سرزمین کشمیر ابتدا ہی سے فطری حُسن وعشق کی زیبائی اور رعنائی کے عاشق سخن وروں کاایک محبوب موضوع رہا ہے ۔اس سرزمین نے جہاں کئی فلسفہ دانوں اور دیدہ وروں کو اپنی آغوش میں پروان چڑھا کر دنیا کو اخوّت، محبت اور امن وآشتی کے حقیقی تصور سے آگہی دلائی دہیں دستِ فطرت نے اس کی خوبصورتی کے خدوخال کو خود سنوارکراسے سارے عالم میں ایک جمیل ترین خطہ بنایا جو سیاحوں ، حکمرانوں اور ادب نوازوں کیلئے اپنے اپنے طور پر خُلد بریں ثابت ہوا۔
کشمیر کے فلک بوس پہاڑوں ، ثمردارباغوں، پُر بہاردشت ودمن، بیابانوں اور خیابانوں کی مدح سرائی کا سلسلہ زمانۂ قدیم سے چلاآرہاہے، یہاں تک کہ بودھ مت کے دور میں بھی اُس وقت کے حکمرانوں اورشاعروں نے کشمیر کے حُسن وجمال کی بے حد تعریف وتحسین کی ہے ۔چنانچہ سنسکرت زبان وادب میں اس سلسلے میں کئی منظومات کے حوالے دستیاب ہیں لیکن بدقسمتی سے ابھی تک اُن فن پاروں کا کوئی فن پارہ اُردو میں ترجمہ کی شکل میں منتقل نہ ہو سکا ہے ۔ مغل ، پٹھان اور سکھ حکمرانوں نے یہاں صدیوں تک حکومت کی ہے ۔ اُس دور میں یہاں دیگر کئی ممالک کی طرح عربی، اور فارسی زبان وادب کا خوب چلن تھا اور پھر یہاں مغل بادشاہوں کی سرکاری پرستی کی وجہ سے فارسی زبان وادب خوب پھلی پھولی ۔چنانچہ حکمرانوں کے علاوہ مقامی شعراء نے بھی یہاں اسی بہترین عربی اور فارسی ثقافت کے زیراثر مذکورہ دونوں زبانوں میں کشمیر کے قدرتی حُسن وجمال کے ساتھ ساتھ یہاں کے پاکیزہ تمدن اور اعلیٰ روایات کو اپنے کلام میں سمویاہے۔ شیخ شہاب الدین ؒ جو سلطان حسن شاہ کے زمانے میں کشمیر آکریہاں ہی قیام پذیر ہوئے ۔موصوف صاحب باطن اور روشن ضمیر بزرگوں میں سے تھے۔ آپ نواکدل سرینگر میں دفن ہیں ۔ کشمیر کے قدرتی حسن وجمال کے ساتھ ساتھ یہاں کے امن اور بھائی چارگی کی عظیم روایات کی تعریف میں آپ فرماتے ہیں ؎
الکشمیر لِسکا نھا
جِنّٰتُ عدنِ ھی لِلمٔو میٖنن
قد کتب اللہ علیٰ بابھا
من دخلہ،کانَ من الامینن ۱؎
یعنی کشمیر اس کے باشندوں کے لئے خُلدبریں کے مانند ہے ۔ اس کے دروازے پر اللہ نے خودیہ رقم کیا ہوا ہے کہ جوبھی یہاں وارد ہو گا ،اُسے امن وآشتی کا ماحول ملے گا۔
مولانا شیخ یعقوب صرفی، مُلامحسن فانیؔ اور مُلاطاہر غنیؔ کشمیری یہاں کے وہ جلیل القدر سخن ورہیں جنہوں نے فارسی زبان وادب میں نہ صرف یہاں اپنی بیش بہا ادبی خدمات انجام دیں بلکہ اُن کے علم وفن کا ڈنکا ایران اور وسط ِ ایشیا تک جا پہنچا۔کشمیر میں علم وادب کی ترقی وعروج کا یہی وہ دور ہے جسے شاعر مشرق علامہ اقبال کی زبانی ایران صغیر کانام دیا گیا ؎
