سرینگر// رواں لاک ڈائون کے دوران وادی کشمیرمیں آٹوموبائل شعبے کو آٹھ سو سے نو سوکروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے جبکہ بیشتر ورکشاپ مالکان اور ان میں کام کرنے والے مستری نان شبینہ کے محتاج ہوگئے ہیں اور انہوں نے حکومت سے اس شعبے کوامداد دینے کا مطالبہ کیا ہے۔وادی میں آٹوموبائل شعبے سے وابستہ قریب40ہزار ورکشاپ و مستری دکان مالکان،ڈینٹروں،رنگسازوں اور سروس سینٹروں میں کام کرنے والوں کا قافیہ حیات تنگ ہوچکا ہے جبکہ مفلوک الحال ہونے کے نتیجے میں یہ طبقہ نان شبینہ کا محتاج ہوگیا ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران سیاسی اتھل پتھل اور وبائی بیماری کرونا وائرس کے نتیجے میں پیش آمدہ صورتحال اور بندشوں،قدغنوں، کرونا کرفیو کے نتیجے میں چھوٹی بڑی گاڑیوں ،اسکوٹروں و موٹر سائیکلوں کے علاوہ آٹو رکھشائوں و سائیکلوں کی مرمت کرنے والے 30ہزار کے قریب لوگ بے روزگار ہوگئے،جس کے نتیجے میں وہ اپنے اہل و عیال کی کفالت بھی نہیں کرپاتے۔
سرینگر میں ایسے مستریوں کی تعداد قریب5ہزار ہے،جبکہ کئی مقامات پر یہ مستری ورکشاپوں اور کئی جگہوں پر ان کے یک نفری یا دو نفری دکانات بھی موجود ہیں،اور وہ گاڑیوں کی مرمت کر کے اپنے کنبوں کی پرورش کرتے ہیں۔ان مستریوں کا تاہم کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں سے وہ حالات کے رحم و کرم پر ہیںاور وقت کے تھپیڑوں نے انہیں محتاج بنادیاہے۔ ان مستریوں کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ اجرت کی بنیادوں یا تنخواہوں پر کام کرتے ہیں تاہم گزشتہ ایک برس کے دوران قریب12ماہ دکانیں اور ورکشاپیں بند رہیں،جس کے نتیجے میں ان کا روزگار متاثر ہوا۔ بٹہ مالو بس اڈے کے متصل گاڑیوں کی مرمت کرنے والے ایک ورکشاپ مالک محمد ایوب نے بتایا کہ مستریوں میں دو طرح کے لوگ شامل ہیں،ایک جو یک نفری یا دو نفری دکانیں چلاتے ہیںاور یہ ان دکانوں کے مالک ہیں،جبکہ دوسرا ایسا طبقہ ہے جو ورکشاپوں میں اجرت پر کام کرتا ہے۔ محمد ایوب کا کہنا تھا تاہم لاک ڈائون ،کرونا کرفیو اور دیگر حالات نے دونوں طبقوں کو مفلوک الحال بنا دیا،کیونکہ چھوٹے مستری دکانوں کے مالکان بھی کچھ کما نہ سکے، اور بڑے ورکشاپوں کے مالکان بھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ورکشاپ مالکان نے اگرچہ ابتدائی دنوں میں مستریوں کو تنخواہیں دی تھی،تاہم بعد میں ان کی مالی حالت بھی خراب ہوگئی اور وہ ملازموں کوتنخواہ فراہم نہ کرسکے۔ سونہ وار میں ایک ورکشاپ مالک نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ نا ہی مالکان اور نا ہی مستریوں کو کوئی امداد فراہم کی گئی،جس کے نتیجے میں گزشتہ دو برسوں سے انکی مالی حالت بہت خراب ہوچکی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مشکل سے ان کے گھروں کا چولہا جلتا ہے،اور اس پر نجی اسکول مالکان و منتظمین جہاں ان کے بچے زیر تعلیم ہیں،نے انہیں زبردست تنگ و طلب کیا ہے اور انہیں انکی حالت پر رحم بھی نہیں آتا۔ اس دوران گاڑیوں کے کل پُرزے فروخت کرنے والے دکاندار بھی حالات کے بے رحم ہاتھوں کا شکار ہوگئے ہیںاور اکثر و بیشتر ایام میں ان کی دکانیں بند ہونے کی وجہ سے وہ مالی تنگی کا شکار ہوگئے ہیں۔ان دکانداروں کا کہنا ہے کہ بندشوں،لاک ڈائون اور کرونا کرفیو کے نتیجے میں جب بیشتر ایام میں گاڑیوں و دو پہیہ گاڑیوں کی ورکشاپیں اور مرمت کرنے والی دکانیں بند ہیں تو کل پُرزے کون خریدے گا۔
یونائٹیڈ آٹو موبایل شاپ کیپرس یونین کے صدر ہلال احمد منڈو نے بتایا کہ قریب10ہزار دکاندار اس شعبے سے وابستہ ہے،جن میں ڈینٹر،پینٹر،الیکٹریشن،کیوشن میکرس،ٹائر والے،سروس سینٹر اور پولیشن سینٹر قابل ذکر ہے۔ منڈوں نے کہا کہ رواں لاک ڈائون کے دوران آٹو موبائل سیکٹر کو مجموعی طو ر پر800-900 کروڈ روپے کا خسارہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کی جانب سے گزشتہ برس بنک قرضوں کے سود میں نرمی کے علاوہ ا س شعبے کو کوئی امداد نہیں دی گئی۔ منڈوں نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ شعبے کو بچانے کیلئے جامع پیکیج کا اعلان کریں کیونکہ معمولی امداد سے نا ہی یہ شعبہ بحال ہوسکتاہے اور نا ہی اس سے وابستہ لوگوں کی تجارت کو بچایا جاسکتا ہے۔ ہلال احمد منڈوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کی حالت نے اس شعبے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور اگر سرکار کی جانب سے ہاتھ نہیں تھاما گیا تو آٹو موبائل سیکٹر تباہ ہوجائے گا۔