والٹئر کے مطابق "اگر آپ مجھ سے بحث کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اپنی اصطلاحات کو واضح کریں!" معاملہ بالکل قابل فہم ہے کہ یہ اصطلاحات ہی ہیں جو اگر واضح ہوں تو کسی کے نقطہ نظر یا بالفاظ دیگر فلسفے کو سمجھنے میں مدد کرتی ہیں اور اگر گنجلک اور مبہم ہوں تو ذہنی الجھنیں جوں کی توں برقرار رہتی ہیں۔ اب اگر نظریات پہلے سے ہی باہم بر سر پیکار ہوں تو ٹکراؤ ایسی صورت اختیار کرلیتا ہے کہ مختلف نظریات کے حامی ایک دوسرے کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تل جاتے ہیں۔ البتہ جب نظریات کے حاملین ایک دوسرے کو مادی اور عسکری میدان میں زیر نہیں کرپاتے تو اس صورت میں بھی مختلف اصطلاحات ہی کا سہارا لیا جاتا ہے تاکہ مد مقابل کو فکری اعتبار سے نیچا اور کم تر دکھایا جاسکے۔
جہاں تک اصطلاحات کا تعلق ہے تو جس طرح یہ کسی علمی مسئلے کو سمجھنے کے لئے وجود میں آتی ہیں، اسی طرح یہ کسی فلسفہ حیات یا نظریہ حیات کے لئے بھی وضع کی جاتی ہیں۔ البتہ فلسفہ یا نظریہ کوئی ایسی شے نہیں ہے کہ اس کو صرف ایک یا چند ایک اصطلاحات میں بیان کیا جاسکے۔ یہ بات درست ہے کہ کوئی خاص نظریہ اپنی چند چیدہ چیدہ اصطلاحات کے لئے جانا جاتا ہے جو مجموعی طور پر اسی نظریے کے لئے خاص ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر اشتراکیت کے لئے پرولتاریہ ( Havenots،Proletariat) اور پورڑوا ( Bourgeoisie Haves) کی اصطلاحات بہت ہی اہم ہیں۔ اسی طرح جمہوریت کے لئے جمہور، رائے دہندگی، آزادء اظہار رائے اور اسی قبیل کی بہت ساری اصطلاحات رائج ہیں۔ لادینیت (Secularism) کی بھی اپنی مخصوص اصطلاحات ہیں جن سے اس نظریے کا مذہب کے تئیں رویے کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ نرم لادینیت ( Soft Secularism) مذہب کو معاشرت اور سیاست سے بے دخل تو کرتا ہے لیکن مذہب کے خلاف کسی محاذ آرائی کا قائل نہیں ہے۔ البتہ سخت لادینیت ( Hard Secularism) ہر لحاظ سے مذہب کو ناقابل برداشت تصور کرتا ہے۔ آزاد خیالی (Liberalism) بھی اگرچہ مذہب کی تحقیر پر ہی مبنی ہے لیکن یہ مذہب کو برداشت کرتی ہے۔ تکثیریت (Pluralism) کسی حد تک مذہب کے تئیں اعتراف اور احترام کے حق میں ہے۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ جمہوریت نے بھی بڑی بڑی جمہوریتوں میں Majoritarianism کی شکل اختیار کی ہے۔ ان جمہوریتوں میں، اگر ہم ان کو جمہوریت کہنے میں حق بجانب ہیں، اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری باور کیا جاتا ہے۔ اب تو بات یہاں تک پہنچی ہے کہ اقلیتوں کو شہریت سے محروم بھی کیا جارہا ہے۔
مندرجہ صدر اصطلاحات، جو مجموعی طور پر یورپ کی نشات ثانیہ (Renaissance) کی پیداوار ہیں، میں مذہب کو منفی انداز پیش کیا گیا ہے۔ اصل میں مغربی دانشوروں، فلاسفہ اور سائنسدانوں کو کلیسا کی طرف سے جس صورتحال کا سامنا رہا اس کو انہوں نے تمام جنس ادیان پر منطبق کیا۔ مثال کے طور پر جب گلیلیو نے زمین کو نظام شمسی کا مرکز ماننے سے انکار کیا تو پاپائیت ان سے کچھ اس طرح برہم ہوئی کہ ان کو کٹہرے میں پہنچایا گیا۔ چوں کہ مغربی محققین کی ایک جماعت (مشتشرقین، Orientalists) نے پہلے سے مشرقی ثقافت کا مطالعہ شروع کیا تھا، اس لئے انہوں نے مذہب بیزاری کا رخ اسلام کی طرف پھیر دیا۔ چوں کہ یورپی استعمار نے تیسری دنیا پر بالعموم اور دنیائے اسلام پر بالخصوص اپنی حکمرانی قائم کی تھی اس لئے مفتوحین کے اوپر مرعوبیت طاری ہوگئی۔
