سرینگر //کورونا وائرس کے سبب تعلیمی ادارے بند ہونے سے تعلیم و تدریس کا سلسلہ معطل ہوجانے کے نتیجے میں سب سے زیادہ اثر ان ہزاروں بچوں کی تعلیم پر پڑرہا ہے جو آن لائن کلاسز لینے سے قاصر ہیں۔ ۔ جموں وکشمیر میں اس وقت پرائمری، مڈل ، ہائی و ہائر سکنڈری سکولوں کے طلاب کے علاوہ پرائیویٹ کوچنک سینٹروں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات آن لائن کلاسز کے ذریعے تدریسی عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن اس صورتحال کاسب سے المناک پہلو یہ ہے کہ غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزر بسر کرنے والے طلاب کیلئے یہ سہولیات دستیان نہیں ہیں۔اس وقت جموں وکشمیر میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 13لاکھ کے قریب ایسے کنبے ہیں جو موبائل خریدنے کے قابل نہیں ہیں کیونکہ ان کی ماہانہ آمدن 3ہزار سے 5ہزار کے قریب ہے۔وہ مشکل سے اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے کی سکت رکھتے ہیں،سمارٹ فون خریدنا انکے لئے بہت دور کی بات ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ ایک اور غور طلب پہلو یہ بھی ہے کہ جموں کشمیر کے ہر گائوں یا ہر بستی میں موبائل فون نہیں چلتے۔جموں وکشمیر کے سرحدی علاقوں میں جہاں انٹر نیٹ سہولیت نہیں یا انٹر نیٹ کی رفتار کم ہے وہاں کے بچوں کو بھی آن لائن تعلیم نہیں مل رہی ہے ۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جموں وکشمیر میں اس وقت 10.35فیصد لوگ ایسے ہیں جو غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزر بسر کرتے ہیںجن کی ماہانہ آمدنی 5ہزار سے زیادہ نہیں ہے اور جو کورونا کے دور میں بھوک مری کا شکار ہیں ۔انکی آمدنی بہت کم ہے، مالی وسائل کچھ بھی نہیں ہیں لہٰذا وہ اس مہنگائی کے دور میںسمارٹ فون نہیں خرید سکتے اور نہ وہ انٹر نیٹ پر آنے والا خرچہ برداشت کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔جن غریب بچوں کے پاس آن لائن سہولیات دستیاب نہیں ہیں وہ سکولوں کا راستہ ہی بھول چکے ہیں ۔2016میں عوامی ایجی ٹیشن کے دوران وادی کشمیر کے دہی علاقوں میں تعلیم یافتہ نوجوانوں نے رضا کارانہ طور پر’ کمیونٹی تعلیمی مراکز‘ کا قیام عمل میں لایا تھا اور اپنے اپنے علاقے میں بچوں کو مفت تعلیم دی تھی۔ اس طرح کا کوئی اقدامات ایسے علاقوں میں اٹھانے کی ضرورت ہے جہاں لوگ بچوں کو آن لائن تعلیم نہیں دے سکتے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی ادارے آن لائن کلاسز دیکر بچوں کو سکول نہ جانے کا متبادل فراہم کررہے ہیں اور لاکھوں طلاب اس سے مستفید بھی ہورہے ہیں لیکن ہزاروں کی تعداد میں ایسے غریب بچے بھی ہیں جو تعلیم حاصل کرنے سے رہ جاتے ہیں۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر سرکار کو کوئی ایسی پالیسی وضع کرنی چاہیے تاکہ یہ ہزاروں غریب بچے تعلیم حاصل کرنے سے پیچھے نہ رہ جائے۔کپوارہ ضلع کے ٹیٹوال ، سیماری ، امروہی ، بیاڑی کے علاوہ ضلع کے کیرن ، جمگنڈ ، بڈنمل اور دیگر علاقے میں انٹر نیٹ کی کوئی بھی سہولیات نہیں ہیں ۔ااسی طرح اوڑی اور گریز کے اکثر علاقوں میں یا تو انٹر نیٹ کی سہولت ہی دستیاب نہیں، اگر کسی جگہ دستیاب ہیں تو سپیڈ کم یا کمزور سگنل کی وجہ سے کلاسز دینا انتہائی مشکل عمل ہے ۔ادھر جموں کے ڈوڈہ ، کشتوار ، ریاسی ، مڑوہ ، دچھن کے علاوہ دیگر کئی علاقوں میں انٹر نیٹ ہی دستیاب نہیں ہے۔ماہرین کا کہنا ہے اس وقت جموں وکشمیر میں کئی ایک سکیمیں چل رہی ہیں جس کے تحت بچوں کو وردی ، کتابیں ، مڈڈے میل اور دیگر مراعات ملتی ہیں ۔ اگر سرکار کو واقعی آن لائن نظام سے بچوں کو مستفید کرنا ہے تو ایسے غریب بچوں کیلئے ان ہی سکیموں کے تحت فی کنبہ ایک موبائل فون خرید کر دینا چاہیے تاکہ یہ بچے بھی مستفید ہو سکیں ۔محکمہ ایجوکیشن کے ایک اعلیٰ افسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ آن لائن کلاسز کے ذریعہ کافی تعداد میں بچے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور جن علاقوں میں انٹر نیٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہے وہاں کے بچوں کو کیمونٹی کلاسز دی جارہی ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ دور دراز علاقوں کے بچوں تک سٹیڈی میٹریل بھی پہنچایا جاتا ہے ۔