اسلام وہ واحد مذہب ہے جس میں کسی بھی انسانی مسئلے اور مْشکل کا حل موجود ہے،شرط بس اتنی ہے کہ اسلامی تعلیمات پر شروع سے آخر تک بَصدقِ دِل عمل کیا جائے۔اگر صاحبِ ثروت مسلمان ہر سال پوری زکوٰۃ ادا کریں تو گداگری پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔ہر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر مْلک میں گداگر موجود ہیں ،فرق بس اتنا ہے کہ مغربی ممالک کے گداگر یا بھکاری گِٹار بجاکر بھیک مانگتے ہیں اور ایشائی بھکاری اداکاری ،زبان اور اپنے جسمانی نقائص کو بہانہ بنا کر گداگری کے پیشے میں چار چاند لگا رہے ہیں۔
ہماری غلاموں ک اس بستی میں بھی بھکاریوں کی کمی نہیں ہے۔خاندانی بھکاری بھی ہیں،جسمانی طور معذور بھکاری بھی ہیں اور غریب و مْفلس بھیک مانگنے والے بھی ہیں،لیکن اب یہاں اْن بھکاریوں کی تعداد تشویش ناک حد تک اضافہ ہورہا ہے جو اپنی پیٹ کی آگ بجھانے یا کسی نہایت مجبوری کے سبب بھکاری نہیں بنے ہیں بلکہ گداگری کا پیشہ اْن کے لئے ایک ایسا نشہ بن چکا ہے کہ مرتے دَم تک اب وہ اس لعنت سے چھٹکارا نہیں پاسکتے۔شہرو گام میں دوڑتی بسوں میں دیکھئے ،کسی بس اسٹاپ پر اچانک کوئی نوجوان ایک ہاتھ میں کسی اجنبی کی تصویر اور دوسرے ہاتھ میں کسی ہسپتال کا ایڈمشن کارڈ اور کچھ پھٹے پْرانے ڈاکٹری نسخے لے کر اس بستی کے کسی شاطر سیاست دان کی طرح ایسی پْر اثر تقریر جھاڑ دیتا ہے کہ پوری بس کو رام کرکے سو ڈیڑھ سو روپے لیکرہی اْتر جاتا ہے۔اسی طرح شہر کے ایک مشہور چوراہے پر تقریباً تین سال سے ایک نوجوان اپنی کوئی رشتہ دار مگر بے ہوش و حواس عورت گود میں لئے سڑک کے ایک کنارے بیٹھے دکھائی دیتا ہے،کئی بار راقم نے ارادہ کرلیا کہ اْس نوجوان سے پوچھوں کہ اْس کی گود میں پڑی عورت زندہ بھی ہے یا وہ خالی اداکاری کررہی ہے۔آخر ایک دن ہمت کرکے اْس کی طرف چل پڑا ،جیب سے ایک روپے کا سِکہ نکال کر اْس کے سامنے ڈال کر آخر پوچھ ہی لیا :’’بھائی تمہاری کوکھ میں پڑی اس عورت کو کیا تکلیف ہے اور وہ تمہاری کیا لگتی ہے؟‘‘۔میرا اتنا پوچھنا تھا کہ نوجوان بھکاری خشمگین نگاہوں سے میری طرف دیکھ کر ہلکی مگر شرارت بھری آواز میں بولا:’’حاجی صاحب! جائو اپنے کام سے کام رکھو اور میرا دیا ہوا روپے کا سِکہ مجھے واپس لوٹاکر کہنے لگا ،اپنی اس دی ہوئی خیرات سے میری طرف سے مونگ پھلی کھا لینا ،میری گود میں پڑی عورت میری بیوی ہے جو ( Coma Under)ہے۔‘‘یہ سْن کر میں جلدی جلدی سڑک کی دوسری جانب جاکر بس کا انتظار کرنے لگا مگر اس دوران بھکاری کے سامنے ایک نئی ماروتی کار آکر رْک گئی اور چند لمحے ٹھہر کر چلی بھی گئی۔میں نے دیکھا کہ بھکاری کے آگے پچاس روپے کا ایک کرارا نوٹ پڑا ہوا ہے اور دوبارہ جب میری اور اْس کی نظریں چار ہوئیں تو میں نے محسوس کیا جیسے بھکاری مجھ سے کہہ رہا تھا کہ دیکھا حاجی صاحب! یہ ہوئے گراہک !! نہ کوئی سوال ،نہ کوئی جواب اور پچاس کا نوٹ۔