مغرب کا اسلام اور اسلامی ثقافت کا مطالعہ اگر بدنیتی پر نہیں تو تنگ نظری اور تعصب پر ضرور مبنی تھا۔ اگر مشتشرقین کے مطالعہ اسلام کا تقابل اسلامی مفکرین اور مسلمان حکمرانوں کے مغرب اور مغربی تہذیب کے تئیں رویے سے کیا جائے تو آخرالذکر کا رویہ ناصرف روشن خیالی پر مبنی رہا ہے بلکہ کئی ایک جگہوں پر اس کو آزاد خیالی پر متصور کیا جاسکتا ہے۔ مغرب میں محنہ (Inquisition) کا ادارہ مذہب کو تحفظ دینے کے لئے قائم کیا گیا جبکہ اسلامی دنیا میں، خاصکر دور عباسی میں ایسا ہی ادارہ عقلیت (Rationality) کو تحفظ دینے کے لئے قائم کیا گیا۔ جہاں دنیائے اسلام میں اس ادارے کے شکار مذہب کے راسخ العقیدہ حاملین (جن کی قیادت امام احمد ابن حنبل، رح، کررہے تھے) بنے تو مغرب میں اس ادارے نے کئی مشہور سائنسدانوں کو اپنا نشانہ بنایا۔ ہارون اور مامون خود اپنے دربار مین مختلف مذاہب کے دانشوروں کو بلاکر مذہبی اختلاف پر مباحث کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ خلافت اسلامیہ کے اسی سنہرے دور ( Golden Age) میں مسلمان محققین نے مغرب کے قدیم فلسفے کی بازیافت کی اور مغرب کے اس کھوئے ہوئے سرمائے کو کامل دیانتداری کے ساتھ اسپین' سسلی اور اٹلی کے واسطے مغرب کو منتقل کیا۔ مسلمانوں نے کبھی بھی ارسطو (Aristotle) کی تحقیر نہیں کی۔ مسلمانوں نے ارسطو کی فلسفیانہ عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے اس کو "الاستاذ الاول" ( The First Teacher) کا خطاب دیا۔ مسلمانوں نے جب ہند سے صفر دریافت کیا تو اسی صفر نے عرب کے ہندسوں (۱۔۔۔۔۔۔۹) سے مل کر Hindu۔Arabic اعداد کا نظام مغرب کو منتقل کیا، جس سے رابرٹ بریفالٹ کے مطابق مغرب میں رومی اعداد کی وجہ سے پیدا شدہ ایک ہزار سالہ جمود ٹوٹ گیا- ابوبکر رازی جیسے فلسفی اور ماہر طب، جسے اہل مغرب Rhazes کے نام سے جانتے ہیں، نے مذہب پر کھلی تنقید کی۔ اس کے باوجود اس پر کسی مسلم حکمران نے جبر نہیں کیا اور نا ہی اس کی آزادء اظہار رائے پر کوئی قدغن لگائی!
یہاں پر ہماری غرض و غایت قطعا" یہ واضح کرنا نہیں ہے کہ سائنس میں مسلمانوں کا کتنا حصہ ہے بلکہ ہمارا مقصود صرف اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ اسلام نے کبھی بھی سائنس مخالف رویہ اختیار نہیں کیا، جس کا مغرب مدعی ہے اور جس کا تجربہ مغرب کو کلیسا سے ہوتا رہا۔ اسی رویے کا نزلہ مغرب دنیائے اسلام پر گراتا رہا ہے۔ یہاں تو معاملہ بالکل برعکس رہا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب امام غزالی نے "تہافت الفلاسفہ" لکھ کر فلسفے کی مبادیات کو آڑے ہاتھوں لیا تو ابن رشد نے، ایک اعلٰی پایہ مجتہد ہونے کے باوجود، "تہافت التہافت" لکھ کر اس کا کامل رد کیا۔ اسی وجہ سے ڈانٹے نے Comedy Divine میں ابن رشد کو Commentator Greatکا خطاب دیا ہے۔ یہاں پر یہ اشارہ کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ڈانٹے، جو اٹلی میں یورپ کی نشات ثانیہ کا نقیب تھا، نے ہر غیر عیسائی مفکر کو "کافر" (Infidel) قرار دیکر جہنم کا حقدار ہی نہیں بلکہ جہنم میں زیر عتاب دکھایا ہے۔ یہی مغرب اسلامی تعلیمات میں لفظ "کافر" کو دیکھنے کا روادار نہیں ہے!
