گردش دوران کے ساتھ ہی سن1441ہجری کا سورج غروب ہوچکا اور 1442ہجری پوری تابانیوں اور سروسامانیوں کیساتھ جلوہ گر ہے۔یہ بات تو طے ہے کہ دنیا میں رائج ساری تاریخیں کسی نہ کسی بڑی شخصیت کی ولادت، کسی کی تخت نشینی ، یاکسی قوم کی کسی خاص شادمانی کے دن کی مظہر ہیں۔لیکن اسلامی تاریخ اور سن ہجری کی اپنی ایک الگ حقیقت اور ایک خاص مقام ہے۔ اور اس سن کا تعین کرنے کیلئے خلیفہ دوم سیدنا عمر ؓکی سربراہی میں منعقد ہونے والے اصحاب رسول ؐ کی وہ عظیم نشست خاص اہمیت کی حامل ہے۔ جس نے اس حوالہ سے اسلامی تاریخ کے اہم ایام اور خاص ادوار پر کامل غور وفکر کرکے اس سن کی بنیاد اْس واقعہ ہجرت پر رکھدی جس کی یاد آتے ہی اسلام کے صدر اول میں اس کی غربت اور کفر وطاغوت کی جانب سے مسلمانوں پر ہورہے جور وظم اور قہر وستم کی یاد دلا کر حساس دلوں میں ایک ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ اورجب باطل اس نور حق کو بجھانے کیلئے اپنے سارے دائو اور گر آزما رہا تھااور مٹھی بھر اہل ایمان کا جینا حرام کرنے کیلئے اْس نے اپنی تمام قوت اس میں جھونک دی تھی۔ اْدھر اس کی پنجہ آزمائی جاری تھی۔ اور ادھر اہل حق کے ایمان میں ہر نئے وار پر روز افزوں اضافہ تھا۔ ان ہی حالات میں رب جلیل کی جانب سے جب اس چھوٹی سی جماعت کو اپنے ایمان کو بچانے اور دعوت کا فریضہ نسبتاً پرسکون ماحول میں انجام دینے کیلئے مدینہ منورہ کی جانب رخت سفر باندھنے کا حکم ملا۔ اور یوں ان پیکران خلوص نے اپنے گھر بار کو چھوڑنے کے ساتھ ساتھ اپنی رشتہ داریوں اور تعلق و وابستگیوں کو ایمان جیسی متاع گراں مایہ پر قربان کرکے عازم مدینہ ہونے کے کام کا آغاز کیا۔ ہجرت کے اسی صبر آزما مرحلہ کے نام پر اسلامی سنہ کا آغاز اس بات کا غماز ہے کہ اہل ایمان ہر زمین وزمن میں اس بات کو پلے باندھ لیں کہ مسلمان اس دین حق کے فروغ وپھیلائو کے ساتھ ساتھ ایمان جیسی نعمت عظمیٰ کو بچانے کیلئے مال ومتاع ہی نہیں بلکہ وطن جس کے ساتھ ہزاروں تلخ وشرین یادیں وابستہ ہوا کرتی ہیںکو چھوڑنے سے بھی نہیں کتراتا۔
آج چودہ سو برس سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے۔یہ دین اپنی حقانیت کی بنا پر روز ہزاروں لوگوں کے دلوں کو نشانہ بنا کر اْنہیں اپنے دامن عاطفت میں جگہ دے رہا ہے۔ حق تو یہ ہے کہ اسلام کی ترقی کا راز اس کی سادگی ہے یہ کوئی ناقابل فہم فلسفہ نہیں۔ اور نہ اس کی عبادات بوجھل اور بھاری اور نہ یہ روحانیت اور عرفان کے حصول کے نا م پر مشقت عبادات کاموجد بنا۔ نہ اس نے الٰہ تک رسائی کیلئے رہبانیت کا راستہ اپنانے کو کہا۔اس کی فطری سادگی کا اعتراف جارج سیل کے انگریزی ترجمہ قرآن جو پہلی بار 1734ء میں چھپا کے پانچویں ایڈیشن کے دیباچہ میںسر ایڈ ورڑ ڈینی ساز نے یوں کیا : ’’محمدؐکی تعلیمات کا بنیادی اصول توحید تھا۔ اس کی تبلیغ آپ ؐ نے عرب معاصرین کے سامنے کی جو ستاروں کو پوجتے تھے۔ ایرانیوں کے سامنے کی جو یزداں و اھرمن کو مانتے تھے۔ ہندوستانیوں کے سامنے کی جو بتوں کو پوجتے تھے، ترکوں کے سامنے کی جو کسی خاص چیز کے پرستار تھے۔ عقیدئہ توحید کی سادگی کااسلام کی توسیع واشاعت میںغالباً غازیوں کی تلوار سے زیادہ بڑا عمل تھا۔ ایک تعجب خیز واقعہ ہے کہ ترک جن کی فوجی یلغار ناقابل مزاحمت بن گئی تھی ان سب کو اسلام کے عقیدہ نے فتح کر لیا‘‘۔
