نئی دہلی / مرکزی وزیرکھیل کرین ریججو نے اولمپک کھیلنے جانے والے ہندوستانی ایتھلیٹوں کو ملک کااصل ہیروقراردیتے ہوئے ملک کے لوگوں سے ان ایتھلیٹس کی اسی طرح حمایت دینے کی اپیل کی ہے جیسے وہ ملک کے کرکٹروں کو دیتے ہیں۔ریججو نے ٹوکیو اولمپک اورپیرالمپک 2020 کے لئے ہندوستان کی تیاری کے تعلق سے مرکزی وزارت برائے نوجوانوں کے امور اور کھیل کے تعاون سے کنڈیڈریشن آف سی آئی آئی – اسپورٹس کام انڈسٹری کے ذریعہ منعقدہ ورچوئل بات چیت کے دوران ملک بھر میں ایک چیئر اپ مہم کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ‘‘چھ ہزارسے زیادہ سیلفی پوائنٹ بنائے جائیں گے ، جہاں لوگ ایتھلیٹوں کے تئیں اپنی حمایت دکھاسکتے ہیں۔ میں وزیرریلوے پیوش گوئل سے بات کی ہے اورانہوں نے فوری ملک کے چھ ہزارریلوے اسٹیشنوں پر جگہ کی نشاندہی کی ہے ، جہاں اولمپک سیلفی پوائنٹ بنائے گئے ہیں۔ ہریانہ کے وزیراعلیٰ نے دیگرلوگوں کو مہم میں شامل ہونے اورٹوکیو جانے والے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے پرتیک کے ساتھ ایک سیلفی بھی کلک کی ہے ۔ میں چاہتا تھا کہ اولمپک کی اہمیت کو ہرکوئی سمجھے ، جو ملک کے چاروں طرف پھیلی ہے ۔ کھیل ملک کا سب سے بڑا سافٹ پاورہے ۔قابل ذکر ہے کہ سمر اولمپک اورپیرالمپک کھیلوں میں حصہ لینے والے ہندوستانی ایتھلیٹوں کی تعداد میں گزشتہ تین ایڈیشنوں میں مسلسل اضافہ دیکھاگیا ہے ۔ اب تک 100 سے زیادہ ایتھلیٹوں نے ایڈوانس میں اپنی جگہ پکی کی ہے اورکئی ایتھلیٹوں کے ٹوکیو اولمپک کے لئے کوالیفائی کرنے کی امید ہے ۔جاری یواین آئی۔سابق ہندوستانی ہاکی کپتان ایم ایم سومیا نے بات چیت کے دوران کوچنگ اوردیگرسہولیات کے تعلق سے فیڈریشنوں کی حمایت کرنے میں حکومت کے کردارکی تعریف کی۔ انہوں نے کہا، ‘‘ہمارے پاس ان دنوں ہاکی سے جڑے دنیا کے کچھ بہترین کوچ ہیں اورہمارے لڑکے اورلڑکیاں اچھے ہاتھوں میں ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ہندوستان ٹوکیو میں میڈل کے لئے چیلنج دے سکتا ہے ۔چیف نیشنل بیڈ منٹن کوچ پلیلا گوپی چند نے بتایا کہ کیسے ایتھلیٹ ماضی میں اپنے ہم وطنوں کے مقابلے میں اپنی صلاحیتوں میں زیادہ اعتماد رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس تبدیلی کو ممکن بنانے میں حکومت کے کردارکو نشان زدکیا ہے ۔ گوپی چند نے کہا، ‘‘آج میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ٹیم کا ہر ممبر اپنے اعلیٰ فارم میں رہنے اور ممکنہ طورپر میڈل جیتنے کے لئے تربیت لے رہا ہے اور اگران کے پاس تمغہ نہیں ہے یا اچھی کارکردگی نہیں تو مجھے یقین ہے کہ وہ مایوس ہوں گے ۔