وادی کشمیر میں اگر چہ ہر سال عام زندگی ہڑتالوں کی نذر ہو جاتی ہے اور تعلیمی ادارے مہینوں بند رہتے ہیں جسکی وجہ سے یہاں کا تعلیمی نظام لرزہ براندام ہی رہتا ہے۔امسال جب وادی میں زندگی کی گاڑی طویل ہرتا ل کے بعداپنی پٹری پر لوٹ آئی تو کورونا کی منحوس ہواوئوں نے وادی کی سرزمین پر اپنے بھیانک تھپیڑوں سے ا یک بار پھر عام لوگوں کی زندگی مفلوج کردی ۔ یوںسر منڈاتے ہی اولے برسنے شروع ہوگئے۔سات مہینوں کی طویل ہڑتال کے بعد مارچ کے پہلے عشرے میں تعلیم و تدریس کا کام جاری ر ہاجس کے بعد کورونا کے خوف کی وجہ سے تا ایں دم یہاں کے تعلیمی اداروں میں سکوت طاری ہے۔ اِن حالات میں سرکار نے تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم بچوں کے لئے ایک متبادل نظام تر تیب دینے کے سلسلے میں آن لائن کلا سز کو ہری جھنڈی دکھائی اور بچوں کو آن کلا سز کے ذریعے سے پڑھائے جانے کا سر کاری حکمنامہ بھی با ضابطہ طور جاری کیا گیا۔ آن لائن کلاسز کی یہ اصطلاع آج پوری وادی میں گشت کر رہی ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈ یا پر آج ہزاروںاساتذہ کرام اپنے اپنے مضامین میں لیکچرس دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ وا ٹس ایپ، فیس بک اور یو ٹیوب پر آج ہم ہزاروں اسا تذہ کو لیکچر دیتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔
آن لائن کلاسز کا یہ عمل اگر چہ ترقی یافتہ ممالک میں بہت برسوںسے جاری ہے اور وہاں کے طلباء ا س نظام سے کافی حد تک مستفید و مستفیض بھی ہوتے ہیں۔آن لائن کلاسز کے اس عمل کو کامیاب بنانے میں انٹر نیٹ کا بڑا عمل دخل ہے۔ایک استاد گھر میں بیٹھ کر اپنا لیکچر اور دیگر ضروری معلومات اپنے فون میں ریکارڑ کرنے کے ساتھ ساتھ اسکی عکس بندی کرتا ہے پھر اپنے اس لیکچر کو یو ٹیوب ، فیس بک یا وٹس گروپ میں ا پ لوڈ کرتے ہوئے خواہشمند طلباء گھر بیٹھے ان لیکچر س کوبہ آسانی دیکھ سکتے ہیں۔ آن لائن کے اس پراسیس کو کامیاب بنانے کے سلسلے میں سرکاری اور نجی اداروںکے منتظمین سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ موجودہ حالات کے پیشِ نظر جب تعلیم و تدریس کا نظام سکولوں میں ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے،جب اساتذہ اور طلباء گھروں میں قیدی بن کر رہ گئے ہیں، ایسے حالات میں آن لائن کلاسز ایک بہتر متبادل ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن کیا اس پراسیس سے ہماری نوخیز نسل کو کوئی فائدہ پہنچ رہا ہے یا نہیں؟ دفتروں میں بیٹھے افسران کو اس بنیادی سوال کی طرف اپنے توجہ مبذول کرنی چاہئے۔
آن لائن کلاسز کیلئے جن بنیادی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے اُن میں سمارٹ فون، تیزفتار انٹرنیٹ اور بجلی کی بہتر فراہمی قابلِ ذکر ہے۔وادی میں ہزاروں طلباء غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گُزار رہے ہیں۔ اِن بچوں کو سال بھر میں نہ یو نیفارم نصیب ہوتی ہے اور نہ ہی اِن کے پھٹے پرانے بستوں میں قلم و کاپی ہی ہوتی ہے۔ ہوگی بھی کیسے؟ غُربت کے تھپیڑوں سے انکے معصوم چہروں پر مایوسی اور عُسرت کے نشان نمایاں ہوتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق وادی میں ہزاروں غریب اور مفلو ک الحال گھروں میں سمارٹ فون دستیاب نہیں ہے۔ اس لئے یہ ہزاروں طلباء آن لائن کلاسز سے محروم ہوتے جا رہے ہیں اور یہ ہزاروں بچے روزانہ احساسِ کمتری کے شکار ہوتے جارہے ہیں۔آن لائن کلاسز کے اس پراسیس میںانٹرنیٹ کا رول عیاں را چہ بیان ہے لیکن وادی میں سست رفتار انٹرنیٹ کی وجہ سے ایک لیکچر کو سننے یا دیکھنے میں صبرِ ا یوب درکار ہے۔چند منٹوں کا لیکچر دیکھنے کے لئے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے بلکہ اکثر ویڈیو لیکچرس دیکھنے سے ہی رہ جاتے ہیں۔ اسلئے آن لائن کلاسز کا یہ عمل وقت کازیاں ثابت ہورہا ہے۔سمارٹ فون کی دستیابی،تیز رفتار انٹرنیٹ کی بحالی اور بجلی کی بہتر فراہمی سے کسی حد تک آن لاین کلاسز کا فائد ہوسکتا ہے لیکن وادی میں ابھی بھی موسمِ سرما کابجلی شیڈول نافذ العمل ہے۔ بجلی کی آنکھ مچولی یہاں روز کا معمول بن چکااور نتیجتاًفون اکثر اوقات بند ہی رہتے ہیں جسکے نتیجے میں آن لاین کلاسزخود بہ خود آف ہوجاتے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق سرکاری سکولوں میں ساٹھ فی صد بچے سمارٹ فون کی دستیابی سے محروم ہیں۔ طرفہ تماشا یہ بھی ہے کہ نوخیز نسل کا رشتہ کتاب سے کٹ کے رہ گیاہے اور مستقبل میں قلم و قرطاس سے اس دوری کے بھیانک نتایج برآمد ہوسکتے ہیں۔ نجی سکولوں میںسینکڑوں اساتذہ خود سمارٹ فون سے محروم ہیں اور وہ عُسرت کی زندگی گُزار رہے ہیں۔ وادی کے نجی سکولوں میں کام کرنے والے سینکڑوں اساتذہ ابھی نانِ شبینہ کے محتاج ہیں اور گُزشتہ چھ مہینوں سے وہ تنخوا ہوں سے محروم ہیں۔ اِن حالات میں انکا آن لائن کلاس دینا ناممکن بن جاتا ہے۔اب جو لوگ آجکل فیس بک،وٹس ایپ اوریو ٹیوب پر دن رات لیکچرس دیتے نظر آرہے ہیں اور معلومات سے پُرباتیں بچوں کے قلب و ذہن پر منتقل کرنے میںمحو ہیں ،انہیں احتساب کی عینک اپنی آنکھوں پر رکھ کر غور کرنا چاہیے کہ آیا وہ سال بھر ایسے ہی پوری تیاری کے ساتھ اپنا فریضہ انجام دیتے ہیں کہ نہیں۔ کیا وجہ ہے کہ سرکاری سکولوں میں دئے گئے شیڈول کے مطابق انکا نصاب کبھی مکمل نہیں ہوتا ہے۔کیا وجہ ہے کہ تعلیمی معیار میں بہتری کے علی الرّغم زوال کے بادل تعلیمی نظام کے اُفق پر منڈلا رہے ہیں۔جس طرح آج آن لائن کلاسز میں اساتذہ سنجیدگی سے بچوں کو پڑھاتے ہوئے نظر آرہے ہیں، اگر سال بھر اسی لگن اور دلچسپی سے سکولوں میں پڑھانے کا عمل جاری رہے تو غریب اور پسما ندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے ہزاروں بچوں کا مستقبل تابناک بن سکتا ہے۔
آن لائن کلاس کی اس نئی شروعات کوفائد ہ بخش بنانے کے سلسلے میں سرکار کو ایک بار پھر اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چا ہیے۔ فی الوقت سرکاری اور نجی اداروں میں مختلف گروپس بنائے جارہے ہیں اور سکولوں میںزیرِ تعلیم بچوں کی تعداد ا کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ بچوں سے کتابیں لاکر تیاری کی جاتی ہے۔اگر اسبارے میں پہلے نظام مرتب ہوتا تو شائد اسکے مثبت نتائج برآمد ہوتے ۔ ابھی اِن حالات میں متوسطہ طبقے سے تعلق رکھنے والے طلباء کسی حد تک آن لائن کلاسز کی اس سہولت کا استفادہ اُٹھا سکتے ہیں اور لیکچر میں پا ئے جانے والے خدشات اور اُلجھنوں کو دور کرانے کئے لئے اپنے اساتذہ سے فون پر رابط کر لیتے ہیں لیکن طلباء کی ایک بڑی تعداد غُربت کی وجہ سے فی الحال اس سہولت سے محروم ہے ۔آخر اُنکے بارے میں کیا سوچا گیا ہے؟۔
رابطہ : 9622669755