اس کی تواضع خاکساری اور رحمدلی پر مشتمل تعلیمات اسوقت زیادہ نکھر کر سامنے آگئیں جب مسلمان دنیا کے ایک بڑے حصے کو زیر نگین بنا گئے۔ اس وقت جب فاتحین اپنے ہوش وحواس کھو کر ساری دنیا سے خراج لینے اور غلام بنانے کا دم بھرتے ہیں۔ ان فاقہ مستوں اور خرقہ پوشوں نے حکمرانی کے مناصب پر فائز ہوکر بھی اس فاقہ مستی کی لاج رکھدی۔ آقا و غلام کی تمیز مٹادی۔ ظالم سے مظلوم کا حق دلوادیا۔اور سیاہ وسفید کو ایک ہی مسند پر بٹھا کر بزبان حال وقال اعلان کردیا کہ بڑا وہی جو اللہ سے زیادہ ڈرنے والا اور بندوںکے حقوق کی ادائیگی کرنے والا ہو۔اور دنیا تبھی راحت رساں بن سکتی ہے جب انسان ایک پابند یعنی الٰہی نظام کے دائرے میں رہ کر زندگی جینے کا عہد کرے۔یہ بات توطے ہے کہ انسان کا مل آزادی اور قوت کا متحمل ہے۔کیونکہ اسے جب کامل اقتدار ملتا ہے تو ظلم وفساد کی حد یں پار کرلیتا ہے ،جب تک اس کے اقتدار کی ڈور خالق کے ہاتھ میں اور نظم حکمرانی اْس کے فرامین کی روشنی میںنہ ہو۔یہی بات امریکہ کے مشہور بیالوجسٹ بی ایف اسکز اور ان کے ساتھیوں نے اس مسئلہ کا خالص حیاتیاتی سائنس کی روشنی میں مطالعہ کرکےBeyond Freedom and Dignityنامی کتاب میں کیا ہے۔ بتاتے ہیں کہ ’’ انسان اپنی ساخت کے اعتبار سے اس قابل ہے ہی نہیں کہ وہ کامل آزادی کا تحمل کرسکے (we cant afford freedom)کہہ کر وہ اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ انسان کو لامحدود آزادی نہیں ایک پابند نظام چاہیے۔ یہی اس کی حیاتیاتی فطرت کے زیادہ مطابق ہے۔ہاںیہ پابند نظام ( Culture Disciplined)وہی پابند نظام ہے جو نظام ربانی ہے۔ عالمگیر ہے۔ آفاقی ہے۔ اس میں لچک ہے۔ اور زمین وزمن میں پیدا ہونے و الے سبھی مسائل کا حل اس کے پاس موجود ہے۔ (فھل من مذکر)۔
بہر حال بات ہجرت کے صبر آزما واقعہ سے شروع ہوئی تھی کہ جب روشنی کے رکھوالوں نے سیاہی شب کے پاسبانوں کے سامنے خم ٹھونک کر یہ بات کہی کہ دنیا ادھر سے اْدھر ہوجائے اسلام کی مشعل نور ظلمتوں کا سینہ چاک کرکے رہے گی۔ اور اللہ اس روشنی کو عام کرکے ہی رہے گا۔چاہے عالم کفر اس کوکتنا ہی ناپسند کیوں نہ کرے۔اور پھر اس دعوت حق کو عام کرنے اور اپنے ایمان کو بچانے کیلئے ہر دور میں وطن اور مال ومتاع تو الگ صاحبان ایمان نے جان سے گذرنے کی قیمت پر بھی ایمان جیسی متاع عزیز کو بچائے رکھا۔ اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