آج وہ کشمیر ہے محکوم ومجبوروفقیر
کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر ۲؎
یہ مقالہ چونکہ اُردو زبان کی اُن شعری تخلیقات پر مبنی ہے جو درمدحِ کشمیر تخلیق ہوئی ہیں اور جن میں اُردو زبان کے ساتھ ساتھ کشمیر کے حوالے سے اُن شعراء کافارسی کلام بھی شامل ہے ۔ مذکورہ شعراء کی تخلیقات کی تعداد سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں ابیات پر مشتمل ہے ۔ ان شعراء میں شاعر مشرق علامہ سرمحمد اقبال ،فانی بدایونی ، خوشی محمد ناظر، اثرلکھنوی ، حفیظ جالندھری ،شہ زور کاشمیری ،غلام احمد مہجور،عبدالاحد آزاد، جگن ناتھ آزادؔ اور آل احمد سرور سرفہرست ہیں۔لیکن طوالت سے پرہیز کرتے ہوئے یہاں صرف شاعر مشرق علامہ اقبال کے اُس کلام پر بحث کرنے کی کوشش کی جائے گی،جوانھوں نے کشمیری ثقافت اورفطری حُسن پر قلمبند کیا ہوا ہے۔ اس حقیقت سے سبھی خوب واقف ہیں کہ علامہ اقبال کے کلام کے علاوہ اُن کے خطوط میں بھی کشمیر کا ذکر خیر بار بار آیاہے اور پھر اُن کی اپنی حیات ِمستعارمیں بھی کشمیر اور مسائل کشمیر کی جو معنویت رہی ہے ، اُس سے کسی بھی حالت میں صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔اُس کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ کشمیر علامہ کاوطن ِ مالوف ہے اور وہ ایک عالمِ ہجر میں موتی عدن سے لعل ہواہے یمن سے دُور کے مصداق اس کے فطری حُسن اور اس میں رہنے والے باشندوں کے مختلف مسائل و مشکلات پر تادمِ مرگ برابر خامہ فرسائی کرتے رہے اور ساتھ ہی وہ اپنے لئے یہ سعادت اور فخر محسوس کرتے تھے کہ آپ کشمیر الاصل اور کشمیر النسل ہیں جبھی تووہ کہتے ہیں ؎
تنم گلے زِخیابان ِ جنتِ کشمیر
دل از حریم حجاز ونوازے شیر ازاست ۳؎
یعنی میرا جسم کشمیر کی جنت کی کیاری کا ایک پھول ہے مرادیہ ہے کہ میرا وطن کشمیر ہے اور میرا دل حجاز مقدس کا گھر ہے یعنی دینی لحاظ سے میں اسلام کا شیدائی ہوں اور میری نوایعنی غزل حافظ شیرازی اور سعدی شیرازی کی طرز پر ہے۔
فطرت دراصل ایک وسیع وعریض موضو ع ہے۔ اس کامطالعہ اور مشاہدہ انسانی کووسعت اور نظرکی رفعت عطاکرتا ہے ۔تخلیق کاروں ، شاعروں اور دیگر ادب شناسوں نے اپنی فنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکراس موضوع پر اظہار خیال کیا ہے لیکن جہاں تک شاعر مشرق علامہ اقبال کی فطرت پسندی کا تعلق ہے،انھیں فطرت کے ذرّے ذرّے میں شانِ خدا وندی نظر آتی ہے۔ اور ان مناظر کے ساتھ علامہ نے اپنا رشتہ ذہنی اور قلبی وابستگی کے ساتھ اس قدر مستحکم کیا تھا کہ اُن کے فارسی اور اُردو کلام میں ہزاروں مقامات پر فطرت اپنے جلوے دکھائی دیتی ہوئی اپنے مظاہر سے سکون وطمانیت کی عجیب حالت پیدا کرتی ہے ۔
