دین اسلام کو دین ِ فطرت کہا جاتا ہے اور اس کے دین ِ فطرت ہونے میں زرہ برابر کوئی شک ہے بھی نہیں ۔ دین ِ اسلام میں حلال اور حرام کا موضوع بالکل صاف صاف بیان کر دیا گیا ہے۔دین اسلام نے جہاں بہت سی چیزوں کو اس کے ماننے والوں کے لئے حلال قرار دیا ہے وہیں بہت سی چیزوں سے سختی کے ساتھ منع یا حرام بھی فرمایا ہے۔’’جوا‘‘ ان ہی حرام کاموں میں سے ایک کام ہے جس کے بارے میں قرآن مقدس کا ارشاد ہے:
1۔’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو ،یہ شراب اور جوا اور یہ آستانے اور پانسے ، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیز کرو، امیّد ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی ‘‘۔(المائدہ 90)
2۔’’ تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں تم فرمادو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے‘‘۔ (البقرہ 219)
دنیا میں مختلف ادوار میں جوا کھیلنے کے مختلف طریقے رائج رہے ہیں۔ جن میں سے کچھ آج بھی موجود ہیں۔لیکن آن لائن یا انٹرنیٹ پر جوا کھیلنے کا رواج برِصغیر میں پچھلے چند سالوں سے اور مغرب اور یورپ میں پچھلی چند دہائیوں سے اپنے عروج پر پہنچا ہوا ہے۔
مسلمان معاشرے میں یہ برائی اس قدر زور پکڑتی جا رہی ہے کہ اگر وقت پر اس کا سدباب نہ کیا گیا تو آگے چل کر یہ ایک خوفناک صورت اختیار کر لے گی۔
موجودہ وقت میں انٹرنیٹ پر ایسی سینکڑوں اپلیکشن موجود ہیں جن کی مدد سے آن لائن جوا کھیلنے کا کام باآسانی کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً
Dream11, Howzat, My11Circle, My Team11,MPL
اور اس طرح کی بہت سی ایپس موجود ہیں۔
آن لائن جوا کھیلنے کے لئے سب سے زیادہ جس شعبے کا انتخاب کیا جاتا ہے وہ کھیل یعنی سپورٹس ہے جس میں کرکٹ، اور فٹبال سرفہرست ہیں۔
ان آن لائن ایپس کا استعمال کر کے ٹیمیں بنائی جاتی ہیں اور پر ان پر پیسے کا داو لگایا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ پر اس کی باظابطہ طور پر تعلیم دی جاتی ہے اور بہت سارے چینلز ایسے موجود ہیں جو یہ ٹیمیں بنانے اور ان پر پیسے لگانے کا طریقہ سکھاتے ہیں۔
ہندوستان اور پاکستان جیسے ممالک میں اگر چہ جوا کھیلنا قانوناً جرم ہے لیکن آن لائن جوا کھیلنے کی ہر فرد کو مکمل آزادی حاصل ہے اور تو اور فلموں کے اداکار اور کرکٹ کے کھلاڑی آن لائن جوا کھیلنے کے لئے موجود ایپلیکشنز کے اشتہارات کی تشہیر بھی کرتے نظر آتے ہیں اور بدقسمتی یہ کہ معاشرے کے افراد بہت آسانی سے اس کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔
نوجوان طبقے میں آب لائن جوا بازی کی لت اس قدر زور پکڑ چکی ہے کہ مساجد میں نماز کے اوقات کے دوران بھی وہ اس کام میں مشغول رہتے ہیں۔رمضان کے مقدس مہینے کا بھی اب کچھ پاس نہیں رہ گیا۔
