سرینگر // مرکزی دیہی ترقیاتی وزارت 6برس گزرنے کے باوجود بھی اندرا آواس یوچنا کے تحت مکان بنانے کیلئے دوسری اور تیسری قسط کی واجب الادا 74کروڑ کی رقم دینے میں ناکام ہوئی ہے ،جبکہ یو ٹی حکومت نے متعدد بار یہ معاملہ مرکزی سرکار کے ساتھ بھی اٹھایا ہے ۔ مالی سال 2016-17میں اندرا آواس یوجنا (آئی اے وائی) سکیم کو (پی ایم اے وائی) پردھان منتری آواس یوجنا گرامین کا نام دیا گیا اور سکیم کا نام بدلتے ہی خطہ افلاس سے نیچے زندگی گزر بسر کرنے والے وادی کے سینکڑوں لوگ مکان بنانے کیلئے درکار دوسری اور تیسری قسط سے محروم ہو گئے۔محکمہ دیہی ترقی میں موجود ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس سکیم کے تحت 3 7کروڑ 84لاکھ روپے کی رقم ابھی تک واجب الادا ہے اور ایسے لوگوں کے نہ تو گھر بن سکے ہیں اور نہ ہی اب ان کی طرف کوئی دھیان دیا جاتا ہے ۔ کئی ایسے غریب لوگ دوسری اور تیسری قسط کی ادائیگی کیلئے دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں ۔ کئی سال قبل اس سکیم کو اس غرض سے شروع کیا گیا تھا تاکہ اس کا فائدہ ایسے غریب لوگوں تک پہنچے ،جو اپنی چار دیواری سے محروم ہیں، اگرچہ نام بدلنے کے بعد پی ایم اے وائی سکیم کے تحت پیسہ مل رہا ہے اور مکان بھی ایسے لوگوں کے تعمیر ہو رہے ہیں، لیکن پرانی سکیم’ آئی اے وائی ‘کا نام بدلنے کے بعد اس سکیم کے تحت مالی سال 2014-15 اور 2015.16کے کیسوں کی دوسری اور تیسری قسط کے ابھی تک 12ہزار 2سو86کیس التو میں پڑے ہیں اوراس طرح اس سکیم کی 37کروڑ 84لاکھ رقم واجب الاداہے۔یاد رہے کہ بی جے پی کی مرکزی سرکار نے سال-17 2016میں اندرا آواس یوجنا (آئی اے وائی) سکیم کو پردھان منتری آواس یوجنا ، گرامین کے تحت نام تبدیل کیا اور یہ فیصلہ کرتے ہی ایسے کنبے آئی اے وائی سکیم کے تحت دوسری اور تیسری قسط سے محروم ہو گئے جنہیں مکان بنانے کیلئے پہلی قسط فراہم کی گئی تھی۔ایسے مستحقین کا کہنا ہے کہ سرکار نے انہیں مکان تعمیر کرنے کیلئے پہلی قسط کے بطور رقم دی تھی جبکہ دوسری اور تیسری قسط تاحال منظور نہیں کی گئی ہے اور مکانوں کی تعمیر بھی مکمل نہیں ہو سکی ہے جبکہ کئی ایک کنبوں نے بنکوں سے قرض یا پھر اپنے مال مویشیوں کو بیچ کر مکانات تعمیر کئے ہیں جو اس انتظار میں ہیں کہ انہیں پیسہ ملے اور وہ مکان کا قرضہ اتارسکیں۔ذرائع نے بتایا کہ مالی سال 2014-15 میں کشمیر وادی کیلئے آئی اے وائی سکیم کے تحت کل8115 کیس اور سال2015-16کیلئے 5100کیس منظور ہوئے تھے جن میں سے دوسری اور تیسری قسط کے تحت سال 2014-15میں 2792اور سال2015-16میں 4014کیس التو میں پڑے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کیسوں کے نپٹار ے کیلئے سرکار کے پاس فنڈس ہی دستیاب نہیں ہیں۔ محکمہ دیہی ترقی کے ڈائریکٹر طارق احمد زرگر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جموں وکشمیر حکام نے یہ معاملہ پہلے ہی مرکزی سرکار کے ساتھ اٹھایا ہے اور مرکزی سرکار نے اس حوالے سے کچھ اضافی رپورٹ مانگی تھی جو ہم نے بھیجی ہے اور ابھی کچھ اور اضافی رپورٹ، جن میں مکانوں کی تصاویر اود دیگر لوازمات شامل ہیں، مانگے جا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کئی ایک اضلاع سے ہمارے پاس تفصیلات پہنچ گئی ہیں، جیسے ہی یہ مکمل طور پرپہنچ جائیں گی تو مرکزی سرکار کو تفصیلات بھیج دی جائیں گی ۔