علامہ اقبال رومانوی یا تخیلی شاعروں کی طرح ’’حسن صداقت ہے اور صداقت حسن ‘‘ ۴؎ (Beauty is Truth, Truth Beauty)کے برخلاف حُسن اور حق کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ تصور کرتے ہیں ۔ اسی لئے وہ ’’بانگ درا میں ’’ شیکسپیئر‘‘عنوان کے تحت اپنی نظم میں کہتے ہیں ؎
حسن آئینہ حق اور دل آئینہ حسن
دلِ انسان کو تراحسن ِ کلام آئینہ ۵؎
پروفیسر عبدالمغنی کے نزدیک اس فکر انگیز شعر میں حسن اپنی تمام کیفیات کے ساتھ ایک الگ مفہوم رکھتا ہے جبکہ حق کا مفہوم جدا ہے ۔ چنانچہ دونوں کے درمیان کوئی تلازم نہیں ہے ، اس لئے کہ حق کے برخلاف حُسن کے بعض مظاہر مبذل( حقیر سفلہ، رذیل اور خفیف) بھی ہو سکتے ہیں ۔ مثلاً خالص جنسی حُسن ،لہٰذا ء شاعر نے حسن کو اس کی مطلق شکل میں صرف آئینہ حق کہاہے یعنی حُسن کی بعض صورتوں یا جہتوں سے حق کا اظہار بھی ہو سکتا ہے ۔انہی صورتوں اور جہتوں میں ایک حُسن فطرت ہے جو اقبال کے خیال میں حُسن ِازل کا جلوہ پیش کرتا ہے ۔ ۶؎ اس سلسلے میں بال جبرئیل کا یہ شعر ملاحظ ہو ؎
حُسنِ ازل کی ہے نمود، چاک ہے پردہ وجود
دل کے لئے ہزار سود، ایک نگاہ کا زیاں ۷؎
دراصل فطرت پسندی کے اسباب میں توحیدوہ اہم ترین سبب ہے جس کی رُو سے ہر ذرہّ، پتا، شجر وحجراوررات دن اللہ کی وحدانیت کے نغمے الاپتے ہوئے نظر آتے ہیں اور یہ اسی ذاتِ اعلیٰ وارفع کے آثار ہیں جولافانی ولاشریک ہے اور شاعر مشرق کی فطری شاعری دراصل اسی توحیدی سپرٹ کے اردگرد گھومتی نظر آتی ہے۔
ـ’’ ارمغان حجاز‘‘ میں اُن کی معرف نظم ’’ ملازادہ ضیغم لولابی کشمیری کا بیاض‘‘ اس سلسلے میں ایک بے نظیر نظم ہے جس میں علامہ اقبال نے وادی کشمیر میں پاکیزہ چشموں ، پہاڑوں ،ٹیلوں،اور جھیلوں کے تذکرہ کے ساتھ ساتھ یہاں کے ھُنر مند اُوللعزم ہستوں کو بہترین خراج عقیدت ادا کیا ہے۔
اس طویل نظم کے چند اشعار یُوں ملاخط کیجئے ؎
پانی ترے چشموں کا تڑ پتا ہوا سیماب
مرغان سحر تیری فضائوں میں ہیں بیتاب
اے وادیٔ لولاب!
گرصاحب ہنگامہ نہ ہو منبرومحر اب
دین بندۂ مومن کے لئے موت ہے یاخواب
اے وادیٔ لولاب!
ہیں ساز پر موقوف نواہائے جگر سوز
ڈھیلے ہوں اگر تار توبیکار ہے مضراب
اے وادیٔ لولاب!
مُلاّکی نظر نورُ ِ فراست سے ہے خالی
بے سوز ہے میخانہ ٔ صوفی کی مَے ناب
اے وادیٔ لولاب!