جمعتہ الوداع کی نماز ادا کرنے کے لئے گاڑی میں سے اْتر کر اپنے لئے جگہ تلاشنے میں مصروف تھا کہ میری بائیں طرف کچھ شور سا سْنا ئی دیا ،نظریں گھماکر دیکھا تو بیرونِ ریاست کے آٹھ دس بھوکے ننگے بھکاری بچوں کے جھرمٹ میں ایک شخص مدد کے لئے پْکار رہا تھا ،آخر کچھ دوسرے لوگوں کی مدد سے جب اْس نے اْن ننھے مْنے بھکاریوں سے خلاصی پالی تو سارے لوگ اْسے دیکھ کر بے ساختہ ہنس پڑے۔بھکاری بچوں نے بے چارے کا ایسا بْرا حال کردیا تھا کہ و ہ خود بھی کوئی بھکاری ہی لگ رہا تھا۔اْس کا اچھا خاصا خان ڈریس چھیتڑوں میں تبدیل ہوچکا تھا اور وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا پاجامہ پکڑے بھکاریوں کو اردو،انگریزی میں تمام گالیاں دیتا ہو آٹو رکھشے میں سوار ہوکر بغیر نماز پڑھے شائد گھر کی طرف روانہ ہوا تھا۔
یہ گذرے ستمبر کے ایک دن کا واقعہ ہے کہ میں اپنے گھر کے آنگن میں دھوپ میں بیٹھا تھا کہ ایک جوان بھکاری جو بول چال سے باہر کی لگ رہی تھی گود میں دو تین سالہ بچی لئے آنگن میں داخل ہوکر کچھ کھلانے کے لئے اصرار کرنے لگی ،بہر حال کچھ چاول اور سبزی لاکر میں نے اْس کے سامنے رکھ دئے اورجْوں ہی وہ کھانے میں مشغول ہوئی تو میں نے بھی بڑے ناصحانہ انداز میں اپنا سوال نامہ کچھ اس طرح شروع کردیا۔’’دیکھو ! انسان اپنی عزت و غیرت بیچ دے اس سے بہتر ہے کہ کوئی حقیر سا حقیر پیشہ اختیار کرکے حلال روزی کماکر کھائے۔کہاں سے آئی ہو ،تمہارا مرد کہاں ہے اور کیا کررہا ہے؟کشمیر آکر بھیک کیوں مانگ رہی ہو؟لوگوں کے ساتھ زور و زبردستی کرکے اْن کے کپڑے کیوں پھاڑ رہے ہو؟ بڑے اطمینان سے کھانا کھانے اور ہاتھ مْنہ صاف کرنے کے بعد بھکارن میرے سوالوں کے جواب میں اپنی میٹھی بھاشا میں ذیل کی چھوٹی سی تقریر جھاڑ کر اور مجھے حیران و پریشان چھوڑ کر نَو دو گیارہ ہوگئی۔
’’بابو جی! میں لالو یادو کے دیس بہار کی رہنے والی ہوں،خاندانی بھکارن نہیں ہوں،میرا مرد اپنی بڑی بیٹی جو چوتھی کلاس میں پڑھ رہی ہے کے ساتھ اپنے گھر یعنی بہار میں ہی ہے اور پانی تمباکو کی ایک چھوٹی سی دْکان بھی چلا رہا ہے ،بھیک مانگنا ہمار اپیشہ نہیں ہے بلکہ اس پیشے کو ہم سال کے تین چار مہینوں کے لئے بطور ِ سائڈ بزنس اختیار کرلیتے ہیں۔میں یاتریوں کے ساتھ امر ناتھ یاترا کے لئے آئی ہوں اور بھگوان کی کِرپا سے دس بیس ہزار روپے اس سائڈ بزنِس میں کما ربھی چکی ہوں جو اگر چہ پچھلے سال کے مقابلے میں دو تین ہزار کم ہیں لیکن ہم دو اور ہمارے دو کے لئے کافی ہے۔رہا سوال کہ کشمیر آکر ہی ہم بھیک کیوں مانگتے ہیں ،تو بابو جی! کنیا کماری سے کشمیر تک بھارت ایک ہی ہے اور کوئی بھی بھارت واسی اپنی مرضی سے یہاں آجاسکتا ہے،کسی مائی کے لال میں اتنی ہمت ہے کہ ہمیں یہاں آنے سے روک لے،جِندگی رہی تو اگلے برس ہم کشمیر میں زمین خرید کر اب یہیں رہائش کریں گے ،چاول کِھلانے کے لئے بابو جی بہت بہت شکریہ ،کیونکہ ایسا لگا جیسے چاول بھی اپنے ہی بہار کے تھے۔‘‘
بھکارن کی یہ تلخ تقریر سْن کر میرے دماغ میں گھنٹیاں بج رہی تھیں اور دور خلائوں میں گھورتے ہوئے مجھے اپنے بزرگوں سے سْنی پنڈت نہرو کی وہ بات یادا ٓرہی تھی کہ’ ’ہم کشمیر میں اْتنا ہی کھوئیں گے جتنا کشمیری اپنے گلے سے نیچے اْتار یں گے ،باقی سب کچھ موجود ہے۔‘‘۔۔۔۔۔!
رابطہ۔احمد نگر سرینگر ،کشمیر
فون نمبر۔9697334305