زندگی کے سفر میں انسان مختلف مراحل سے گذرتے ہوئے الگ الگ واقعات اور حادثات سے دوچار ہوتا ہے۔ کشمکش زندگی کے شب وروز میں رونما ہوئے ایسے واقعات اور لمحات کچھ لوگوں کیلئے آگے آنے والی زندگی میں یادوں اور تجربوں کا ایک عظیم سرمایہ چھوڑ جاتے ہیں۔ مختلف انواع فکر ومکتب کے لوگوں کی صحبت میں گذارے ہوئے لمحات اور اُن کے ساتھ پیش آنے والے ترش وشیرین معاملات انسان کو ایک ایسی تجربہ گاہ فراہم کرتا ہے جہاں وہ زندگی کے مختلف پہلو کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اپنے افکار کو وقت کے تپتے ہوئے آوے میں تپاتپا کر سونے سے کندن بنا دیتا ہے۔
کون نہیں جانتا ہے کہ رب کائینات نے انسان کو بدبو دار گارے سے تخلیق کرکے پھر اس میں روح پھونک کر شرف اشرف المخلوقات سے نوازا لیکن ابن آدم نے خود کو اس قدر مبہم اور پرُ پیچ بنا دیا کہ اس کی نیت اور ارادوں کو سمجھنے کیلئے صدیاں بھی ناکافی ہے۔ مخلوقات میں کتے کو نہایت ہی حقیر اور کمینہ جانور تصور کیا جاتا ہے لیکن حقیر اور کم ذات جانور ہونے کے باوجود بھی یہ اسقدر وفادار اور احسان مند جانور ہے کہ جب کبھی وہ کسی کے ہاتھوں کا دیا ہوا روٹی کا ٹکڑا اپنے حلق سے نیچے اُتار لیتا ہے تو ساری عمر وہ اس احسان مندی کے جذبے کے تحت لقمہ دینے والے کو دیکھ کر ازروئے احترام واحسان مندی اپنی دم ہلانے لگتا ہے۔ اس کے برعکس انسان اپنی تکمیل خواہشات کی خاطر دوسروں کی اُگلی ہوئی قے چاٹنے کے عیب کو بھی اپنا ہنر سمجھتا ہے۔ حدتو یہ ہے کہ یہی حریص انسان حق فروشی کرکے بڑی ہنر مندی کے ساتھ قے کرنے والے کے پاؤں تلے کی زمین اکھاڑ پھینک کر احسان فروشی کا ثبوت دیتے ہوئے برسوں پرانی وابستگیوں کو یکسر توڑنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا ہے۔ ایسے خودغرض انسان کو وفااور وابستگیوں کا درس پھولوں سے سیکھ لینا چاہئے جو ایک بارشاخ سے ٹوٹتے ہی مُرجھاجاتے ہیں۔
احسان فراموش انسان اور سانپ بچھو کے خصائل کچھ کچھ مشترک ہوتے ہیں۔ سانپ بچھو کو کتنابھی دودھ پلایاجائے لیکن موقعہ ملتے ہی وہ اپنی ذات اور اوقات پر اُترکر دودھ پلانے والے کوہی ڈھنس لیتا ہے۔ اسی لئے دوستی کے لبادے میں چھپے ہوئے دشمن کو آستین کا سانپ کہاجاتا ہے۔ جس طرح سانپ کبھی کبھی اپنی بھوک مٹانے کیلئے خود اپنے ہی بچوں کو اپنا نوالہ بناتا ہے اسی طرح خودپرست انسان بھی اپنی حسرتوں کی بھوک مٹانے کی خاطر اپنے سگے سودروں کو نوچنے دبوچنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا ہے۔ جنگلی جانوروں میں شیر کووحشی درندہ تصور کیا جاتاہے لیکن یہ وحشی بھی اپنے واضح کردہ اصولوں کے دائروں میں رہ کر اپنی زندگی جی لیتا ہے۔ شیر کے اسی اصول کو لیکر شیر کے بار ے میں مشہور ہے کہ شیر بھوکوں مرے گا لیکن گھاس نہیں کھائے گا۔