بیدا ر ہوں دل جس کی فغان ِ سحری سے
اس قوم میں مُدّت سے وہ درویش ہے نایاب
اے وادیٔ لولاب! ۸؎
٭٭٭٭
کہہ رہا ہے داستاں بیدادیٔ ایام کی
کوہ کے دامن میں و ہ غم خانۂ دہقان پیر
آہ! یہ قوم نجیب وچرب دست وتردماغ
ہے کہاں روز ِ مکافات اے خدا ئے دیر گیر؟ ۹؎
٭٭٭٭
نصیب خطۂ ہو یا رب وہ بندۂ درویش
کہ جس کے فقر میں ا نداز ہوں کلیمانہ
چھپُے رہیں گے زمانے کی آنکھ سے کب تک
گُہر ہیں آب ولر کے تمام یک دانہ ۱۰؎
٭٭٭٭
ہمالہ کے چشمے اُبلتے ہیں کب تک
خضر سوچتا ہے وُلر کے کنارے ۱۱؎
٭٭٭٭
اُن کے فارسی مجموعہ کلام ’’پیام مشرق‘‘میں’’کشمیر ‘‘ کے عنوان سے یہ نظم یہاں کے سبز زاروں اور مرغزاروں کی بہترین عکاسی پیش کرتی ہے ؎
۱۔ رخت بہ کا شمرکشا، کوہ وتل ودمن نگر
سبزہ جہاں جہاں ببیں ،لالہ چمن چمن نگر
۲۔ بادبہار موج موج، مُرغ بہار فوج فوج
سلسل وسار زوج زوج برسرنارون نگر
۳۔ تانہ فتدبہ زینتش، چشم سپہرفتنہ باز
بستہ بہ چہرۂ زمیں برقع نسترن نگر ۱۲؎
ترجمہ:
۱۔کشمیر میں سیر کرنے کے لئے سامانِ سفر باندھ اور یہاں کے پہاڑ،ٹیلوں اور وادیوں کا نظارہ کر۔
یہاں عالم عالم ہریالی ہی ہریالی آپ دیکھ سکتے ہیں اور ہرجگہ سبزہ زاروں اور چمن چمن میں لالے کے پھول کھلے ہوئے دیکھ سکتے ہیں ۔
۲۔یہاں ہر موج بہار کی ہوادیتی ہے ۔ بہار کے پرند ے فوج کی طرح یا جُھنڈ میں کثرت سے آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔
ناروند یانارون کے پتوں اور شاخوں سے بھر پور درخت کانظارہ کیجیے ٔ اور اس پر فاختوں اور سارسوں کو جوڑوں کی شکل میں بیٹھے اور نغمے الاپتے دیکھئے۔
۳۔تاکہ اس کی زینت پر فتنہ پیدا کرنے والے آسمان کی نظرنہ پڑے۔ اس نسترن کے پھولوںکے پردہ کو دیکھئے جو زمین نے اپنے چہرہ پر لے رکھا ہے برقعے یا پردے کی طرح۔
مراُد یہ ہے کہ ہر طرف مختلف قسم کے پھول تہہ درتہہ اُگے ہوئے ہیں ۔
جون ۱۹۲۱ء میں جب علامہ اقبال اپنے وطن مالوف کشمیر تشریف آورہوئے تو نشاط باغ اور شالیمارباغ میں قیام کے دوران انھوں نے ’’ساقی نامہ‘‘ کے عنوان سے ایک لاجواب نظم تشکیل دے دی۔
جسکے چند اشعاریوں ہیں ؎
خوشاروزگارے خوشانوبہارے
بخوم پرن رست ازمرغزارے
زمین از بہاران چوبال تدروے
نہ پیچید نگہ جُزکہ درلالہ وگل
نہ غلط ہوا جزکہ برسبزہ زارے ۱۳؎
ترجمہ: ۱۔ کتنا سہاناموسم ہے، کتنی اچھی ہے نئی بہار،جب ہم کسی سبزہ زار پر یہاں نظر دوڑاتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سبزہ زاروں پر ستاروں جیسے چمکدار پھول لہلہارہے ہیں ۔
۲۔بہار کے موسم سے یہ زمین چکور کے پنکھ کی طرح رنگین ہے اور آبشارفواروں کے ذریعے سے گویا ہیرے برسارہی ہے۔
۳۔جس طرف نظر جاتی ہے سوائے لالہ اور گلاب کے پھولوں میں الجھنے کے سوا اسے کوئی کام نہیں۔اور ہوا جس طرف جاتی ہے اسے سبزہ زار کے سبزہ سے لپٹنے کے سوا اور کوئی خیال نہیں ۔ یعنی ہر طرف سبزہ اور پھول ہی پھول ہیں ۔
ا لفاظ کی یہ نغمہ ریز پیکرتراشی سحر طرازاور طلسم ِ آفرین ہے۔ کلام اقبال میں فطرت نگاری کایہ رنگ وآہنگ ’’پیام مشرق‘‘ کے علاوہ اُن کی دوسری متعدد اُردو اور فارسی نظموں اورغزلوں میں بددرجہ اتم پایا جاتا ہے۔
طوالت سے پرہیز کرتے ہوئے یہاں ’’جاوید نامہ‘‘کے اُن چند اشعار پر ایک طائرانہ لگاہ دوڑائیں گے ، جن میں علامہ اقبال کشمیر کے محسن ِ اعظم حضرت شاہ ھمدان ؒ کے ذریعے جہاں کشمیریوں کے مختلف مسائل ومشکلات سے آگہی دلاتے ہیں وہیں اُن کے سامنے یہاں کے خوبصورت برف پوش پہاڑوں ،کوہساروں، دریاواں اور چنار کے درختوں کے آتشیں پتوںکی دلکشی کا منظریوں کھینچتے ہو تے نظر آتے ہیں۔
کوہ ہائے خنگ سارِا ونگر
آتش دست ِ چنار اُونگر
دربہاراں لعل می رَیزَدزسنگ!
