لندن //یورپی ممالک میں کورونا کی نئی لہر کے پیش نظر ایک بار پھر سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں جہاں تیزی سے پھیلنے والے ویریئنٹ اومی کرون سے ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ دوسری جانب پابندیوں کے خلاف پیرس سے بارسلونا تک احتجاج بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کورونا کے نئے کیسز کی تعداد بڑھنے پر فرانس، یونان اور آسٹریا میں وزرائے صحت نے انتباہ جاری کیا اور حکومتوں نے سفری پابندیوں کا نفاذ کیا ہے۔پیرس میں نئے سال کے آغاز پر تقریبات اور آتش بازی کو منسوخ کر دیا گیا ہے جبکہ ڈنمارک میں تھیٹرز، کنسرٹ ہالز، امیوزمنٹ پارکس اور میوزیم بند کر دیے گئے ہیں۔آئرلینڈ میں حکومت نے پبس اور بارز پر رات آٹھ بجے کے بعد کرفیو کا نفاذ کیا ہے جبکہ گھر کے اندر اور کھلی جگہوں پر تقریبات کے لیے نئے ضوابط جاری کیے ہیں۔لندن کے میئر صادق خان نے صحت حکام کی جانب سے کورونا کے بڑھتے کیسز کے خدشے اور اس کے ہیلتھ کیئر نظام پر ممکنہ بوجھ کے حوالے سے اقدام کرتے ہوئے برطانیہ کے دارالحکومت میں مقامی کونسلز کو ایمرجنسی سروسز کے ساتھ کام کے لیے رابطے میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔آئرلینڈ کے وزیراعظم مائیکل مارٹن نے خطے میں وبا کے اثرات کو دیکھتے ہوئے قوم سے خطاب کیا اور کہا کہ نئی پابندیوں کی ضرورت تھی تاکہ انسانی جانوں کو وائرس کے دوبارہ پھیلتے خطرے سے بچایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سب آسان نہیں۔ ہم سب کورونا اور اس سے بچنے کے لیے لگائی جانے والی پابندیوں سے اْکتا چکے ہیں۔ اتار چڑھاؤ، مایوسی اور بے چینی نے ہم سب کو متاثر کیا ہے لیکن ہم نے اس حقیقت کے ساتھ جینا ہے۔‘عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کورونا کا نیا ویریئنٹ اومی کرون اب تک 89 ملکوں میں پہنچ چکا ہے اور کئی علاقوں میں اس ویریئنٹ کے کیسز کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
چین میں44نئے معاملے سامنے
بیجنگ// چین کے قومی صحت کمیشن نے اتوار کو اپنی یومیہ رپورٹ میں کہا کہ ملک میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس (کووڈ-19) کے 44 نئے معاملے سامنے آئے ہیں۔کمیشن نے رپورٹ بتایا کہ نئے مقامی کیسز میں سے 31 صوبہ ژی جیانگ میں، 10 صوبہ شانشی میں اور تین گوانگ ڈونگ صوبے میں رپورٹ ہوئے ۔کمیشن کے مطابق نو صوبوں کے علاقوں میں 39 نئے درآمدی کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔شنگھائی میں باہر سے دو نئے مشتبہ کیس بھی سامنے آئے ہیں۔اس دوران ملک میں کورونا سے کوئی موت نہیں ہوئی ہے ۔
آسٹریلیا میں بوسٹر ڈوز لگانے پر زور
سڈنی//آسٹریلیا کے نیو ساؤتھ ویلس(این ایس ڈبلیو) صوبے میں کورونا انفیکشن کے بڑھتے معاملوں کے پیش نظر انتظامیہ نے لوگوں سے بوسٹر ڈوز لگانے کی اپیل کی ہے تاکہ کسی طرح کی پابندی سے بچا جا سکے ۔این ایس ڈبلیو کے وزیر صحت بریڈ ہجارڈ نے اتوار کو سبھی شہریوں سے کورونا کے ٹیکوں کی بوسٹر ڈوز لگانے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ لوگ کورونا کی بوسٹر ڈوز لگانے کے لئے آگے آرہے ہیں۔این ایس ڈبلیو نے طبی سہولیات کو پچھلے ہفتے 57000 بوسٹر ڈوز دیں جو کہ اس سے پچھلے ہفتے 15000 تھے ۔این ایس ڈبلیو نے رپورٹ میں بتایا کہ پچھلے 24 گھنٹے کے دوران اتوار کی صبح تک کورونا انفیکشن کے 2566 نئے معاملے سامنے آئے ہیں جو ہفتے کو 2482 سے زیادہ ہیں۔ریاست میں کورونا کی نئی قسم اومیکرون کے کل 313 معاملے سامنے آچکے ہیں۔واضح رہے کہ ریاست میں نومبر کے آخر میں اومیکرون کا پہلا معاملہ سامنے آیا تھا۔