کرگس اور شاہین اللہ تعالیٰ کے تخلیق کردہ پرندوں میں بلند پرواز رکھنے والے پرندے ہیں۔ اگرچہ شکل وصورت اور جسامت کے حوالے سے یہ دونوں ایک دوسرے سے کافی مشابت رکھتے ہیں لیکن دونوں کے اطوار اور خصائل مختلف ہیں۔ دونوں کی شکلیں اگرچہ ایک جیسی ہے لیکن دونوں کے مزاج الگ۔ شاہین ایک ایسا بااصول پرندہ ہے جو اپنا شکار خودکرتا ہے۔ شاہین ہزاروں فٹ کی بلندی سے اپنے شکار پر نظریں جماتے ہوئے اُس پر جھپٹتا ہے اس کے برعکس کرگس بے ضمیری کے ساتھ دوسروں کے کئے ہوئے شکار کو اپنی خوراک بناتا ہے۔ شاہین مردار نہیں کھاتا جبکہ کرگس مردار کے بغیر جی نہیں سکتا ہے۔ حالانکہ ان دونوں جانوروں کی منزل آسمان کی وسعتیں ہیں لیکن ایک مردار پرلپکتا ہے اور دوسرا آسمان میں جھپٹتا ہے۔ ایک کا مقصد مقام اور دوسرے کا مقصد لا مقام ہے۔ انسانی معاشرے میں یہ دونوں کردار موجود ہیں۔ شاہین صفت انسان معاشرے میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے جو اپنے معاملات کیلئے دوسروں پر انحصار نہیں کرتا چاہے وہ معاملات مالی ہو یا انتظامی جبکہ کرگس صفت انسان ہمیشہ دوسروں کے اثاثوں پہ لپکتے ہوئے اپنا حدف پورا کرتا ہے۔
حشرارت الارض میں ایک ایسی خدائی مخلوق بھی موجود ہے جو قدم قدم پر اپنا رنگ بدلتی رہتی ہے۔ تاریخ کے صفحات گرگٹ نما لوگوں کی عیاریوں ،مکاریوں اور فریب کاریوں کے قصے کہانیوں سے بھرے پڑے ہیں۔ اس قبائل کے لوگ اپنی بے ضمیری کے سبب مہذب سماج میں ایسی ملامتی علامتیں بن گئے ہیں جن کا ذکر ہوتے ہی بیدار مغز اورذی حس لوگوں کو گھنِ آنے لگتی ہے۔ ہمارے پیارے نبیﷺ کی صفوں میں اٹھنے بیٹھنے والا رئیس المناقین عبداللہ بن اُبی سے کون واقف نہیں۔ یہ شخص بظاہر رسول خداﷺ کی پیش امامت میں پانچ وقت کی نمازیں ادا کرنے کے باوجود گرگٹ کی طرح ہر موقعہ پر اپنا رنگ بدلنے میں ماہر تھا وہ اہل ایمان کو فریب دینے کیلئے زبان سے ایمان کا اظہار تو کرتا تھا لیکن اس کا دل دراصل ایمان سے محروم تھا۔ شیرمیسور ٹیپوسلطان کو انگریزوں کے خلاف جنگ میں شکست اورپسپائی کے پیچھے میر صادق کی مخبری کا خفیہ ہاتھ اور حرص دماغ کام کرتا تھا۔ نواب سراج الدولہ کو بھی اپنے ہی کمانڈر میر جعفر کی احسان فراموشی کے سبب اپنی سلطنت سے ہاتھ دھونا پڑا۔آج بھی میر صادق اور میر جعفر کے جانشین ہمارے سیاسی اور سماجی معاشرے میں کھلے بندوں دند ناتیّ ہوئے گھوم پھر رہے ہیں اور ملک و قوم سے اٹھنے والی آہ وبکاہ ان ہی لوگوں کی وجہ سے صدا بہ صحر ثابت ہورہی ہے۔ وبھیشن رامائن کا ایک ایسا کردار تھا جو راون کا اپنا سگا ہونے کے ناطے اس کے ایک اہم بھید سے واقف تھا اسی بھید کو فاش کرنے کی وجہ سے گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کی مشہور کہاوت معروض وجود میں آئی۔ دراصل گھر کے بھیدی نے ہی لنکیشور کو مٹی میں ملا دیا اور رام نے لنکا کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ گھر کا یہ بھیدی گھر کا بانڈہ سڑک پر نہ پھوڈ ڈالتا تو رام اتنی بدھی اور ویرتا کہاں سے لاتا کہ وہ لنکیشور کے مقابلے کواُترتا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک بہترین مخلوق بنانے کے شوق کے تحت ہی تخلیق کیاتھا لیکن اس مخلوق نے نفاق ڈالکر بھائی کو بھائی سے دست گریبان کردیا۔ اشرف المخلوقات کا شرف پاکر بھی یہ بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا نکلا اور اپنے اس عمل سے شیطان کو بھی شرمندہ کردیا۔
پتہ ۔الھد ا کالونی سولنہ پائین سرینگر، فون نمبر۔9419008069