خیزد از خاکش یکے طوفانِ رنگ !
لکہ ہاے ابر در کوہ ودمن
پنبہ پّراں ازکمانِ پنبہ زن!
کوہ و دریا وغروبِ آفتاب!
من خدا را دیدم آنجابے حجاب! ۱۴؎
حید رآباد کے معروف دانش ورمرحوم پروفیسر سید سراج الدین نے ان اشعار کا بہترین منظوم اُردو ترجمہ یوں کیا ہے ؎
دیکھ کتنی پُر فضا ہے یہ زمین
دید کے قابل ہیں اس کے کوہسار
اس کے چنار
جب بہار آتی ہے یاں
تو لعل بن جاتے ہیں سنگ
خاک سے اٹھتا ہے اک طوفان رنگ
کوہساروں، وادیوں میں گھومتے
روئی کے گالوں سے لکے ابرکے
کوہ دریا اور غروب آفتاب
ہے یہاں گویا خدا خود بے حجاب
حوالہ جات
۱۔تذکرہِ اولیاء موسوم بہ اسرارِ الاخیارحصہ سوم (مشمولہ) ہمارا منفی کردا رسلسلہ مطبوعات ۲؎ از ماسٹر ثناء اللہ آہنگر ۔نور محمد پریس پر تاب پارک سرینگر سن ندارد۔
۲۔کلیات اقبال اُردو ’’ارمغان حجاز ‘‘ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی ۶۹۷ء
۳۔کلیاتِ اقبال (فارسی) (پیام مشرق)شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور۱۹۷۳ء، ص ۳۴۸
۴۔اشارہ ہے معروف انگریزی شاعر کیٹسKeets,کی طرف ۔
۵۔کلیات اقبال(اُردو) ’’بانگ درا‘‘ ،ص ۲۰۴
۶۔عبدالمغنی ’’فروغ تنقید‘‘ ایجوکیشنل بُک ہاوس علی گڑھ ،۱۹۹۸ء ، ص ۵۱
۷۔کلیاتِ اقبال (اُردو) ’’بال جبرئیل‘‘ ،ص ۳۳۲
۸۔محولہ، بالا …’ــ’ارمغان حجاز‘‘، ص ۵۶۲
۹۔محولہ، بالا …’ــ’ارمغان حجاز‘‘، ص۵۶۳
۱۰۔محولہ، بالا …’ــ’ارمغان حجاز‘‘، ص۵۶۸
۱۱۔محولہ، بالا …’ــ’ارمغان حجاز‘‘، ص۵۶۸
۱۲۔کلیات اقبال پیام مشرق ، ص ۷۴۹
۱۳۔محولہ، بالا …، ص۲۸۵
۱۴۔کلیات اقبال (فارسی)’’جاویدنامہ ‘‘ ص، ۷۴۹
رابطہ ۔کوارڈینٹر، اقبال انسٹی ٹیوٹ آف کلچرل اینڈ فلاسفی کشمیر یونورسٹی، حضرت بل سرینگر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