محمد اظہر شمشاد
اخبار کے اہمیت و افادیت کا ہر شخص معترف ہے، بلا شبہ انسانی زندگی میں اخبار کا رول بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے ہمیں کسی ٹھوس دلیل اور ثبوت قطعی کی ضرورت نہیں ہے کہ ہمارے تہذیب و تمدن اور افکار و خیالات پر سب سے زیادہ اور گہرا اثر اخبارات کا ہے، اخبار ہی ہمیں معلومات فراہم کرنے کا ایسا واحد ذریعہ ہے، جسے ہر خاص و عام پسند کرتے ہیں۔ تقریباً تمام ملکوں میں اخبارات کا چلن ہے اور کافی تعداد میں اس کے قارئین ہر ممالک میں موجود ہیں۔ اسی طرح ہمارے ہندوستان میں بھی اخبار بینی کا رواج عام ہے ، اکثر و بیشتر لوگ پابندی کے ساتھ اسے پڑھتے ہیں اور یہ ان کے معمولات زندگی کا ایک اہم حصہ ہے، خاص کر ہندوستان میں صبح کے وقت چائے کے ساتھ اخبار پڑھنا لوگ کافی زیادہ پسند کرتے ہیں، صبح کی چائے میں بسکٹ ہو یا نہ ہو پر اخبار ضرور ہونا چاہیے ۔
اردو اخبار نویسی کے ابتدا کے بارے میں کچھ لوگوں کا نظریہ مختلف ہے ۔لیکن اکثر کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اردو کا سب سے پہلا اخبار ’’جام جہاں نما ‘‘ ہے جو ۲۷ مارچ ۱۸۲۲ء میں کلکتہ سے شائع ہوا ، اس کے بانی ہری ہردت اور ایڈیٹر لالہ سدا سکھ تھے ،تاہم یہ اخبار فارسی میں بھی شائع ہوتا تھا یعنی کبھی اردو کبھی فارسی یا کچھ زبانِ اردو اور کچھ زبانِ فارسی میں نکلتا تھا، جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مغلیہ دورِ حکومت میں ہندوستان کی سرکاری زبان فارسی تھی۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں بھی فارسی پڑھے لکھے طبقے کے درمیان بولی اور سمجھی جاتی تھی۔ جب ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک پر قابض ہوئی تو اس نے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو ختم کرنے کے لیے اس کے تمام پرانے نشانات کو مٹانے کی بھرپور کوشش کی ،یہی وجہ ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے فارسی کے بجائے اردو کو سرکاری زبان قرار دیا مگر اس وقت تک چوں کہ فارسی زبان کا وجود ہندوستان میں تھا اور لوگوں کے درمیان فارسی رائج بھی تھا، اس لیے ’’جام جہاں نما‘‘ اردو کے ساتھ ساتھ فارسی میں بھی شائع ہوتا تھا۔ اس کے کچھ سالوں بعد خالص اردو اخبار ’’اخبار دہلی‘‘ کے نام سے نکالا گیا، جس کے بانی مولانا محمد حسین آزاد کے والد محترم مولوی محمد باقر تھے۔ اس اخبار میں علمی، ادبی، تاریخی، سماجی، سیاسی مختلف موضوعات پر مختلف مضامین شائع ہوتے تھے، چوں کہ اس میں آزاد خیالی کے ساتھ لکھنے کی آزادی تھی، اس لیے ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی میں اس اخبار نے بڑا اہم رول ادا کیا۔ اس وقت ہر ہندوستانی کے سینے میں آزادی کا جذبہ تھا، اس لئے پڑھے لکھے طبقے نے آزاد خیالی کے ساتھ انگریزوں کے خلاف جم کر لکھا ، لوگوں کو انگریزوں کے خلاف خوب اُبھارا اور انگریزوں کی تمام تر سازشوں کو ناکام بنانے کی بھر پور کوشش اس اخبار کے ذریعے کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد انگریزوں نے اس اخبار کے بانی مولوی محمد باقر کو غداری کے الزام میں توپ میں باندھ کر بے دردی سے شہید کر دیا، اس طرح بے باک ،نڈر، سچا محب وطن اور پہلا اردو صحافی شہید ہوا۔ اس کے بعد ان گنت اردو اخبار نکالے گئے جس میں کچھ کافی مقبول بھی ہوئے، جیسے سید الاخبار ،پیشہ ، زمیندار ، پرتاپ ، اودھ پنچ وغیرہ۔ اس طرح پورے ہندوستان میں اردو اخبار شائع ہونے لگےاور صرف اخبار ہی نہیں بلکہ اردو رسائل و جرائد بھی خوب نکالے گئے ،جس نے عوام کی رہنمائی کی اور انہیں صحیح طریقے پر زندگی گزارنے اور بہترین معاشرے کی بنیاد ڈالنے کا سلیقہ سکھایا ، عوام کے اندر سیاسی، سماجی، ثقافی شعور کو بیدار کیا۔ دہلی، کلکتہ ،آگرہ، الہٰ آباد، ممبئی وغیرہ تقریباً ہندوستان کے سبھی شہروں میں اردو صحافت بیداری کی لہر چلنے لگی اور اردو اخبار لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتےگئے۔ چنانچہ ۱۸۵۸ میں مولوی کبیر الدین احمد بہادر نے ایک اردو روزنامہ شہر کلکتہ سے جاری کیا۔ سیدالاخبار کے نام سے ایک اخبار سر سید احمد کے بھائی محمد نے نکالا، جس کے ذریعے سر سید کے خیالات کے عوام متعارف ہوئے، پھر لکھنؤ سے منشی نول کشور نے ایک اخبار ’’اودھ اخبار‘‘ کے نامسے جاری کیا ، اس کے بعد یکم جنوری ۱۸۷۵ کو اردو کا ایک روزنامہ ’’روزنامچہ پنجاب ‘‘کے نام سے لاہور سے جاری ہوا ،جس کے مالک خواجہ احمد حسن تھے ۔اس طرح چھوٹے بڑے اخبارات، رسائل و جرائد جاری ہوتے رہے، مگر ان میں ایک دو اخبار قابل ذکر ہیں، ایک زمیندار جو کہ ہفت روزہ کی شکل میں ۱۹۰۳ میں مولوی سراج الدین نے جاری کیا تھا پھر ان کے فوت ہو جانے کے بعد ان کے فرزند ظفر علی خان نے اپنے والد کے قیمتی اثاثہ کو سنبھال کر رکھا اور آگے چل کر زمیندار کو ہفت نامہ سے روزنامہ میں تبدیل کر دیا۔ دوسرا اہم اور قابل ذکر اخبار الہلال والبلاغ ہے ،جسے مولانا آزاد نے جاری کیا تھا۔ اس اخبار کے ذریعے انہوں نے مسلمانوں کو للکارا اور انہیں سیاسی اور قومی چیزوں میں آگے بڑھنے کا مشورہ دیا اور اپنے زور قلم سے تمام تر ہونے والی سازشوں سے سبھوں کو آگاہ کیا۔ الہلال کی شروعات تو ۱۹۱۲ میں ہوئی لیکن اس کے آزاد اور قابل قدر تحریروں نے اس وقت کے لوگوں کے درمیان ایک طوفان بپا کر دیا تھا، جس کی وجہ سے اس کی ضمانت ضبط ہو گئی۔ اس کے بعد البلاغ نکالا گیا جو کہ بہت قلیل مدت تک ہی جاری رہا مگر ان دونوں کے پاداش میں مولانا کو بہت تکلیف اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا، مگر ان سب کے باوجود انہوں نے اپنی روش ترک نہ کی اور اردو صحافت کے فروغ میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ ان اخبارات کے بعد بہت سارے اخبار نکالے گئے اور اب تو ہندوستان کے بیشتر شہروں سے اردو اخبار جاری ہوتے ہیں مگر اردو تعلیم کے محدود ہونے کی وجہ سے اس کے قارئین کی تعداد میں کافی حد تک کمی نظر آ رہی ہے۔ اب بھی اردوں کے شیدائیوں نے اس کے وقار کو قائم رکھا ہے اور اب بھی ہندوستان میں اردو پڑھنے لکھنے والوں کی اچھی خاصی تعداد ہے۔ دور جدید میں اگر اردو اخبار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اردو اخبارات کو بہت سارے مشکلات کا سامنا ہے، مگر اس کے باوجود بہت سارے اخبارات پابندی سے شائع ہو رہے ہیں، جن میں اخبار مشرق، راشٹریہ سہارا ، روشنی ، شان سدھارتھ ، اڑان، پندار، انقلاب، جمہوریت ٹائمز، تاثیر، اودھ نامہ، سیاسی تقدیر، سچ کی آواز، فاروقی تنظیم، قومی تنظیم،ناندیڑ ٹائمز، تہلکہ ٹائمز،آفتاب ،کشمیر عظمیٰ، سرینگر ٹائمز، صدائے حسینی، عوامی نیوز وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان اخبارات کے مشکلوں میں پڑنے کی اہم وجہ یہ ہے کہ دن بہ دن اردو پڑھنے لکھنے والوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے، جس کے قصوروار ہم خود ہیں کیوں کہ دور جدید میں وہ لوگ جو اردو زبان اچھے سے جانتے اور سمجھتے ہیں وہ بھی عام بول چال میں اردو بولنے کے بجائے انگلش کا استعمال کرنا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں اور موبائل میں کسی سے گفتگو کے دوران اردو رسم الخط استعمال کرنے کے بجائے ،رومن انگلش استعمال کرتے ہیں،اگر چہ اردو میں بات ہو تب بھی ۔ ہمارے اردو کے ایک استاذ نے فرمایا تھا اردو کو اردو میں نہ لکھ کر رومن انگلش وغیرہ میں لکھنا اردو سے غداری کے مترادف ہے۔ آج مسئلہ اردو اخبار کا نہیں ہے کیوں کہ اردو اخبارات آج بھی اپنے ذمہ داری کو بحسن و خوبی انجام دے رہے ہیں، سیاسی ، سماجی، معاشی ہر خبر پابندی سے ہم تک پہنچا رہے ہیں اور عوامی زندگی کے رہنمائی کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہیں مگر اہم مسئلہ اردو زبان کا ہے، مدارس اور اسکول کے چند گھنٹیوں تک اردو سیکھنے سکھانے کو محدود کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے روز بروز اردو قارئین کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے دس سر فہرست اخبارات میں ایک بھی اخبار اردو کا نہیں ہے۔ انگریزی کا مشہور روزنامہ ٹائمز آف انڈیا ہندوستان کا سب سے بڑا روزنامہ ہے۔ آج ہندوستان سے مختلف زبانوں میں لگ بھگ پچاس ہزار سے زائد اخبار و رسائل وغیرہ جاری ہوتے ہیں جن میں سے اردو اخبار و رسائل کی تعداد تقریباً تین ہزار ہے، جس میں سے صرف ایک دو روزنامے ایسے ہیں جن کی اشاعت پچاس ہزار کے قریب ہے۔ دور جدید میں اردو روزنامے صرف خبر پھیلانے اور پہنچانے کا ہی ذریعہ نہیں بلکہ ایک بہترین سماج کی تشکیل اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے بھی کار آمد ہے۔ اس لیے ہم سبھوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اردو اخبارات کے فروغ میں اور اسے مضبوط کرنے میں اہم رول ادا کریں اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم اردو زبان کی حفاظت کریں گے ،اردو کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں گے ،اسے سیکھنے سکھانے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے، اردو کو ہمیشہ اردو رسم الخط میں لکھیں گے نہ کہ رومن انگلش وغیرہ میں۔ محب اردو نے اردو کے وجود کو برقرار رکھنے میں کافی محنت و مشقت کی ہے اور کافی حد تک وہ اس میں کامیاب بھی ہیں، مگر اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب مل کر اردو کے فروغ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ،جس کے لئے محبانِ اُردو کو چاہیےکہ وہ اُردو اخبارات کو اردو اخبارات و رسائل کو ترجیحاً خریدیں اور پڑھیں۔ اگر واقعی اردو عوام ایسا کریں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے اس عمل سے اردو اخبارات کو مزید تقویت حاصل ہوگی اور ہندوستان کے دس سر فہرست اخباروں میں ایک اخبار اُردو کا بھی ہوگا۔
<[email protected]>
اُردو اخبار ات۔ماضی اور حال کے آئینے میں