تحقیق و سائنس کے تئیں مسلمانوں کا رویہ دور سلاطین میں بھی تبدیل نہیں ہوا۔ مسلمانوں نے حتی الوسع غیر اسلامی نظریات کا معروضی مطالعہ کرنے کی کوشش کی۔ محمود غزنوی کے دور میں ابو ریحان البیرونی نے ایک سچے محقق کی طرح ہندی تہذیب و ثقافت پر کام کیا۔ یہاں پر یہ بات ہمارے ذہن میں رہنی چاہئے کہ اہل ہند نے اپنے آریائی تفاخر سے مغلوب ہوکر مسلمانوں کو ہمیشہ "ملیچھا" اور "ترشکا" کے خطابات سے نوازا۔ البیرونی نے ان کی اس نفسیات کے علی الرغم ہندومت کو بحیثیت مذہب اس صورت میں سراہا کہ اس کو یونانی مذاہب کے ہم پلہ قرار دیا کہ دونوں تہذیبوں میں شرک کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ "کتاب الہند" دراصل اسی معروضی مطالعے کا ایک شاہکار ہے۔ البیرونی نے اہل ہند کے ایک اور رویے کو بھی بیان کیا ہے کہ یہ لوگ اپنے جغرافیائی حدود سے باہر جانا پسند نہیں کرتے۔ ہنود نے دور جدید میں اپنے اس رویے کو بھی اپنی خوبی کے طور پر پیش کیا ہے کہ "ہم نے اپنی ۰۰۰۵ سالہ تاریخ میں کبھی کسی ملک پر حملہ نہیں کیا ہے!"
بہرحال مغرب کے وہ نظریات جن کی توضیح اور تشریح کرتے ہوئے مغربی مفکرین اسلامی فکر کو ہدف تنقید بلکہ ہدف تنقیص بناتے ہیں، ارض فرانس سے بالعموم اور فرانسیسی انقلاب سے بالخصوص پھوٹے ہیں۔ فرانس کو مغربی فکر کا امام ہونے اور اسلام کے خلاف محاذ کھلا رکھنے پر فخر بھی ہوسکتا ہے۔ اہلیان فرانس نے یاد رکھا ہوگا کہ انہوں نے ہی 732 ء میں ٹورس (Tours) کے میدان میں صلیب کو سہارا دیا تھا نہیں تو پورپ کے بڑے حصے پر ہلال کی حکمرانی قائم ہوچکی ہوتی۔ البتہ انہیں ساتھ ساتھ یہ بات بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جن یہودیوں کو صلیب کے ماننے والوں نے برسوں تک تختہ مشق بنائے رکھا ان کو اگر کبھی تاریخ میں راحت کی سانس لینے کا موقع ملا ہے تو وہ یا تو مسلم اسپین میں ملا یا پھر سلطنت عثمانیہ کے شہری بن کر۔ یہاں پر یہ بات واضح کرنا بہت ضروری ہے کہ اہل کلیسا نے ہمیشہ اپنی شکست کا بدلہ اسلامی مقدسات کے خلاف مغلظات سے ہی لیا ہے۔ اسپین میں اہل کلیسا نے ایک باضابطہ تحریک چلائی جس کا طریق کار یہ تھا کہ چند جنونی اسلام، قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلم امراء کے درباروں میں توہین کرتے تاکہ مسلم حکمراں انہیں تیش میں آکر قتل کریں اور وہ درجہ شہادت حاصل کرسکیں۔ اس کے باوجود یہ حکمراں عدالتی کارروائی کے بغیر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتے تھے-
(مصنف ڈگری کالج کوکرناگ میں اسلامک سٹڈیز کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔)
ای میل۔ [email protected]
موبائل نمبر۔ 9858471965