹی نے کچھ ممتاز طلبہ کو مزید اعلی تعلیم کے لیے پیرس بھیجنے کے لیے منتخب کیا جس میں محمد مندور کا بھی نام تھا۔ محمد مندور کا میڈیکل چیک اپ ہوا تو وہ فیل ہوگیا۔ اس کی آنکھ کمزور تھی۔اس کے بعد طہ حسین نے گریجویشن میں لکھے گئے محمد مندور کے’’ مقالے‘‘ کواپنے ساتھ لیا اور وزیر تعلیم کے دفتر پہنچ گئے۔ طہ حسین نے محمد مندور کے مقالے سے ایک’’ اقتباس‘‘ وزیر موصوف کو سنایا اور پوچھا کیسا لکھا ہے؟ کہا بہت خوب۔ کیا کہنے۔طہ حسین نے کہا یہ وہ ’’ہونہار طالب علم‘‘ ہے جسے آپ لوگ اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے پیرس نہیں جانے دینا چاہتے۔ وزیر نے کہا کیاہوا؟ طہ حسین نے کہا یہ طالب علم میڈیکل چیک اپ میں فیل ہوگیا ہے جس کی وجہ سے اس کو پیرس جانے سے منع کردیا گیا ہے۔ طہ حسین جب وزیر تعلیم کے دفتر سے نکلے تو ان کے ہاتھ میں ایک ’’آرڈر‘‘ تھا جس میں لکھا تھا کہ محمد مندور کو ’’میڈیکل چیک اپ‘‘ سے Exemptکیا جاتا ہے۔ اس کے بعد محمد مندور پیرس گئے۔ محمد مندور نے مصر میں تنقید کے میدان میں اتنا اہم کام کیا کہ انہیں ’’شیخ النقاد العرب‘‘ کے لقب سے ملقب کیاگیا۔
مشہور لبنانی ادیب عمر فروخ اپنی خود نوشت’’غبار السنین‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۱۹۲۲میں میںامیرکن یونیورسٹی کے پرائمری کی چوتھی کلاس میں پڑھتا تھا۔ ششماہی امتحان سے قبل عربی مضمون کے استاد جناب نجیب نصار (وفات ۱۹۳۰ء) نے ہمیں ہوم ورک دیا کہ کہ ہم سب طالب علم ’’ہوائی جہاز‘‘ پر ایک لمبا سا مضمون چھٹیوں کے بعد لکھ کر لائیں۔
چھٹیوں کے بعد پہلے دن ہمارے استاد نصار صاحب نے ہم سب بچوں کو اکٹھاکیااور ہمارا ہوم ورک چیک کیا۔ ہم نے دیکھا کہ ہم میں سے کچھ بچوں نے بہت طولانیت کے ساتھ اس موضوع پر لکھا تھا۔ کچھ نے یہ کہہ کر معذرت کا اظہار کرلیا کہ وقت بہت مختصر تھا۔ بہت سارے کام آپڑے تھے جس کی وجہ سے وہ لکھ کر نہیں لاسکے۔چند دنوں کے بعد نصار صاحب نے ہمارے کلاس کے سارے بچوں کی کاپیاں واپس کردیں لیکن میری کاپی انھوں نے واپس نہیں کی۔کلاس کے بعد مجھ سے کہا کہ انھوں نے میرا مضمون ’’الاحوال‘‘ اخبار کو شائع کرنے کے لیے بھیج دیا ہے۔ الاحوال اخبار اس وقت ملک کے بڑے اخبارات میں شمار کیا جاتا تھا۔چنانچہ دو یا تین دن کے بعد الاحوال میں میرا وہ مضمون اس کی طولانیت کی وجہ سے دو قسطوں میں شائع ہوا۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ دونوں قسطوں کے ایک ایک اقتباس پہلے صفحے پر بھی شائع کیے گئے تھے۔
تعلیمی سال کے اخیر میں نصار صاحب نے پھر ہم سے طلب کیا کہ ہم ’’ریشم‘‘ کے بارے میں لمبا سا مضمون لکھ کر لائیں۔اس بار پھر نصار صاحب نے میرا مضمون الاحوال کو بھیج دیاجو ۱۳جون ۱۹۲۳ء کے شمارے میں شائع ہوا۔اس بار پہلے سے زیادہ تعجب کی بات یہ تھی کہ اخبار والوں نے میرے مضمون کو پہلے صفحے کے شروع میں دائیں کالم میںبالکل اوپر سے شائع کیااور اس پر سرخی لگائی تھی: ’’ریشم سازی پر ایک شاندار مضمون‘‘۔
یوں میرے استاد نجیب نصار نے گویا مجھے اخبارات میں شائع ہونے کا راستہ دکھادیا۔ چنانچہ میںملک کے مختلف اخبارات مثلا الرای العام، البیان اور ’’المعرض وغیرہ میں مضامین بھیجنے لگا۔
عمر فروخ لکھتے ہیں کہ ’’حقیقت یہ ہے کہ استاد کا کام صرف سبق پڑھادینا لیکچر دے دینا ہی نہیں ہوتا۔ استاد کو اپنے شاگردوں کو باپ بن کر پڑھانا چاہیے۔ ان کی صلاحیتوں کا انکشاف کرکے انھیں اگلی زندگی کے لیے تیار کرنا چاہیے۔
ایسے ہوتے ہیں ’’سچے استاد‘‘ جو اپنے طالب علموں کی نہ صرف رہنمائی کرتے ہیں بلکہ انہیں اپنے جیسا بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔
رابطہ ۔صدر شعبۂ عربی/ اردو/ اسلامک سٹیڈیز
باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری
فون نمبر۔9086180380