قران مقدس نے جس صراحت کے ساتھ جوا کھیلنے اور اس کام کی ملامت کی ہے اس کے بعد ایک سلیم الفطرت شخص کے لئے کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ وہ اس کام کی طرف قدم بڑھائے۔مسلم معاشرے کے فرد کو اس بات کو ہر حال میں جان لینا چاہئے کہ دین اسلام میں جس چیز کی ممانعت فرمائی گئی ہے اسے اس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اسلام اس چیز کے خلاف کیوں ہے ؟ اس کے جواب سے قبل ہمیں ایک چیز سمجھ لینی چاہئے کہ قرآن مجید کی کوئی بھی بات حکمت سے خالی نہیں۔ جب ہم ایک نظر گزرے زمانے پر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جوئے کی لت نے کس طرح انسانوں کو اپنے چنگل میں پھنسایا ہے۔
ہوتا یہ ہے کہ دو یا دس یا سو افراد کسی کام پر اپنا پیسا یا جائداد داو پر لگاتے ہیں اور ہارنے کی صورت میں سب لوگ اپنا مال گنوا بیٹھتے ہیں اور جیتنے کی صورت میں ایک فرد تمام افراد کا مال حاصل کر لیتا ہے۔ جوئے اور شراب کا ایک زمانے سے ایک دوسرے کے ساتھ گہرا تعلق چلتا آ رہا ہے۔ اسی لئے قرآن مجید نے بھی ان دونوں کاموں کو ایک ساتھ موضوع بنا کر فرمایا کہ یہ گندہ شیطانی کام ہے۔
اس وقت دنیا بھر میں کروڑوں لوگ آن لائن جوا کھیلتے ہیں جن میں مسلمانوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ لاکھوں اور کروڑوں روپے آن لائن جوا کھیلنے میں صرف کئے جاتے ہیں کچھ لوگ ایک رات میں کروڑوں روپے کما لیتے ہیں اور کچھ لوگ دنوں میں ہی سڑک پر آ جاتے ہیں اور یہ ایک بڑی وجہ ہے کی اسلام میں جوا کھیلنے کو حرام قرار دیا گیا۔معاشرے کی ترقی اور بھلائی کے لئے ہر فرد کا یہ حق بنتا ہے کہ جب قرآن مجید جب کسی مسئلے پر صراحت اور صفائی کے ساتھ اپنی بات پیش کر دے تو وہ اس کے سامنے سر خم تسلیم کرے۔یاد رہے کہ آن لائن جوا کھیلنے والے فرد کے دماغ میں ضرور یہ بات گردش کرتی ہو گی کہ سو یا پچاس روپے جوئے میں لگانے سے اس کا کون سا بڑا نقصان ہو جائے گا۔ لیکن یاد رہے یہ برائی نشے کی حد تک انسان پر حاوی ہو جاتی ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ جب تک وہ اسے انجام نا دے اسے چین نہیں آتا۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ قرآن نے جوئے اور شراب کو ایک ساتھ بیان فرمایا ہے اور اسے گندہ شیطان کام قراد دیا ہے سو جس طرح شراب کی کم سے کم مقدار بھی حرام ہوگی اسی طرح جوئے کی کم سے کم مقدار بھی حرام ہوگی۔کسی بھی صالح معاشرے میں یہ دونوں کام برابر کی برائی سمجھے جائیں گے۔
لہٰذا ہر فردِ واحد کو اس بات کی پوری پوری کوشش کرنی چاہئے کہ وہ خود کو اس کام سے جتنا دور رکھ سکے رہے۔ کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ میدانِ حشر میں ہم سے ہماری کمائی کا حساب لیا جائے گا اور پوچھا جائے گا کہ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟۔
تم ایک پل کے لئے ہم سب مل کر اس بات کو محسوس کریں کہ ہمارا رب ہم سے یہ سوال پوچھ رہا ہے اور ہمارے پاس اس کا کو جواب نہ ہو تو کیا ہوگا؟
( مغل میدان، کشتواڑ۔رابطہ : 8492956626)
(طالبعلم پی ، جی شعبہ اردو گورنمنٹ ڈگری کالج بھدرواہ)