کوئی عطا اہل ایمان سے یہ دولت چھین نہیں سکتی۔ اور نہ کوئی جفا ایسا کرنے میں کامیاب ہوسکی ہے۔ ہاں مسلمانوں پر بھی غربت کے سائے پڑیں ، آفات کا نزول ہو، فقر وفاقہ کی نوبت آئے تو مختلف تحریکیں اور نظریات ان سے ایمان جیسی بیش قیمت شئے کے دائو لگانے کیلئے ہر قیمت دینے پر آتی ہیں۔ لیکن تاریخ کا بے غبار سچ ہے کہ مسلمان ہمیشہ متاع ایمان کو جی جان سے زیادہ عزیز سمجھتا ہے۔ مسلمانوں کی یہ ہجرتیں فاقہ مستیاں ، وطن بدریاں ، ان پر قہر وستم کی یورشیں مال سے دست کشی اس بات کی عکاسی ہی ہے کہ ایمان جیسی بیش قیمت شئے کو بچانے کیلئے وہ کسی قربانی سے ہچکچائیں گے نہیں۔اور نہ کسی منڈی میں اس متاع کو کسی ترغیب وتحریص یا جاہ ومنصب کے عوض بیج دینے کی بات ان کے حاشیہ خیال میں بھی آسکتی ہے۔ اس تعلق سے تاریخ نے اپنے دامن میں ہزاروں واقعات سمیٹ کے رکھ دئے ہیں۔سیدنا کعب بن مالک ؓ کا وہ واقعہ شاید ان سبھی درخشاں واقعات کی ترجمانی کرسکے۔ جب رسول اللہؐ نے ایک خاص موقع پر مسلمانوں کو ان سے تاحکم ربانی قطع تعلقی کا حکم دے دیا۔ تو خدا کا پیارا بندہ اپنوں میں بیگانہ ہوکے رہ گیا۔ یہاں تک کہ اْسے اپنی بیوی سے بھی دور رہنے کا حکم ملا۔ تو متاع ایمان کے بچائو کا معاملہ ہی تھا۔کہ ہر تادیبی کاروائی راحت جاں محسوس ہوئی اوریہی بات اس خطۂ میمون کے گرد ایک حکمران کے کانوں میںکیاپڑی تو اس اْمید سے ایک قاصد اْن کی خدمات میں یہ کہہ کر بھیج دیا کہ آئو تمہیں تمہارے پیغمبر ؐ نے تم کو اپنے سے جدا کردیا ہے۔ آئو میرے ایوان شاہی کے دروازے وا ہیں۔ تجوریوں کے منہ کھلے ہیں۔ عیش ونشاط باہیں پھیلائے تمہارے منتظر غلام وباندیاں تمہارے چشم براہ میر ے مصاحِب خاص بن کر رہو۔ مقام بلند پر سرفراز کروں گا۔ پھر دیکھئے اللہ کے اس بندے کے منہ میںپانی نہیں آیابلکہ بدن کا رْواں رْواں کانپ اْٹھتا ہے۔ غیرت ایمانی چہرے کو سرخ بنادیتی ہے اور یہ کہتے ہوئے کہ اس پیشکش سے بڑھ کر دنیا میںکوئی دوسری مصیبت ہو ہی نہیں سکتی وہ خط نذر آتش کردیا اور اپنے اسلام وایمان کی متاع بیش بہا کی حفاظت کی۔
حالیہ ادوار میں بھی مختلف گوشہائے زمین میں کہیں مسلمانوں کی اْمیت کا ناجائز فائدہ اٹھا نے اور کہیں ان کی غربت کا استحصال کرکے ان کی متاع ِ ایمانی کو سیم و زر سے خریدنے کی ناکام کاوشیں ہوئیں۔ خریدنے کے خواہش مند نہیں جانتے کہ مسلمان جس کتاب سے منسلک ہیں وہ آخری الہامی کتاب ہے اور دنیا کا سب سے بڑا معتبر ، تاریخی اور زندہ معجزہ جس سے ان کا رشتہ کاٹا جاسکتا ہے اور نہ کمزور کیا جاسکتا ہے۔
موجودہ دور آزادی میں ہر چیز ہر کتاب اور فکر وفلسفہ کی جانچ ہونے لگی۔ ناقدین نے دوسری کتابو ں کے ساتھ ساتھ قرآن کی بے رحمانہ جانچ کی۔ لیکن بات جونکھر کے سامنے آگئی تو انہیں یہ اعتراف کیے بنا چارئہ کار نہ ر ہا کہ قرآن ایک محفوظ کتاب ہے۔یہ ایک معتبر اور تاریخی معجزہ ہے۔ جبکہ دوسری کتابوں کو یہ تاریخی اعتباریت حاصل نہیں۔
یہی اسلام کا فطری اور ابدی حسن ہے ، جس کی شبیہ کو بگاڑنے کی کاوشیں تو ہوئیں لیکن ہر کوشش ناکامی پر منتج ہوئی۔ اور حق بات تو یہ ہے کہ مخلوق بھلا خالق کے دین کو کیا بگاڑ سکتی ہے اور قرآن کا واضح اعلان اپنی حقانیت منواتا رہے گا۔
( یریدون لیطفو نوراللہ واللہ متم نورہ ولوکرہ الکافرون) … اور اسلام کے سوا ہر نظریہ اس کے بارے میں یہ نوشتہ دیوار پڑھ چکا ہے ۔جتنا کہ دباویں گے اتنا ہی یہ اْبھر ے گا۔
رابطہ۔9419080306